ممبئی:(ورق تازہ نیوز)ریاست مہاراشٹرا میں ہزاروں کسانوں کے لیے بڑی راحت کی خبر آئی ہے۔ قرض کی ادائیگی میں ناکامی کے باعث ان کی زمینیں سرکار کے قبضے میں چلی گئی تھیں، مگر اب حکومت نے انہیں ان کی زمینیں واپس دینے کا فیصلہ کیا ہے، بشرطیکہ انہوں نے 12 سال کی مدت میں اپنا پورا قرض چکا دیا ہو۔ تاہم اس فیصلے کے لیے کچھ شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔
مہاراشٹرا زمین محصول ایکٹ 1966 کی دفعہ 220 کے تحت، جن کسانوں نے اپنا قرض ادا کر دیا ہے وہ اپنی "آکار پڑ” زمینیں دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے زمین کی اصل ملکیت ثابت کر کے تحصیلدار کے دفتر میں درخواست دینا لازمی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس درخواست کی ایک مخصوص مدت مقرر کی گئی ہے۔ تحصیلدار کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد 90 دنوں کے اندر درخواست دینا ضروری ہے۔ مقررہ وقت کے بعد دی گئی درخواست پر کوئی غور نہیں کیا جائے گا۔
پانچ فیصد فیس (نذرانہ) ادا کرنا ہوگا
زمین واپس لینے کے لیے کسانوں کو اس کی موجودہ بازاری قیمت کا پانچ فیصد نذرانہ یعنی فیس ادا کرنا ہوگی۔ یہ فیس ادا کرنے کے بعد ہی زمین واپس مل سکے گی۔ محصول انتظامیہ نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ اس پوری کارروائی میں مکمل احتیاط برتی جائے۔
زمین واپس ملنے پر کچھ پابندیاں بھی ہوں گی
حکومت نے اگرچہ زمینیں واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس پر کچھ اہم شرطیں بھی نافذ رہیں گی، جیسے:
زمین کی فروخت یا منتقلی آئندہ 10 سال تک نہیں کی جا سکے گی۔
زمین ملنے کے بعد لگاتار 5 سال تک اس کا غیر زرعی (نان ایگریکلچرل) استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
اس مدت کے دوران زمین کی ملکیت کسان کے پاس برقرار رہے گی، مگر اس پر کوئی تجارتی یا دیگر فروخت کا عمل نہیں ہو سکے گا۔
آکار پڑ زمین کیا ہے؟
ریاستی حکومت نے کسانوں کو کنویں کی تعمیر، آبپاشی اور زرعی ترقی کے لیے قرض دیا تھا۔ تاہم بہت سے کسان وقت پر یہ قرض ادا نہیں کر سکے جس کی وجہ سے ان کی زمینیں حکومت کی ملکیت میں چلی گئیں۔ ایسی زمینوں کو حکومت نے "آکار پڑ” قرار دے کر علامتی ایک روپے کی قیمت پر نیلامی کے ذریعے اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جس سے ہزاروں کسانوں کے ملکیتی حقوق ختم ہو گئے تھے۔
حکومت کے نئے فیصلے سے ان کسانوں اور ان کے وارثوں کو اپنی زمین پر دوبارہ ملکیت کا حق حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ تاہم، اس کے لیے ہر شخص کو اپنی زمین کی ملکیت ثابت کرنے والے دستاویزات پیش کرنا ضروری ہوگا۔
درخواست دینے کا طریقہ کار:
1️⃣ تحصیل دفتر سے موصول ہونے والا نوٹس غور سے پڑھ کر فوری تیاری شروع کریں۔
2️⃣ زمین کا 7/12 ریکارڈ، فردِ بدل (فیر فار نوٹ)، قرض ادائیگی کی رسید اور دیگر ضروری دستاویزات مکمل رکھیں۔
3️⃣ نوٹس ملنے کے بعد 90 دنوں کے اندر تحصیلدار کے دفتر میں درخواست جمع کریں۔
اس فیصلے سے کئی کسانوں کو بڑی راحت ملنے والی ہے اور وہ اپنی زمین پر دوبارہ ملکیت کا حق حاصل کر سکیں گے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ مقررہ مدت میں درخواست دینا اور تمام قواعد کی پابندی کرنا لازمی ہے، ورنہ اس سہولت کا فائدہ نہیں مل سکے گا۔