: ایک پہاڑی قبیلے کا گمنامی سے نکل کر دنیا کی تقریباً آدھی آبادی پر حکومت کرنے کا سفر
چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط میں فارس ایک گمنام پہاڑی قبیلہ تھا جو ایران کے جنوب مغربی علاقے ’پرسِس‘ میں رہتا تھا۔لیکن پھر اس قبیلے سے ایک ایسا رہنما (سائرس) اُبھرا جس نے صرف کچھ ہی عرصے میں پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر لیا بلکہ اس علاقے میں طویل عرصے سے قائم بادشاہتیں ختم کیں، مشہور شہر فتح کیے اور ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو اپنے وقت کی سب سے بڑی سلطنت بن گئی۔
یہ سلطنت فارس دنیا کی تقریباً آدھی آبادی (44 فیصد) پر حکومت کرتی تھی۔ اِس کی حدود مغرب میں مصر اور بلقان سے لے کر شمال مشرق میں وسطیٰ ایشیا اور جنوب مشرق میں وادیٔ سندھ (آج کا پاکستان) تک پھیلی ہوئی تھیں۔انکی فتوحات کی رفتار اور وسعت اتنی غیر معمولی تھی کہ دنیا کو وہ ناقابلِ شکست دکھائی دینے لگے۔لیکن اس کے بعد اُن ہی میں سے ایک اور رہنما ابھرا جس نے اِن فاتحین کو ہی فتح کر لیا اور اُن کی تمام فتوحات اپنے نام کر لیں۔
یہ کہانی 559 قبل مسیح میں شروع ہوتی ہے جب سائرسِ اعظم منظرِ عام پر آئے، وہ قدیم دنیا کی سب سے نمایاں شخصیات میں سے ایک تھے اور یہ کہانی 230 سال بعد اُس وقت ختم ہوئی جب مقدونیہ کے سکندرِ اعظم آئے اور فارسی سلطنت کو ختم کر دیا۔جیسا کہ اکثر تاریخ میں ہوتا ہے، اس کہانی میں سچ اور کہانیوں کا امتزاج ہے۔ لیکن جو شخص فارسی سلطنت کا بانی بننے والا تھا اس کی پہلی بڑی کامیابی اُس وقت سامنے آئی جب اس نے اپنے پڑوسی ’میڈیس‘ بادشاہ کو شکست دی۔
اس کے بعد سائرس نے ایران کے وسطیٰ علاقوں اور زیادہ تر میسوپوٹیمیا (آج کا عراق) پر قبضہ کر لیا۔ پھر وہ ایشیائے کوچک (آج کا ترکی) میں ’لِڈیا‘ نامی طاقتور بادشاہت سے ٹکرائے اور اس کے امیر دارالحکومت ’ساردِس‘ پر قبضہ کر لیا جس سے سمندر کنارے واقع کئی اہم یونانی شہر بھی اُن کی پہنچ میں آ گئے۔لیکن ان کی سب سے بڑی کامیابی وہ تھی جب انھوں نے میسوپوٹیمیا کے مرکز میں واقع بابلِ نو کی سلطنت پر حملہ کیا اور انتہائی ترقی یافتہ، امیر اور تہذیب یافتہ شہر ’بابل‘ میں داخل ہو گئے۔
انھوں نے 539 قبل مسیح میں بابل کو فتح کیا۔ ہمیں اس کا علم اس لیے ہے کیونکہ ماہرین آثارِ قدیمہ نے تاریخ کی سب سے پرانی سیاسی پراپیگنڈہ کی تحریروں میں سے ایک کی دریافت کی ہے۔ یہ تحریر ’سائرس سلنڈر‘ کہلاتی ہے، جس پر لکھا ہے کہ ’دنیا کے بادشاہ‘ نے یہ جنگ طاقت سے نہیں بلکہ برداشت، رواداری اور انصاف سے جیتی۔ممکن ہے کہ یہ سب سچ ہو، مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ صرف اچھا ہونا کافی نہیں، اچھا نظر بھی آنا چاہیے۔سائرس سلنڈر کا مقصد یہی تھا۔ سائرس کی نیک نامی کو پھیلانا تاکہ آنے والی نسلوں تک فارسی سلطنت کے بانی کی شبیہ ایک عظیم حکمران کے طور پر قائم رہے۔

یونانی مورخ زینوفون (430–354 قبل مسیح) نے اپنی کتاب ’سائروپیڈی‘ میں سائرس کو ایک مثالی لیڈر کے طور پر پیش کیا جبکہ بائبل کے پرانے عہد نامے میں سائرس کو اس لیے سراہا گیا کہ انھوں نے یہودیوں کو بابل کی جلاوطنی ختم کر کے واپس اپنے وطن یروشلم جانے کی اجازت دی تاکہ وہ اپنا عبادت خانہ دوبارہ تعمیر کر سکیں۔یوں صدیوں سے انھیں قدیم دور کے ایک مثالی حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ایسا حکمران جس میں بہادری کے ساتھ ساتھ برداشت، رحم دلی اور فراخ دلی بھی شامل ہے۔جلد ہی اِس خاندان کے حکمران دنیا کے سب سے طاقتور لوگ بن گئے۔ اُن کے پاس اتنے وسائل تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ اُن کی حکومت کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ممکن ہے کہ یہ سب سچ ہو، مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ صرف اچھا ہونا کافی نہیں، اچھا نظر بھی آنا چاہیے۔سائرس سلنڈر کا مقصد یہی تھا۔ سائرس کی نیک نامی کو پھیلانا تاکہ آنے والی نسلوں تک فارسی سلطنت کے بانی کی شبیہ ایک عظیم حکمران کے طور پر قائم رہے جدید دور میں تو بعض اوقات اُن کے سلنڈر کو انسانی حقوق کا پہلا منشور بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں مذہبی آزادی اور رواداری کا ذکر موجود ہے۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چھٹی صدی قبل مسیح کے دور میں یہ تصورات ویسے نہیں تھے جیسے آج سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت کا ماحول ایک سے زائد خداؤں پر یقین رکھنے والا تھا اور فاتحین چاہے وہ سائرس سے پہلے والے ہوں یا بعد والے، مقامی دیوی دیوتاؤں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرتے تھے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے ’انویزیبل ایسٹ‘ منصوبے سے وابستہ محقق متین ارغندہ پور نے بی بی سی کو بتایا ’جب ہم قدیم زمانے کی بات کرتے ہیں تو مذہب اتنا منظم نہیں تھا جیسا آج ہم جانتے ہیں۔‘ ’بابل میں اگر کوئی دیوتا مردوک کی عبادت کرتا تھا تو وہ دیگر دیوی دیوتاؤں کی پوجا بھی کر سکتا تھا۔ تو کیا اس وقت مذہبی آزادی تھی؟ ہاں، سائرس نے کسی پر زور زبردستی نہیں کی کہ وہ اپنا مذہب چھوڑے لیکن اس وقت لوگ خود بھی ایسا نہیں کرتے تھے۔‘سائرس کی زندگی کے آخری برسوں کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں اور اُن کی موت کے بارے میں مختلف اور متضاد کہانیاں ملتی ہیں۔
یہ طے ہے کہ وہ اپنی سلطنت کی مشرقی سرحد پر ایک مہم کے دوران مارے گئے۔یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کے مطابق سائرس ایک خانہ بدوش قبیلے کو فتح کرنے کی کوشش میں مارے گئے۔ اس قبیلے کی ملکہ نے، جس کے بیٹے کو سائرس نے قتل کیا تھا، بدلے میں سائرس کا سر قلم کرنے کا حکم دیا۔مگر خود ہیروڈوٹس یہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ صرف ایک روایت ہے اور انھوں نے کئی مختلف کہانیاں سُنی تھیں۔