دہلی کے جعفر آباد میٹرو اسٹیشن پر شہریت ترمیمی قانون، این پی آر اور این آر سی کے خلاف خواتین کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ بڑی تعداد میں خواتین احتجاجی مظاہرہ میں شامل ہیں۔ سی اے اے کو لے کر موج پور میں اتوار کو دو گروپوں میں تصادم کے بعد آج علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی گئی ہے۔
سی اے اے کے خلاف جعفر آباد میٹرو اسٹیشن پر جاری احتجاجی مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے آج بھی جعفر آباد، موج پور-بابر پور میٹرو اسٹیشنوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ دہلی میٹرو کے مطابق ان میٹرو اسٹیشنوں پر مسافروں کی آمد و رفت بند کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ان میٹرو اسٹیشنوں پر ٹرین بھی نہیں رکے گی۔
Delhi Metro Rail Corporation: Entry and exit of Jaffrabad and Maujpur-Babarpur are closed. Trains will not be halting at these stations. pic.twitter.com/le2EaXcj4p
— ANI (@ANI) February 24, 2020
دوسری طرف سی اے اے مخالف مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے ٹریفک پولس نے بھی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ دہلی ٹریفک پولس کے مطابق سیلم پور سے موج پور اور موج پور سے سیلم پور ٹرانسپورٹیشن بند ہے۔
दिल्ली ट्रैफिक पुलिस: सीलमपुर से मौजपुर (दोनों कैरिज वे) यातायात की आवाजाही के लिए बंद हैं। pic.twitter.com/DTStF5YV9D
— ANI_HindiNews (@AHindinews) February 24, 2020
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کو لے کر موج پور میں اتوار کو دو گروپوں میں تصادم ہوا تھا۔ اس دوران کچھ لوگوں نے پتھراؤ کر دیا تھا۔ پولس نے پہلے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن جب معاملہ بے قابو ہو گیا تو آنسو گیس کے گولے چھوڑ کر ہنگامہ کر رہے لوگوں کو بھگانے کی کوشش کی گئی۔
الزام عائد کیا گیا ہے کہ بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے علاقے میں کشیدگی بڑھانے کا کام کیا ہے۔ جعفر آباد میں مظاہرہ کے درمیان بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے ٹوئٹ کر اپنے حامیوں کو جعفر آباد مظاہرہ کے خلاف موج پور میں بلایا تھا۔ سی اے اے کے خلاف جعفر آباد میٹرو اسٹیشن پر خواتین نے ہفتہ کی دیر شب کو مظاہرہ شروع کیاتھا۔ اسی مظاہرہ کے خلاف کپل مشرا نے اپنے حامیوں کو بلایا تھا، جس کے بعد موقع پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو