نئی دہلی: سپریم کورٹ کی نو رکنی آئینی بنچ نے پیر کو واضح کیا ہے کہ وہ صرف سبریمالا مندر میں سبھی عمر کی خواتین کے داخلے کے مسئلہ پر ہی نہیں بلکہ مسلم اور پارسی خواتین کے مذہبی حقوق پر بھی غوروفکر کرے گی۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی صدارت والی 9 رکنی آئینی بنچ نے کہا ہے وہ انہیں مسئلوں پر سماعت طے کرے جو 14 نومبر 2019 کو پانچ رکنی بنچ نے اسے سپرد کیا تھا۔ ان میں خواتین کا مندر اور مسجد،پارسی خواتین کو اگیاری میں داخلے اور داؤدی بوہرہ میں خواتین کے ختنہ جیسے مسائل شامل ہیں۔
Supreme Court's nine-judge bench, today said that it will only hear the questions referred in the review order passed by it on November 14 in the Sabarimala temple issue. pic.twitter.com/o7nsyPp0lc
— ANI (@ANI) January 13, 2020
مختلف مذاہب کے مذہبی رسم ورواجوں پر خواتین کے ساتھ ہورہی تفریق کے معاملے میں عدالت دخل دے سکتی ہے یا نہیں، اس پر بھی غوروفکر کیا جائے گا۔ معاملے کی اگلی سماعت 3 ہفتہ بعد ہوگی۔ چیف جسٹس نےکہا ہے کہ ’’ہم نہیں چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی سماعت میں زیادہ وقت برباد ہو، اس لئے معاملے میں ٹائم لائن طے کرنا چاہتے ہیں۔ سبھی وکلاء آپس میں طے کرکے بتائیں کہ جرح اور دلیلوں میں کتنا وقت لگے گا۔‘‘
جسٹس بوبڈے نے کہا ہے کہ اس معاملے پر مزید سماعت کن سوالات پر ہوگی، کون وکیل کس مسئلہ پر بحث کرے گا، اس لئے عدالت کے جنرل سکریٹری ٍ17 جنوری کو سبھی وکیلوں سے میٹنگ کرکے ایک وقت طے کریں گے۔ میٹنگ میں طے کیا جائے گا کہ اس مسئلہ پر کون وکیل دلیل دے گا۔ آئینی بنچ میں جسٹس آر بھانومتی، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایل ناگیشور راؤ، جسٹس ایم ایم شانتن گوڈر، جسٹس ایس اے نذیر، جسٹس آر سبھاش ریڈی، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 28 ستمبر 2018 کو ایک آئینی بنچ نے 10 سے 50 سال کی عمر کی خواتین کو سبریمالا میں واقع بھگوان ایپا مندر میں داخل نہ ہونے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سبھی عمر کی خواتین کے لئے مندر کے دروازے کھول دیئے تھے۔ اس کے بعد 60نظرثانی کی عرضیاں اس فیصلے کے خلاف داخل کی گئی تھیں جنہیں گزشتہ 14 نومبر کو بڑی بنچ کو سونپ دی گئی تھیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو