نئی دہلی:2نومبر(پریس ریلیز)اسلامی تارےخ میں ہر مہینے کی الگ خصوصےات ہیں ماہ صفرکی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ سات صفر کو سلسلة الذہب کی ساتویں کڑی حضرت امام موسی کاظم کی ولادت ہوئی،اور 28صفر کو سبط مصطفی پانچویں اور آخری خلیفہءراشد حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت ہوئی،ان خےالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسکالر مولانا مختار اشرف نے قرول باغ کی لال مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کیا،مولانا نے کہا کہ امام حسن کی پیدائش دختر مصطفی کے گھر میں پہلی خوشی تھی جس کا جشن خود حضور علیہ الصلاة والسلام نے اس انداز سے مناےا کہ لوگوں کی دعوت کی،منشاءربانی سے نام حسن رکھااماحسن کی پہلی خوراک لعاب دہن مصطفی بنی،مولانا نے کہا کہ امام حسن کے بچپن میں ہی حضور نے صحابہ سے فرما ےا تھا کہ یہ میرا بےٹا سےد ہے اللہ رب العزت اس کے ذرےعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمےان صلح کرائے گاتارےخ نے دےکھا کہ خلفاءاربعہ کی طرز پر لوگوں نے اپنا خلیفہ حضرت امام حسن چنا،رسول پاک کے عین فرمان کے مطابق خلافت راشدہ کے تےس سال حضرت امام حسن کی خلافت پر مکمل ہوئے اور ملوکیت کا آغاز ہو قرےب تھا کہ خلافت و ملوکےت میں کشت و خونریزی ہوجاتی،نانا کے دیے ہوئے حلم کے ذرےعہ حضرت امام حسن نے صلح کرکے امت کوآپسی قتل و غارت گری سے بچا کر امت مسلمہ پر احسان فرماےااور کائنات انسانی کو یہ پیغام دیا کہ امن کی بحالی کے لئے اپنا اقتدار جائداد قربان کرنا پڑے تو کردےنا چاہئے مولانانے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بلا تفرےق مذہب و ملت امام حسن کی شخصےت و تعلیمات کو لوگوں تک پہنچائیں تاکہ سےاسی مفاد پرست بھی ان کی سےرت سے روشنی لیکرملک اورقوم کی حفاظت کا کام انجام دے سکیں۔