کسی بھی سماج اور ملک کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اس سماج اور ملک میں رہنے والے لوگوں کے درمیان امن اور بھائی چارہ ہو ۔ جھوٹی خبریں پھیلانے کی وجہ سے کئی مرتبہ دو گروپ میں تصادم ہونا ایک عام بات ہے۔ جھوٹی خبروں کے نقصانات محض تصادم تک ہی محدود نہیں ہے ہے بلکہ کہ یہ جمہوریت ،بازار ، اور بہت ساری چیزوں میں نظر آتے ہیں۔ کیمبرج اینالیٹیکا کا جیسے کیس سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ کسی ملک کی جمہوریت اور اس میں ہونے والے انتخابات کو کسی بھی سازش کے تحت اس میں کس طرح رد و بدل کیا جا سکتا ہے یہ مسئلہ تقریبا تقریبا دنیا کے ہر ملک کا سر درد بن چکا ہے۔
ایک سروے کے مطابق کسی بھی جھوٹی خبر کا سوشل میڈیا پر پھیلاؤ، سچی خبر کے مقابلے میں میں ستر 70 فیصدی زیادہ ہوتا ہے۔
اگر ہم ہمارے ملک ہندوستان کی بات کریں تو یہاں تقریبا 55 کروڑ سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں اس میں تمام سوشل نیٹ ورک جیسے واٹس ایپ، فیس بک ،یوٹیوب، اور بہت سارے پلیٹ فارم ہیں جن پر سے جھوٹی گمراہ کن اور نفرت انگیز خبریں پھیلائی جاتی ہیں اور وہ جھوٹی خبریں خاص ایک طبقے کو لے کر اور اس میں بھی خاص مسلمانوں کو لے کر نشانہ بنا کر پھیلائی جاتی ہیں۔ اکثر ، یہی ہوتا ہے کے سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی فائدے کے لیے ان خبروں کو دھڑلے سے چلاتے ہیں۔ اور اگر دیکھا جائے تو اس مسئلے نے ہندوستان کو ہی نہیں ، بلکہ امریکہ جیسی بڑی جمہوریت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ جہاں پر عام انتخابات میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی مدد سے لوگوں کو اپنی رائے کو ، ایک سازش کے تحت تبدیل کرنے کے لئے باور کروایا گیا تھا۔
یہ جو فیک نیوز کا اثر ہے وہ صرف سماج ملک ماحول تک ہیں سمٹا ہوا نہیں ہے، بلکہ کہ جمہوریت کو بھی بہت نقصان پہنچا چکا ہے۔ کیونکہ اگر کوئی جھوٹی خبریں پھیلا کر اقتدار میں آ جاتا ہے، چونکہ اس نے ترقی کے بل بوتے پر نہیں بلکہ جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اقتدار میں آیا ہے ۔ سیاسی جماعتیں ان جھوٹی خبروں کو لوگوں میں پھیلا دیتی ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہیں کہ بہت زیادہ ترقیاتی کام ہوئے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں ۔
آج کل کل چھوٹی خبروں کا اثر شیر مارکیٹ، پر بھی ہونے لگا ہے اور اس ایسی خبروں کا کا شیر مارکیٹ پر خاصا اثر ہوتا ہے مثلا اگر کسی کمپنی کے شیئرز کی قیمت گھٹانہ ہو یا بڑھانا ہو تو اس کے بارے میں افواہوں کا بازار گرم کر دو، اور کام اپنے آپ ہو جائے گا۔اس مسئلے میں حکومت کچھ بھی سنجیدہ نظر نہیں آتی آئے گی بھی کیوں، کیونکہ خود حکومت کا اس کے پیچھے ذاتی مفاد چھپا ہوا ہے ۔ فیس بک پر جھوٹی خبریں پھیلانا نا کسی پر گالی گلوچ کرنا کسی کی رائے کے خلاف سخت الفاظ کا بیجا استعمال کرنا لوگو ں میں ایک منتخب رائے کو عام کرنا اور اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا فیسبک،ٹوئٹر، واٹس ایپ، پر فیک آئی ڈی بنا بنا کر فوٹو شاپ تصویر بنانا ان سب چیزوں کے کے لیے بڑا آئی ٹی ایک بڑی سطح پر کام کر رہا ہوتا ہے۔
