شہریت قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران تشدد، توڑپھوڑ، آتشزنی، پتھرائو، جھڑپیں منگلورو اورلکھنو میں تین مظاہرین جاں بحق

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبا کے خلاف پولس بربریت کی مذمت، یوگیندر یادو، رام چندر گوہا، سندیپ دکشت اور عمر خالد کی گرفتاریوں سے احتجاج میں شدت، یوپی، بہار، اور گجرات میں تشدد، پٹنہ او ربکسر میں ٹرینیں روکی گئیں، جامعہ میں احتجاج جاری

نئی دہلی؍ لکھنو؍ پٹنہ؍ بنگلورو؍ حیدرآباد؍ لکھنو؍ گوہاٹی؍ کولکاتہ ۔۱۹؍دسمبر: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ملک گیر مظاہرہ آج اس وقت پرتشدد تحریک میں تبدیل ہوگیا جب تین مظاہرین اس میں جاں بحق ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق منگلورو میں دو اور لکھنو میں ایک مسلم نوجوان کی وفات ہوگئی ہے۔ لکھنو میں تشدد پر قابو پانے کےلیے پولس نے کارروائی کی جس میں محمد وکیل نامی شخص جاں بحق ہوگیا، ابھی تک پولس نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ موت فائرنگ سے ہوئی ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ وکیل کو پیٹ میں گولی لگی تھی، لکھنو ٹراما سینٹر لے جاتے ہوئے ان کی موت ہوگئی۔ وہیں منگلورو میں جلیل اور نوشین نامی نوجوان کی وفات کے بعد آج جمعہ کو اسکول او رکالج بند کردئیے گئے ہیں، منگلور پولس کمشنر ڈاکٹر ہرشا نے موت کی تصدیق کی ہے۔ پولس کمشنرنے کہاکہ مظاہرین نے پولس تھانے پر حملہ کرکے آگ لگا دی تھی، اخیر میں پولس کو کارروائی کرنی پڑی ۔دریں اثناء آج دہلی میں لیفٹ پارٹیوں کے احتجاج کے بعد حالات بگڑ گئے ہیں،

انتظامیہ کو کچھ وقفے کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کرنی پڑی۔ ۳۰؍ سے زیادہ میٹرواسٹیشن بند رہے، پچاس سے زیادہ سڑکیں بلاک اور سو سے زائد راستوں کے روٹ تبدیل کیے گئے۔ دہلی کے علاوہ ممبئی، بہار، اترپردیش، آسام، مغربی بنگال، حیدرآباد، بنگلورو میں بھی زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔

پولس نے کئی جگہوں سے مشہور سماجی اور سینئر لیڈران کو گرفتار بھی کیا ہے ۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران بنگلورو میں مشہور مورخ رام چندر گوہا، دہلی میں کانگریسی لیڈر سندیپ دکشت، طلبا لیڈر عمر خالد، ڈاکٹر تسلیم رحمانی، یونائٹیڈ اگیسنٹ ہیٹ کے ندیم خان، سماجی کارکن یوگیندر یادو، تحسین پونا والا، اور سی پی آئی لیڈر سیتا رام یچوری سمیت پوری دہلی سے پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔ آئین مخالف قانون کے خلاف راجدھانی دہلی کے لال قلعہ، منڈی ہائوس جامعہ علاقے میں زبردست احتجاج ہوا ، وہیں بھوپال، بنگلورو، حیدرآباد، چنئی، ممبئی ، احمد آباد اور جموں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ دیگر ریاستوں میں بہار کی راجدھانی پٹنہ، دربھنگہ، اتردیش کی راجدھانی لکھنو اور سنبھل اضلاع شامل ہیں، حیدرآباد، کرناٹک میں بھی زبردست احتجاج ہوا۔ گلبرگہ میں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہونے کے باوجود پچاس ہزار کے قریب عوام سڑکو ںپر اتر آئے، وہیں بنگلورومیں بھی یہی صورت حال رہی۔واضح رہے کہ بائیں بازو کی جماعتوں اورسماجی تنظیموں نے شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کے لیے جمعرات کو ملک گیر بندکااعلان کیاتھا۔ جس کی وجہ سے پورے ملک میں متنازعہ قانون کے خلاف ایک لہردوڑگئی ۔مظاہرے اور تشدد کے واقعات تقریباََسبھی ریاستوں میں پیش آئے۔۶ریاستوں میں جہاں احتجاج ہوا ہے ، وہاں بی جے پی اقتدار میں ہے۔ بیشترجگہوں پردفعہ ۱۴۴ نفاذکے باوجودجم کرمظاہرے ہوئے ۔ممبئی، بنگلورو، پٹنہ، لکھنو، دہلی، کولکاتہ، حیدرآباد، احمدآبادسمیت اہم شہروں میں پورانظام درہم برہم ہوگیا،بہارکے مختلف اضلاع میں ٹرینیں روکی گئیں۔امارت شرعیہ سمیت اہم تنظیموں نے بھرپورساتھ دیاہے۔اہم شہروں میںٹریفک کاتوبراحال رہاہی،دہلی میں پروازیں منسوخ ہوئیں،انٹرنیٹ،ایس ایم ایس اورفون کال بندکرناپڑا،لکھنوکے بائیس اوردہلی کے تیس میٹرواسٹیشن بندکیے گئے ۔

