#WATCH Delhi: Visuals of Prime Minister Narendra Modi and Saudi Arabia Crown Prince Mohammed bin Salman upon the Saudi Crown Prince’s arrival in India. pic.twitter.com/WXXcnH8jyC
— ANI (@ANI) February 19, 2019
نئی دہلی: سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود منگل کو دو روزہ دورے پر بھارت پہنچے ہیں، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایئر پورٹ پر شاندار استقبال کیا، اس دوران ان کے ساتھ خارجہ وزیر مملکت جنرل وی کے سنگھ بھی تھے. شہزادہ کے دورے کے دوران پاکستانی اسپانسر دہشت گردی کا موضوع ایک اہم مسئلہ ہوگا.
دونوں ممالک دفاعی تعلقات میں اضافہ، بشمول مشترکہ بحری مشقوں پر بھی تبادلہ خیال کریں گے. سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنوبی ایشیا کے دورے کے آغاز میں اتوار کو اسلام آباد پہنچے شہزادہ پیر کو سعودی عرب لوٹ گئے تھے.آج واپس وہ ہندوستان آئے.
بھارت نے شہزادہ کے پاکستان دورے پر اعتراض کیا تھا. اور کہا تھا کہ وہ اسلام آباد سے براہ راست ہندوستان نہ آئیں. شاہزادے کے دورے سے پہلے سعودی عرب کے وزیر خارجہ ادیل امام زبیر نے پیر کو کہا کہ پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے پیش نظر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ریاض ‘کم’ کرانے کی کوشش کرے گا.
کیا شہزادہ سلمان کا اسلام آباد کی جگہ ریاض سے آنا ہمارے جوان شہدا کے لئے کافی ہے !
پلوامہ حملہ کے بعد ہندوستان نے محمد بن سلمان کے اسلام آباد سے سیدھے آنے پر اعتراض جتایا تھا ، جس کے بعد اب وہ ریاض واپس جاکر پھر ہندوستان آئے
آج شہزادہ محمد بن سلمان ہندوستان کے دورہ پر آئے، ان کا پہلے پروگرام تھا کہ وہ پاکستان سے سیدھے ہندوستان آئیں گے، لیکن پلوامہ حملہ کے بعد ہندوستان نے اسلام آباد سے سیدھے نئی دہلی آنے پر اعتراض درج کیا تھا جس کے بعد یہ طے ہوا کہ محمد بن سلمان پہلے واپس ریاض جائیں گے اور پھر وہاں سے ہندوستان آئیں گے ۔اسی لئے آج محمد بن سلمان سیدھے ریاض سے نئی دہلی پہنچیں گے ۔
محمد بن سلمان شہزادہ ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں سب سے طاقتور شخص ہیں اور وہ اپنے دورہ کے دوران ہندوستان کے ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط کرنے کے خواہش مند ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ان کے اس دورہ کے دوران دونوں ممالک مشترکہ بحری مشقیں بھی کرنے والے ہیں ۔
واضح رہے محمد بن سلمان نے اپنے دو روزہ پاکستانی دورہ کے دوران پلوامہ حملہ کے تعلق سے کہا تھا ’’پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے پیش نظر ریاض کی کوشش ہوگی کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ میں کمی آئے‘‘۔ سعودی عرب نے پلوامہ حملہ کی سخت الفاظ میں مزمت ضرور کی، لیکن اس کے لئے پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ۔وزیر اعظم نریندر مودی ملاقات کے دوران محمد بن سلمان سے پاکستان کی حمایت سے ہونے والی دہشت گردی کا مدا ضرور اٹھائیں گے ‘‘۔
ذرائع کے مطابق محمد بن سلمان ہندوستان دورہ کے دوران سرمایہ کاری کے لئے معاہدوں پر دستخط کر سکتے ہیں ۔ محمد بن سلمان نے اپنے پاکستانی دورہ کے دوران سرمایہ کاری کرنے کے تعلق سے بڑے معاہدوں پر دستخظ کیے ہیں جس سے پاکستانی کی خستہ حال معیشت کو تھوڑی سی راحت ملی ہے ۔ محمد بن سلمان کے اس دورہ سے سرمایہ کاری کو دو پہلوؤ ں سے دیکھا جا رہا ہے ایک تو یہ کہ ایران کے خلاف سعودی عرب سرمایہ کاری کے ذریعہ ایشیا میں اپنے اتحادیوں کی تعداد اور حمایت کا خوہش مند ہے ۔ دوسرا یہ کہ کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ خاشقجی قتل معاملہ میں کیونکہ محمد بن سلمان چونکہ سوالوں کے گھیرے میں ہیں اور مغرب میں ان کے خلاف کافی احتجاج بھی ہوئے ہیں اس لئے وہ اپنی شبیہ درست کرنے کے لئے بھی یہ دورہ کر رہے ہیں۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ کیا صرف اسلام آباد سے نہ آکر ریاض سے آنے سے ہندوستان کے مسائل حل ہو جاتے ہیں ،کیا اس سے پلوامہ حملہ میں شہید ہمارے جوانوں کے خون کا بدلہ مل جاتا ہے ؟ کیا سرمایہ کاری ہمارے لئے ان جوانوں کی شہادت سے زیادہ اہم ہے اور ہم اس بات کو قبول کر سکتے ہیں کہ جو شخص ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے آرہا ہے وہ اس پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کرے جو ہمارے جوانوں کی شہادت کے لئے ذمہ دار ہے ۔ کیا ہندوستانی معیشت اتنی کمزور ہے کہ ہمیں محمد بن سلمان کی مدد کی ضرورت ہے ؟ ہماری حکومت کو سوچنا ہوگا۔
جتنی ہندوستان کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ سعودی عرب کو ہماری ضرورت ہے ، یہ موقع تھا جب ہم دباؤ بنا کر پاکستان کو سعودی سرمایہ کاری سے محروم کر سکتے تھے لیکن ہم نے یہ موقع گنوا دیا ۔اس سے ہماری حکومت کی طاقت اور سیاسی بصیرت نظر آتی ہے۔حکومت کو اس علامتی ڈرامہ بازی سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے۔