جھوٹی خبریں پھیلائی جائیں اور دنگا فساد نہ ہو، یہ تو مشکل ہے ۔ چاہے وہ ہندوستان میں فیک نیوز کی وجہ سے موبلنگ لنچنگ ہو یا مسلمانوں کی مسجدیں اور گھروں پر حملے یا پھر حالیہ دنوں میں سری لنکا میں ہوئے فسادات میں مسلمانوں کی کی مسجدوں پر حملے ہو، یہ سب سوشل میڈیا پر پھیلائی ہوئی جھوٹی خبروں کا اثر اور نتیجہ ہی ہے۔
حلاس کے حل کے لیے لیے ہندوستانی حکومت تو بالکل بے فکر نظر آتی ہے اور نہ ہی حکومت سے اس سے زیادہ کی توقع کی جاسکتی ہے اور نہ حکومت اس بات کی اہل ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ میں ترمیم کر سکےکیونکہ جھوٹی خبریں حکومت کی روزی روٹی کا ایک حصہ ہے۔
اس کا ایک حل نہ ہوتے ہوئے لیے متبادل ہو سکتے ہیں۔
١) انسان سوچ و فکر اور عقل کا استعمال کرکے کے اسے بڑے آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ، آیا یہ خبر جھوٹی ہے یا نہیں یا پھر اس خبر کو معتبر ذرائع سے ، تحقیق کے ذریعے پہچان سکتا ہے
٢) آرٹیفیشیل انٹیلی جنس Artificial Intelligence جس کے ذریعے اس مسئلے پر کچھ حد تک قابو پایا جاسکتا ہے جس میں فرضی اینیملس emails اور خبروں کو فیس بک وغیرہ پر ، پھیلنے سے روکا رکھا جا سکتا ہے ,جس میں استعمال کنندہ user کو بتایا جاتا ہے کہ جو خبر آپ پڑھ رہے ہیں یا جو تصویر آپ دیکھ رہے ہیں, اس کی کوئی معتبر سند نہیں ہے جس سے یوزر کو اس بات کا خیال ہو جاتا ہے کہ یہ خبر غیر معتبر خبر ہے۔
٣) ایسے کچھ گروپس بنانا نا جس میں رضا کار کار والنٹیئر س volunteers اور اس کام کو ویب سائٹ website کے ذریعے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں جھوٹی خبروں کا سچ اجاگر کریں.
کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ ایک جھوٹی خبر بڑی حد تک سرخیوں میں جگہ لے لیتی ہے اور لوگوں کو یہ فہم ہو جاتا ہے کہ یہ خبر سچی ہے لیکن اکثر ایسی ویب سائٹس ہی انہیں تحقیق کے ذریعے اے اس کا سچ اجاگر کرتے ہیں۔ ایسی ویب سائٹس میں میں آج کل دا کوئنٹ the quint للن ٹاپ the lallantop د وائر the wire جیسی سوشل سائٹس قابل ذکر ہو سکتی ہیں.
٤) اس بارے میں قوانین کو بھی سخت کرنے کی کی ضرورت ہے ہے ہمارا جو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ہے، اسے اور مضبوط اور سخت کرنے کی ضرورت ہے ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ وہ فرد جو جھوٹی خبر کو سچ سمجھا کر پھیلا تا ہے وہ بھی اس قانون کی زد میں آ جاتا ہے اور اس سے بعض دفعہ صحافیوں کی گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ اور پھر رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز‘ (آر ایس ایف) کے تیار کردہ پریس فریڈم انڈیکس 2019کے مطابق دنیا کے 180ممالک میں انڈیا 138سے نیچے گر کر 140ویں درجے پر پہنچ گیا ہے اسی لیے کچھ لوگ اس قانون کو مضبوط کرنے کو لیکر متفق نہیں کیوں کہ کہ ان کا ماننا ہے ہے کہ اس سے اظہار رائے رائے کی آزادی پر حملے ہوتے ہیں ۔ لیکن ہمیں ایک لمحے کے لیے لیے یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اظہاررائے جیسے بنیادی ستون کے جھوٹی خبروں اور نفرت آمیز موادوں کا ننگا ناچ کب تک چلنے دیں گے ۔

منجانب ۔ اشفاق احمد مومن
موبائل نمبر 9511603215
پونے مہاراشٹرہ