لاتور(محمدمسلم کبیر) لاتور شہر میں گذشتہ دس برسوں سے”مسلم شادی خانے” کی تعمیر پر سیاست جاری ہے. کانگریس بے ایم ایل اے امیت ولاس راؤ دیشمکھ ہر اسمبلی انتخابات کے اوائل چند مہینوں میں مسلم شادی خانے کی تعمیر کا ڈنکا بجاتے ہیں اور بعد انتخابات وعدہ وفا نہیں کرتے بلکہ اس ضمن میں بات بھی نہیں کرتے اگر ہمت کرکے کسی نے ان سے اس ضمن میں استفسار بھی کیا تو شادی خانے کی اراضی اور تعمیر میں قانونی رکاوٹوں اور مختلف وجوہات کا حوالہ دیکر بات ٹال دیتے ہیں.
یہی حالت اقلیتی ہاسٹلس کی ہے جو کئی برسوں سے زیرالتوی ہیں.اب تو بی جے پی کے قائدین نے اعلان کیا ہے کہ مسلم شادی خانے کی تعمیر کے لئے حکومت مہاراشٹر نے کروڑہا روپئے مختص کئے ہیں اور لاتور شہر میں بہت جلد شادی خانہ تعمیر ہوگا.لیکن اس اعلان کو بھی اب تین ماہ کا عرصہ گذر گیا نہ شادی خانہ بنا نہ کسی مسلم کی شادی وہاں ہوئی. کانگریس اور بی جے پی کے جھوٹے وعدوں سے تنگ آ کر لاتور میں شہید ٹیپو سلطان بریگیڈ کی جانب سے”تھالی بجاؤ احتجاج”کیا گیااور ایک محضر کارپوریشن کے کمشنر کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ شادی خانے کی تعمیر کے لئے برسر اقتدار پارٹی اور کانگریس قائدین مسلمانوں کا استحصال بند کریں.آج معمولی شادی خانے کا کرایا بیس ہزار سے پچیس ہزار روپئے ہے غریب اور متوسط خاندان والے اس رقم کی ادائیگی سے قاصر ہیں. لیکن انتظامیہ،بی جے پی اور کانگریس کے قائدین اس مسئلے کو محض انتخابات کے اوائل میں ہی مسلم بستیوں میں پیش کرکے وؤٹ بٹورنے کا کام کرتے ہیں. شادی خانے کےسلئے اراضی،اس کی تعمیر کے لئے رقم،کنٹراکٹ دینے میں تاخیر،جیسے مختلف وجوہات پیش کرکے مسلمانوں کے ساتھ بھونڈہ مذاق کررہے ہیں. اسی طرح لاتور شہر میں مسلمانوں کی آبادی میں پہلے کی بہ نسبت کافی اضافہ ہوا ہے. قبرستانوں کی اراضی ناکافی ہے اس جانب تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور انتظامیہ کی توجہ مبذول کرائی جاتی ہے اس وقت شہر سے قریب کسی زمیندار سے زمین خریدنے کا تیقن دیا جاتا ہے اور بعد میں یکسر بھلایا جاتا رہا ہے.
ان تمام مطالبات کی جانب تمام پارٹیوں کے قائدین، میونسپل کارپوریشن اور ضلع کلکٹر کی توجہ مبذول کروانے کی غرض سے علامتی طور پر منفرد انداز میں”شیہد ٹیپو سلطان بریگیڈ ضلع لاتور کی جانب سے صدر محسن خان پٹھان کی قیادت میں”تھالی بجاؤ احتجاج”کیا گیا.
اس احتجاج میں بریگیڈ کے ضلع صدر توفیق مجاور، شہر صدر فیروز بھائ، لیبر لیڈر سید غوث،سوابھیمانی مسلم وکاس پریشد کے شادول شیخ،انور باغبان،اختیار بھائی،اظہرالدین شیخ،شیخ زبیر، معین بھائی،اسلم پٹھان اور دیگر کارکنان کثیر تعداد میں شریک رہے.لاتور میونسپل کارپوریشن کمشنر کو ایک یادداشت پیش کرکے انتباہ کیا کہ اگر بروقت ان مطالبات کی یکسوئی نہ کی گئی تو احاطہ کارپوریشن میں تدفین کرنے کےلئے افیڈویٹ کرکے احتجاج کیا جائے گا. یہ بات محسن خان نے کمشنر کے روبرو کہی.