سائرس کی قبر پاسارگاد میں ہے، وہی جگہ جسے انھوں نے اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا تھا۔یہ قبر ایک وسیع دیواروں والے باغ کے وسط میں ہے جس کے اردگرد ہریالی اور بہتا پانی موجود تھا۔ یہ سب کچھ اس بات کی علامت تھا کہ سائرس نے جنگلی علاقوں میں تہذیب اور نظم و نسق لانے کا کام کیا۔آج ان سب نشانیوں میں صرف ان کی قبر باقی رہ گئی ہے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی قبر ہے مگر اُس شخص کی ہے جو نہ صرف فارسی سلطنت کا بانی تھا بلکہ اپنی قوم کے قومی تشخص کا علمبردار بھی رہا۔۔قبر پر قدیم فارسی، ایلامی اور اکادی زبانوں میں ایک سادہ سا جملہ کندہ ہے: ’میں، بادشاہ سائرس، ایک ہخامنشی ہوں‘یہ اس بات کا اعلان تھا کہ سائرسِ اعظم کی وسیع نئی سلطنت ہخامنشی خاندان کے تحت ہے جو فارس کی عظیم شاہی نسل تھی۔
ایک اور عظیم حکمران
سائرسِ اعظم نے اگرچہ پہلی فارسی سلطنت کی بنیاد رکھی، جسے ان کے بعد آنے والے دو حکمرانوں نے مزید وسعت دی لیکن اسے مستحکم کرنے والے بادشاہ داریوش اول تھے۔داریوش، جو سائرس کے ہم پلہ حکمران مانے جاتے ہیں، سلطنت کے عروج کے دور میں سامنے آئے اور ان کا اقتدار طاقت کے بل پر قائم ہوا۔انھوں نے سائرس کے بیٹے بردیہ سے خونریز بغاوت کے ذریعے اقتدار چھینا اور جب سلطنت میں بغاوتوں کی لہر اٹھی تو انھوں نے سختی سے اُن کا خاتمہ کیا۔صرف ایک سال میں انھوں نے باغیوں کو شکست دی، اُن کے رہنماؤں کو پکڑا اور انھیں سزائیں دیں۔ اس کے بعد اپنی 36 سالہ حکومت میں انھیں دوبارہ کسی بغاوت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔لیکن ان کی طاقت کا راز صرف جنگی صلاحیتوں میں نہیں تھا۔داریوش نے سلطنت کو منظم کیا۔ انھوں نے ڈاک کا نظام قائم کیا، وزن اور پیمائش کو معیاری بنایا اور سکے رائج کیے۔
اتنی بڑی سلطنت کو سنبھالنے کے لیے انھوں نے اسے صوبوں یا ستراپیوں میں تقسیم کیا اور ٹیکس کا نظام نافذ کیا۔انھوں نے اعلیٰ عہدوں پر صرف فارسی اشرافیہ کے معتمد افراد کو تعینات کیا۔ انھوں نے پوری سلطنت میں انجینیئرنگ اور تعمیراتی منصوبے شروع کروائے، جن میں ایک نہر بھی شامل تھی جو مصر میں دریائے نیل کو بحیرۂ احمر سے جوڑتی تھی۔اتنی وسیع سلطنت کو آپس میں جوڑنے کے لیے سڑکیں درکار تھیں اور ایسی سڑکیں بنائی گئیں جو بہترین تھیں، جن پر لمبے سفر کے لیے آرام گاہیں بھی قائم تھیں۔ماہرین کے مطابق فارسی سلطنت کا مضبوط انفراسٹرکچر ہی وہ خوبی تھی جس نے اسے دوسروں پر برتری دلائی۔یہی انتظامی ذہانت تھی جس کی وجہ سے انھیں ’داریوشِ اعظم‘ کہا گیا۔اور اُن کی ایک اور بڑی کامیابی تھی شہرِ پرسیپولس کا قیام، جو بعد میں فارسی سلطنت کی علامت بن گیا۔
پرسیپولیس
آج بھی یادگاری کمپلیکس کے کھنڈرات اس مقام کے شان کی گواہی دیتے ہیں جو کہ اس سلطنت کی شان و شوکت کا منھ بولتا ثبوت ہے۔شاندار چھتیں اور 20 میٹر لمبے ستونوں پر موجود پرندوں، شیروں اور بیلوں کی مورتیوں کو اب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔تخت کی طرف جانے والی سیڑھیوں پر 23 قوموں کے وفود کو امر کر دیا گیا ہے اور یہ بادشاہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک طریقہ تھا۔
