فیروزہ تسبیح
آج بہت کم لوگ ہیں جو کسی تحریر کو پڑھتے بھی ہیں اور لوگوں کو پڑھنے کی صلاح بھی دیتے ہیں پر افسوس یہ ہے کہ آج زیادہ تر لوگ نا تحریر کو پڑھتے ہیں نا لوگوں کو پڑھنے دیتے ہیں، گروپس میں مضمون شیر کرنے پر اسے نظر انداز کر کے اپنی کاپی پیسٹ پوسٹ شیر کی جاتی ہے یعنی محنت سے لکھی گئی تحریر کو پل بھر میں بے دردی سے دور کر دیا جاتا ہے. دوسری بات بنا پڑھے ہی کسی بھی تحریر پر 👌🏾👍🏾 یہ نشانات دیئے جاتے ہیں مقصد قلم کار کو خوش کرنا ہوتا ہے، پر ان نشانات سے قلم کار کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ جن کے مضامین دل سے اور قوم و ملت کی فکر میں لکھے ہوتے ہیں وہ ایسے نشانات سے یہ سوچ کر اداسی محسوس کرتے ہیں کہ قاری نے گر مضمون پڑھا ہی نہیں تو میرا اپنا اصلاح کا مقصد کیسے پورا ہوگا، اور دوسرے وہ قلم کار جو کچھ ایسا لکھ جاتے ہیں جن میں دینی ادبی غلطیاں اور من گھڑت اسلامی نکات پیش کئے جاتے ہیں، اس شوشیل میڈیا کے زمانے میں یہاں وہاں سے چربہ اکٹھا کر کے مضمون بنا کر اپنے نام سے شائع کیا جاتا ہے ایسے لو گوں کے مضمون کو بنا پڑھے اس طرح کے 👍🏾 نشانات سے انہیں قارئین کی جانب سے حوصلہ افزائی ملتی ہیں، اور وہ اور بھی دھڑلے سے اپنے غلط کاموں کو جاری رکھتے ہیں.
غور کرے کے پہلے اخبار میں سیلیکٹیڈ مضامین شائع ہوا کرتے تھے پر آج اخبار کا یہ حال ہے کہ کئ مضامین پڑھتے وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ شائع کرنے والے نے اس مضمون کو پڑھنے تک کی زحمت نہیں کی ہے، بس دیکھا اور احبار کے پاکیزہ سینے پر لاد دیا، بہت ہی افسوس ہوتا ہے بہت زیادہ، کئی نا مور اخباروں میں تو کتی مضامین ایسے نظروں سے گزرتے ہے جن میں شروعات سے آخر تک ہم صرف تحریر کا مقصد ہی تلاش کرتے رہ جاتے ہیں پر مقصد کہی ملتا ہی نہیں، کئی ما یہ ناز اور مشہور اخبارات میں آج مضمون ایسے معیاد کے پڑھنے کو ملتے ہیں جنہیں پڑھتے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم کسی مشہور و معروف اور اردو کی صحیح قدر اور خد مات کرنے والے اخبار کو پڑھ رہے ہیں بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی اسکولی بچے کا کسی موضوع کو لے کر لکھا مضمون پڑھ رہے ہیں جس میں مضمون کے عنوان کو بار بار دہرایا جاتا ہے. آج قلم کا سر قہ بھی ان ہی لا پرواہی کا نتیجہ ہے،
کل ملا کر شوشیل میڈیا کا کابی پیسٹ ماحول آج اردو کے ساتھ بہت نا انصا فی کئے ہوئے ہیں.
ہم کو چاہیے کہ ہم پہلے کی طرح کم پڑھے پر دل اور دماغ سے اور پوری توجہ سے پڑھے، ہمارے نبی نے اسی لئے کہا ہے کہ کھانا بھی بھوک سے ایک نوالہ کم کھایا جائے اور یہ ہی بات آج میڈیکل سائنس بھی کہتی ہے تاکہ صحت اچھی بنی رہے، یہ ہی توجہ زندگی کے ہر معاملات میں رکھنی ضروری ہے.