اس دوران مظاہرین کاایک ہی مطالبہ ہے کہ اس غیرآئینی قانون کوواپس لیاجائے۔گرچہ حکومت دلاسے دے رہی ہے اورمتضادبیانات بھی آرہے ہیں لیکن اصل سوال کاجواب دینے کے لیے کوئی تیارنہیں ہے۔ اترپردیش کے سنبھل میں مظاہرین نے بس کو نذر آتش کردیا۔لکھنؤ میں ، ہجوم نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ملازمین دہلی-گڑگاؤں ایکسپریس وے پرجام کی وجہ سے پھنس گئے ، انڈیگو کو دہلی سے ۱۹؍پروازیں منسوخ کرنے پر مجبور کردیاگیا۔ 16 پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ مرکزی وزارت داخلہ شہریت کے قانون کی مخالفت کے معاملے پر ملک بھر میں ایک اجلاس کرے گی۔ اسی دوران ، کانگریس کی کورکمیٹی کا اجلاس اس معاملے پر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر ہواہے۔کولکاتہ میں اسی جلسے میں ، مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے کہاہے کہ اقوام متحدہ یا نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن جیسی منصفانہ تنظیموں کو یہ جاننے کے لیے کہ کتنے لوگ اس کی حمایت میں ہیں اور یہ جاننے کے لیے کہ شہریت ترمیمی قانون کے معاملے پر رائے شماری کرنی چاہیے اوراس کے خلاف کتنے ہیں۔دہلی میں ۳۰ میٹرو اسٹیشن بند کرنے پڑے،جگہ جگہ سخت جام کاسامناکرناپڑاہے۔ جامعہ کیمپس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج ساتویں دن بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور گردو نواح میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف زبردست احتجاج جاری رہا، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ آج کے اس احتجاج میں جامعہ کے طلبا ء کے ساتھ بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں، دیر شام تک خواتین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولس تشدد اور طلبا کی حمایت میں قندیل مارچ نکالا، آج کے اس احتجاج میں طلبا برادری نے بھی بڑی تعداد شرکت کی جس میں لڑکیوں کی تعداد بھی کافی تھی۔ آج سکھ برادری کی جانب سے کھانے پینے کا بھی نظم کیاگیا تھا، جبکہ دیگر سماجی تنظیموں اور اوکھلا کے مقامی باشندوں کی جانب سے چائے ، پانی، ناشتہ ، کھانا وغیرہ کا بھی نظم تھا۔ طلبا کا یہ احتجاج پرامن تھا گیٹ نمبر ۷ اور ۸ کے آس پاس طلباء رسیوں دائرہ بناکر ایک طرف احتجاج کررہے تھے جبکہ دوسری طرف سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت می ںکوئی دشواری نہ اس کےلیے رضاکارانہ طو رپر جامعہ کے طلبا سفید ٹوپی پہن کر پورے احتجاج کو منظم طریقے سنبھالتے ہوئے دیکھے گئے۔ ادھر دوسری جانب ہائی کورٹ میں آج پولس تشدد کے خلاف دائر عرضی پر شنوائی ہوئی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وکیلوں نے شواہدات پیش کیے ساتھ ہی کورٹ کو بتایا کہ کس طرح سے پولس بغیر انتظامیہ کی اجازت کے کیمپس میں داخل ہوئی اور طلبا کو مارا پیٹا ، بائیک اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی ، لائبریری میں پڑھ رہے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا، مسجدوں میں نمازیوں کو بھی زدوکوب کیا، ان تمام کی شنوائی کے بعد ہائی کورٹ نے دہلی پولس سے جلد از جلد جواب داخل کرنے کےلیے کہا ہے۔ اور ابھی شنوائی کی تاریخ ۶؍فروری متعین کی ہے۔ آج جامعہ ملیہ انتظامیہ نے پریس ریلیز جاری کرکے وضاحت کی کہ ’’کیمپس میں پولیس کارروائی سے متاثرجامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کی مدد کے لئے رضاکارانہ عطیات / شراکت کے لئے کچھ لوگوں کی طرف سے اپیل کا نوٹ لیتے ہوئے، یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ اس نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے چندہ اکٹھا کرنے کے لئے کسی بھی تنظیم کی کسی بھی کوشش کی یونیورسٹی حوصلہ شکنی کرتی ہے کیونکہ اس کے پاس طلبہ کو تمام طبی امداد فراہم کرنے کے لئے وسائل موجود ہیں‘‘۔