ان کے چہروں اور قومی ملبوسات میں ہر تفصیل کا خیال رکھا گیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان وفود میں شامل افراد کا تعلق جنوب مشرقی یورپ سے لے کر انڈیا تک سے تھا اور وہ اپنے ہمراہ سونا، مصالحے، کپڑے، زیورات، کلہاڑیاں اور مختلف جانور لائے تھے۔یہ لوگ گیٹ آف آل نیشنز کا استعمال کرتے ہوئے یہاں داخل ہوئے تھے جس کی حفاظت جادوئی مخلوق لیمیسس کر رہا تھا۔ یہ دراصل آدھا بیل اور آدھا انسان تھا جس کا تعلق بابل اور اشوریہ سے تھا اور فارسیوں نے بُرائی کو بھگانے کے لیے اس کی مورتی گیٹ آف آل نیشنز پر نصب کی تھی۔فارسی سلطنت کی وسعت کا اندازہ آپ ان کے فنِ تعمیر اور آرٹ کو دیکھ کر بھی لگا سکتے ہیں۔
یہ فنِ تعمیر اور آرٹ دنیا میں پائے جانے والے مختلف سٹائلز کا مجموعہ تھا اور اس میں انتہائی مہارت کے ساتھ فارس کی جھلک شامل کی گئی تھی۔پرسیپولیس شاہانہ فنِ تعمیر کا ایک ماسٹر پیس تھا۔ اسے دیکھ کر انسان یہی سوچتا ہے کہ شاید اس کی تعمیر کے دوران غلاموں کی ایک فوج کا استحصال کیا گیا ہو گا۔لیکن یہاں ماہرینِ آثار قدیمہ نے انتہائی حیران کُن دریافت بھی کی ہے۔ انھیں یہاں پرسیپولیس قلعہ ملا اور خزانے سے متعلق معلومات اینٹوں سے بنی تختیوں پر لکھی ہوئی نظر آئی، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فارسی سلطنت میں ریکارڈ کو محفوظ کیا جاتا تھا۔
ان تختیوں پر رقم کے لین دین، کھانے کی تقسیم اور ملازمین اور مسافروں کے حوالے سے بھی معلومات درج تھیں۔ان تختیوں پر متعدد اشیا کی ترسیل اور اقتصادی ضروریات کے حوالے سے معلومات بھی لکھی تھی اور ملازمین کو دیے جانے والے کھانے اور چاندی کی تفصیلات بھی وہیں سے ملی ہیں۔ ہیں تو انھیں عجیب و غریب جانوروں کی مورتیاں نظر آتی ہیں نہ کہ وہ فارسی بادشاہ جو کبھی یہاں حکمرانی کیا کرتے تھے۔10ویں صدی میں فارسی شاعر ابو قاسم فردوسی نے اپنی کتاب شاہنامہ لکھی تھی۔ اس کتاب میں سائرسِ اعظم، دارا اول اور خشایارشا کو فارس کی شناخت کا مرکزی حصہ نہیں بیان کیا گیا ہے۔مغرب میں اُن کی کہانیاں قدیم یونانی اور رومن قوم کے نقطہ نظر سے بیان کی جاتی ہیں۔سنہ 1620 تک پرسیپولیس کے کھنڈرات کی شناخت بھی نہیں ہو سکی تھی۔یورپ سے 18ویں اور 19ویں صدی میں جانے والا سکالرز اور مسافروں نے اِس مقام کو دریافت کیا تھا۔پھر سنہ 1924 میں ایرانی حکومت نے جرمن سکالر ارنسٹ ہرزفلیڈ کو پرسیپولیس کو دریافت کرنے کی ذمہ سونپی جو کہ ایرانی تاریخ کے ایک ماہر سمجھے جاتے تھے۔اس کے بعد سے سلطنت فارس کی کہانیاں قدیم فارسی آواز میں ہی سنائی جانے لگیں۔یعنی کہ یہ کہانی دو عظیم فاتحین سے شروع ہوئی تھی، ان ہی پر ختم ہوئی اور آج بھی وہ دونوں اس کہانی کے مرکزی کردار ہیں۔(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)