جب اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے دینِ اسلام کو غربت و مفلسی سے نکال کر پوری دنیا میں عام وتام کرکے (لِيُظْهِرَهُ عَلَىْ الدِّيْنِ كُلِّهٖ) کا مظہر بنادیا۔
اور ( أليوم أكملت لكم دينكم و أتممت عليكم الخ) کے ذریعہ اکمالِ دین اور رضامندی کا اعلان فرمایا۔
تو حَجۃ الوداع کے بعد جانشین نبی، دردمندانِ امت صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین اپنا رختِ سفر باندھ کر دنیا کے مختلف علاقوں کا رخ کیا۔ اور تعلیماتِ خداوندی، اور ارشاداتِ نبوی کی اشاعت و تبلیغ کے لئے کبھی صحراء و بیاباں کی چکّریں کاٹی تو کبھی بادشاہوں کے درباروں کا رخ کیا۔
اور نبیﷺ کی محبت دین کی اشاعت کے لیے اَسلحوں اور ہتھیاروں سے لَیث جنگجوؤں کے مابین اسلام کی دعوت اوراس کی حقانیت کوثابت کرنے کے لیے کبھی کسی سے خوف نہیں کھایا۔
وہ کبھی دین کو نبی کی محبت کو کسی بھی دولت، سپر پاور طاقت کے سامنے ماند پڑھنے نہیں دیا ۔
صحابہ کرام نے اپنے اخلاق وکردار، اوصاف وکمالات، ہمت و بہادری، ہمدردی و غمخواری، سے دین کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ کئی علاقے فتح کۓ، حکومتیں قائم کی، اسلامی احکامات نافذ کئے۔ غرض میں کیا کہوں اُن صحراء نشینوں کے اوصاف وکمالات کے بارے میں کہ وہ ایک طرف دنیا کو فتح بھی کررہے تھے۔ اور فتح کۓ ہوۓ علاقوں پر، عوام کے دلوں پر حکومت بھی کررہے تھے۔
تو دوسری طرف وہ دین کے انسانیت کے محافظ اور نگہبان بھی بنے ہوئے تھے۔
لیکن افسوس!
بڑی ہی شرمندگی کے ساتھ یہ بات کہنی پڑھ رہی ہے کہ اُنہیں کی پروردہ،خانہ کعبہ کے محافظ، پاسبانِ حرم، اہلِ عرب حکمرانوں پر جنہوں نے برسوں سے کمائ ہوئ اِس شان و شوکت کو محظ سرمایہ داری، حکومتی اقتدار کی حفاظت و مظبوطی کے خاطر اسلام اور اھلِ اسلام کے جانی دشمن، ہزاروں معصوم بے گناہوں کے قاتل، (یقتلون أبنائكم ) میں فرعون کے ہم مثل، فرعونِ وقت کے سامنے اسلامی تہذیب کو ملیامیٹ اورحیا کی چادر کو چاک کردیا۔
کیا حق بنتا ہے اُس درندہ دل، فتنہ پَرور، حیوان نما انسان کے استقبال کے لئے نوخیز و نوجوان لڑکیوں کے رَقص و سرور، خمیدہ زلف کو نچار کرکے ، بے حیائی کا ننگا ناچ کرنے کا۔
وہ اہلِ عرب جن کے آباؤاجداد تلواروں کی گرج سے کافروں کے قلعوں میں لرزہ طاری کردیتے تھے۔ آج وہی تلواریں کافروں کے استقبال کے لئے لہرائ جارہی ہے۔ فضول ناچ گانوں میں گھمائی جارہی ہے۔
وہ خواتین جنہیں اسلام نے زمین کی پستیوں سے نکال کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا۔
گھروں کی زینت، اور (أزواجاً لِّىتسكنوا) بنایا تھا۔ آج وہی خواتین دشمنِ اسلام کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کے لئے بن سنور کر اپنے حسن کا جلوہ دکھارہی ہے۔
سخت گرمی میں جنگ کے موقع پر زخموں سے چور زندگی اور موت کی کشمکش میں شدتِ پیاس سے دوچار ہونے کے باوجود جب پانی میسر آیا۔ تو خود کی پیاس بجھاۓ بغیر اپنے جوار میں زخموں سے نِڈھال ہوۓ شخص کی آواز پر اپنا پانی کا پیالہ آگے بڑھا کر خود اپنی جان جانِ آفریں کے حوالے کردینا ان لوگوں کی مثال ہے۔ جن کے پروردہ آج
