سیلاب تو تھم گیا، لیکن نہیں تھم رہے آنسو! ملبے میں پڑی مسخ شدہ لاشوں میں اپنوں کی تلاش جاری

نیپال میں سیلاب کی تباہی کے بعد اب اپنوں کو کھو چکے خاندانوں کا درد سامنے آ رہا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں اپنے بیٹے کی تصویر ہے تو کسی کے پاس بھائی کی تصویر اور کوئی اسپتالوں میں اپنے رشتہ دار کا نام تلاش رہا ہے۔ کاٹھمنڈو کے اسپتالوں اور مردہ خانوں کے باہر لوگوں کا ہجوم ہے۔ کاٹھمنڈو کے اسپتالوں کے باہر لاپتہ لوگوں کے پوسٹر لگائے جا رہے ہیں۔ پولیس اہلکار نام درج کر رہے ہیں۔ اہل خانہ بار بار لسٹ دیکھ رہے ہیں اور ہر چہرہ صرف ایک خبر کا انتظار کر رہا ہے کہ ان کا اپنا زندہ ہے یا نہیں؟

چانک سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس میں سینکڑوں لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ موت کے اعداد و شمار سے بھی بڑا درد ان خاندانوں کا ہے جنہیں اب تک یہ نہیں معلوم کہ ان کے اپنے کہاں ہیں۔ انہیں میں ایک مندرا کافلے کے رشتے دار بھی لاپتہ ہیں۔ ان کی آخری بار بات سیلاب والے دن ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے فون خاموش ہے اور اہل خانہ انتظار میں ہیں۔ ’اے بی پی نیوز‘ کے رپورٹ نیپال کے تریبھون یونیورسٹی ٹیچنگ اسپتال پہنچے۔ یہاں اپنے بھائی کی تلاش میں پہنچے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک ویڈیو ہے، جس میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ فوج کے جوان نے اس کو بچایا ہے لیکن وہ کہاں ہیں یہ پتہ نہیں۔

’اے بی پی نیوز‘ کے رپوٹر احمد بلال نیپال کے گلچھی علاقہ پہنچے، جہاں ملبے سے لاشوں کو تلاش کرنے کا کام جاری ہے لیکن یہاں کام کر رہے لوگ بدبو کی وجہ سے پریشان ہیں۔ سیلاب کے بعد نیپال کے لوگوں کے لیے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ملبے میں دبی لاشوں سے بدبو آنی شروع ہو گئی ہے۔ گلچھی علاقے میں ملازمین پھاؤڑے کی مدد سے ملبے کے اندر لاشیں تلاش کر رہے ہیں، جبکہ مقامی لوگ منہ پر کپڑا باندھے ہوئے ہیں کیونکہ لاشوں سے اٹھنے والی بدبو ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اوپر سے آنے والے ملبے کے ساتھ یہ لاشیں بہہ کر آئی ہیں اور یہاں ملبے میں دبی پڑی ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading