نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد حالات اب بھی انتہائی سنگین ہیں۔ بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں میں آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق 108 بھارتی شہریوں کو اب تک بحفاظت نکالا جا چکا ہے، تاہم 275 سے زائد بھارتی شہریوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق لاپتہ بھارتی شہریوں میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو کیلاش مانسروور یاترا کے لیے نیپال پہنچے تھے۔ سیلاب اور مٹی کے تودوں کے باعث کئی علاقوں میں سڑکیں، پل اور مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوئے ہیں، جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بھارتی حکومت نے نیپال میں امدادی اور ریسکیو سرگرمیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ بھارت کی خصوصی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر تلاش کا کام انجام دے رہی ہیں، جبکہ لاشوں کی شناخت کے لیے فارنسک ماہرین کی ٹیمیں بھی روانہ کی گئی ہیں۔ بعض متاثرہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں بھی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں، جہاں امدادی ٹیمیں مسلسل سرچ آپریشن چلا رہی ہیں۔
نیپال میں مجموعی طور پر تباہی کی شدت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی ہے اور ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ خراب موسم اور دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مزید خطرات کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش، متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور لاشوں کی شناخت کا عمل مسلسل جاری ہے۔ بھارتی حکومت بھی نیپالی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور لاپتہ بھارتی شہریوں کے اہلِ خانہ کو معلومات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