پڑوس میں مظلوم و پریشان ( غزوہ و فلسطین کے مسلمان) جو فی زماننا مظلومِ انسانیت کا سیاہ ترین باب بنے ہوئے ہیں۔
جن کی امیدیں اہلِ عرب سے وابستہ تھیں۔ اُنکے لئے بوڈر پر کھڑے اناج وغلے سے بھرے ٹرکوں کی رہائی کا انتظام بھی نہ کر سکے۔
بہترین استقبال کا نظم توکیا۔ بڑے بڑے ھدیہ وتحائف کا نظرانہ بھی پیش کیا۔ لیکن مظلوم فلسطینیوں کے حق میں جنگ بندی کا کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالا۔
کس قدر بے حسی، کیسا زوال، اور کیسی درندگی چھاگئ ہے ان زمینوں پر جو کسی زمانے میں غیرتِ اسلام حمیتِ ایمان کی پہنچان تھیں۔ دین کی کرنیں جہاں سے نکلی تھی۔ دین کی شمعیں جہاں سے روشن ہوئے تھی، جہاں کفرو ضلالت، شرک وبت پرستی نے سرنِگوں ہوکر دم توڑا تھا آج پھر سے وہاں کفر کو خوش آمدید کہا جارہا ہے۔ اس کو پناہ دی جارہی ہے۔
ہاۓ!
اسطرح اسلام کی رسوائی و شکستگی کودیکھ کر وہاں مدفون آقائے نامدارﷺ کی روح مبارک کس قدر اضطراب بے چینی وبے قراری کے عالَم میں ہوگی کہ جس دین کو آپ ارو آپ کے اصحاب نے کتنی تکلیفوں اور صعوبتوں سے دنیا کے چھپے چھپے میں پھیلایا تھا آج وہ سرِعام نیلام ہوگیا ۔
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
خلاصہ تحریر!
اللہ تبارک وتعالی نے اپنے کلام مجید میں(أِحسانا وبذی القرباء) اور نبی کریم ﷺ نے (ألمسلمون كجسدٍ واحد) اور ( ألمسلم أخ المسلم) فرماکر اتحاد واتفاق، یکدلی و یکجہتی، ہمدردی و غمخواری، مزاج پرسی، آپسی ملنساری، کی تعلیم دی اور صحابہ کرام رضی الله عنھم اجمعین کی زندگی ان سب چیزوں سے معمور اور مزین تھی۔
ہم بھی چونکہ دین میں انکے پیروکار ہے اعمال واخلاق میں ان کے تابعدار ہے ۔ لہذا اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہمارا فریضہ ہے۔ ان کی ہر ادا کو اپنانا نجات کا ذریعہ ہے۔ معاشرے میں پیھلی بے حیائی، بدنظری، فیشن پرستی، مغربی کلچر، یہودی تہذیب، سے اجتناب بہت ضروری ہے۔مزید یہ کہ ہماری دعاؤں کے طلبگار۔ ہماری امداودمعاونت کے امیدوار، مظلومِ زماں، (اہلِ غزہ وفلسطین) ہے جن کے لئے ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ ہم ( لا يكلف الله نفسا إلا وسعها ) کے مطابق دعاؤں کا اہتمام کریں ۔
اسرائیلی اشیاء کا ہی نہیں بلکہ ان دکانوں کا بھی بائیکاٹ کریں جن کے پاس اسرائیلی پرو ڈیکٹ دستیاب ہیں۔
اہلِ عرب نے تو ( للجار حق ) کو پس پشت ڈال کر بقول اکبر الہ آبادی
ہمیشہ زخم دل پر ، زہر ہی چھڑ کا خیالوں نے
کبھی ان ہمدموں کی جیب سے مرہم نہیں نکلا
کا عملی نمونہ پیش کیا۔
لیکن ہمیں ان کی امیدوں کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے بساط کے مطابق جو کام ہوسکے انجام دینا ہیں۔ عملی اقدامات، پرامن احتجاج، غرض ہر ممکن کوشش فتح و کامیابی کے حصول تک انجام دیں۔ ظلم کی رات خواہ کتنی لمبی ہو ایک فتح کا دن طلوع ہوگا۔ (ان شاءاللہ)