سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں تاریخی مسجدوں کی بحالی کے منصوبے کے روشنی میں مملکت کے طول وعرض میں دس مقامات پر تیس تاریخی مساجد کی بحالی ومرمت کا کام مکمل کر کے انہیں نماز کی ادائی کے قابل بنا دیا گیا ہے۔
مملکت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ منصوبے کا پہلا مرحلہ تھا جس کے تحت 60ھ سے لے کر 1432ھ تک کی مساجد کا احیاء عمل میں آیا ہے۔ کئی مراحل میں 130 تاریخی مساجد کا احیاء ہوا۔ یہ کام 423 دن میں مکمل کیا گیا۔ اس منصوبے پر 50 ملین ریال کی لاگت آئی ہے۔
تتفاوت أعمار المساجد التاريخية التي تم تأهيلها ضمن المرحلة الأولى بين 1432 عاماً و60 عاماً، إذ يعود تأسيس أحدها إلى عهد الصحابي جرير بن عبدالله البجلي وهو مسجد جرير البجلي بالطائف#ولي_العهد_يجدد_مساجد_تاريخية pic.twitter.com/pGpA24hxqg
— الهيئة العامة للسياحة (@scthKSA) January 5, 2020
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 130 مساجد کے احیاء کے لیے خصوصی ہدایت جاری کر رکھیں تھیں۔ یہ کام سعودی عرب کی سپیشلسٹ کمپنیاں انجام دے رہی ہیں۔ سعودی محکمہ سیاحت وقومی آثار قدیمہ، وزارت اسلامی امور دعوت و رہنمائی، وزارت ثقافت اور سعودی انجمن برائے آثار قدیمہ کا یہ مشترکہ پروگرام ہے۔
اس سلسلے میں کئی باتوں کا دھیان رکھا جا رہا ہے۔ تاریخی مساجد کا اصل ڈھانچہ اور ان کی حقیقی شکل و صورت برقرار رکھی جارہی ہے البتہ خواتین کے لیے مصلے، معذوروں کے لیے بنیادی ضروریات، بجلی، پانی، ایئرکنڈیشن اور لاؤڈ اسپیکر کا اضافہ حسب حال کیا جا رہا ہے۔
پہلے مرحلے میں معروف صحابی حضرت جریر بن عبداللہ البجلی کے دور کی مسجد کا بھی احیا ہوا ہے۔ یہ مسجد طائف میں واقع ہے۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ یہ اپنے دور میں بڑی مشہور درس گاہ بھی رہی ہے۔ یہ تین سو برس پرانی الاحسا کی شیخ ابو بکر مسجد جیسی ہے۔ بعض مساجد میں 40 برس سے نماز بند تھی۔
(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