وہیں سی پی آئی-ایم کارکنوں نے بہار کے پٹنہ،دربھنگہ سمیت کچھ شہروں میں ریلوے پٹریوں کو روک دیا۔ کانگریس لیڈر سندیپ ڈکشٹ سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا،جنہوں نے دفعہ 144 کے باوجود دہلی میں مظاہرہ کیا۔ ۳۰میٹرو اسٹیشنوں کو بند کرنا پڑا۔ بنگلورو میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس نے مورخ رام چندر گوہا کو تحویل میں لیا۔ 50 افراد کو تلنگانہ کے حیدرآباد میں بھی حراست میں لیا گیا۔کولکاتہ میں ریلی کے دوران ، وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ریلی میں کہا ہے کہ بی جے پی کا قیام 1980 میں ہوا تھا۔ آج وہ ہم سے 1970 کی شہریت کے دستاویزات مانگ رہی ہے۔سنبھل میں مظاہرین نے ایک بس کو نذر آتش کردیا۔ لکھنؤ کے ٹھاکر گنج اورحسن گنج میں 6 مقامات پر تشدد ہوا۔ لکھنؤ میں مدھی گنج چوکی کے قریب تین بائیکیں جل گئیں۔ شرپسندوں نے فائرنگ کردی جس کے بعد پولیس کو ہوائی فائرنگ کرنا پڑی۔ٹھاکر گنج کی ستھکھنڈا چوکی جلا دی گئی۔ اور پریس کلب کے قریب آتش زنی کی۔ ایک ٹی وی چینل کی او بی وین کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ لکھنؤ کے 22 میٹرو اسٹیشن بند کردیئے گئے۔ہزاروں افراد حضرت گنج مین مین چوراہے سے پرانے لکھنؤتک سڑکوں پر اترے۔ پولیس کو شرپسندوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑی۔پولیس نے کانگریس کے ریاستی صدراجے کمار لالو اور ایس پی کے یوتھ ونگ کے متعدد رہنماؤں سمیت 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔سیکیورٹی کے پیش نظر ، تمام اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ احتیاط کے طور پر 3 ہزار افراد پر پابندی ہے۔ 65 افراد کو گرفتار کیاگیا۔لال قلعے کے آس پاس سیکشن 144 نافذ ہونے کے بعد بھی مظاہرین کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی۔وسطی اور شمالی اضلاع کے علاوہ منڈی ہاؤس ، سلیم پورجعفرآباد ، مصطفی آباد ، جامعہ نگر اور بوانا کے علاقوں میں صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک انٹرنیٹ بند رہا۔ جامعہ اور سلیم پور میں پرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس نے حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کیا۔وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہاہے کہ اس وقت ملک میں امن وامان کی صورتحال منہدم ہوگئی ہے۔ میں مرکز سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ شہریت کا قانون واپس لیں اورنوجوانوں کو ملازمت دیں۔شہریت کے قانون کے خلاف ریاست کے کئی شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ سی پی آئی(ایم) کے کارکنوں نے پٹنہ ، دربھنگہ اورکھگڑیامیں ٹرینیں روکیں۔ جہان آباد میں قومی شاہراہ 10 اور این ایچ 83 نے بلاک کردیا۔ اس بند کو کانگریس ، آر ایل ایس پی اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔کلبرگی میں ، بائیں اورمسلم تنظیموں نے سیاہ پرچموں سے مظاہرہ کیا۔ پولیس نے 20 افراد کو حراست میں لیا۔ بنگلورو ، کلبرگی ، جنوبی کنڑا اور اس سے ملحقہ اضلاع میں آئندہ تین دن (21 دسمبر کی رات تک) دفعہ 144 نافذ رہے گی۔ وزیراعلیٰ بی ایس یدیورپا نے کہا ہے کہ احتجاج اوربندکے پیچھے کانگریس کا ہاتھ ہے۔احمد آباد کے علاقے سردرباغ میں پولیس کو شرپسندوں پر لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ سہ پہرکے وقت ، ہجوم نے مرزا پور کے علاقے میں پتھراؤ کیا۔ شام کے وقت ، شاہ عالم کے علاقے میں پتھراؤ کے نتیجے میں 20 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔وہیں ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں بھی زبردست زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں لاکھوں کی تعداد میں ہندومسلم ایک ساتھ ملک اور آئین ودستور کی حفاظت کےلیے شریک ہوئے اور مودی شاہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔

وہیں مالیگاؤں ، ناسک ، جلگاؤں اور منماڑ اور امراوتی میں بھی بندرہاہے۔مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ہزاروں کی تعداد میں مسلم طبقےکے لوگ اورکالج کے طلبا وطالبات سڑکوں پر اترے۔ مظاہرین نے قانون کوواپس لینےکا مطالبہ کیا۔ طلباء وطالبات کا کہنا تھا کہ وہ دہلی واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کی حمایت میں سڑک پراترے ہیں، جب تک اس قانون کوواپس نہیں لیا جائےگا، تب تک ہمارا احتجاجی مظاہرہ جاری رہےگا۔ بھوپال کےاقبال میدان میں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئےلوگوں نےقانون کی مخالفت میں پرامن طریقے سےاحتجاج کیا۔حیدرآباد میں ریلی میں شرکت کیلئے جانے والوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔نامپلی نمائش میدان سے باغ عامہ تک ریلی نکالنے کی بائیں بازو کی جماعتوں نے اپیل کی تھی جس پر نامپلی کے قریب پولیس کو بڑے پیمانہ پر تعینات کردیاگیا۔پولیس نے اس ریلی میں حصہ لینے کے لئے آنے والوں بشمول برقعہ پوش مسلم لڑکیوں اور خواتین کو بھی حراست میں لے لیا۔سابق رکن پارلیمنٹ و سی پی آئی رہنما عزیر پاشاہ سمیت طلبہ،نوجوانوں اور طلبہ تنظیموں کے لیڈروں کو بھی حراست میں لے لیا۔

کلکتہ میں فلمی دنیا اور فن و ثقافت سے وابستہ کئی اہم شخصیات سڑک پر اتر شہری ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کی قیادت کی۔ڈائریکٹر اور اداکار اپرنا سین اور پلے رائٹر کوشک سین مظاہرین کے اگلے صف میں تھیں۔کسی بھی سیاسی جماعت کے بینر کے بغیر بڑی تعداد میں لوگ اس مہم میں شامل تھے۔اس میں کلکتہ یونیورسٹی سمیت کئی اہم یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلباء نے بھی اس جلوس میں شرکت کی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading