آل انڈیا مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی سمیت متعدد شخصیات نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چینل اور اس کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گواسوامی سے معافی کا مطالبہ کیاتھا.

نئی دہلی: آج ریپبلک ٹی وی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے جماعت اسلامی ہند سے غیر مشروط معافی کا ٹویئٹ کیا گیا. واضح ہوکہ اس تناظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنر ل سکریٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی نے ری پبلک ٹی وی کی اس حرکت کو مذموم قرار دیا تھا.
بورڈ کی طرف سے ریپبلک ٹی وی سے یہ مطالبہ کردیا گیا ہے کہ وہ اپنی معذرت کو چینل پر براڈکاسٹ کرے۔
یہ بھی پڑھیں
ریپبلک ٹی وی معذرت کو چینل پر براڈکاسٹ کرے: مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری کو کمانڈر ان چیف کہنا ری پبلک ٹی وی کی مذموم حرکت ہے : مولانا سید محمد ولی رحمانی
ریپبلک ٹی وی نے مولانا جلال الدین عمری اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے معافی مانگی

مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد ریپبلک ٹی وی نے آج 3 مارچ کو تقریبا رات دس بجے ایک ٹوئٹ کرکے غیر مشروط معافی طلب کرلی ہے ۔ٹوئٹر پر ریپبلک نے لکھاہے کہ ”وزرات داخلہ کی جانب سے جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر پابندی عائد کئے جانے کی خبر کو نشر کرنے دوران ریپبلک ٹی وی نے جماعت اسلامی ہند کے صدر مولانا جلال الدین عمری کی تصویر نشر کردی تھی جس کیلئے چینل بلا کسی تاویل کے معافی کا طلب گار ہے اور اس کی تصحیح کرلی گئی ہے “۔
CORRIGENDUM & APOLOGY for taking a wrong image of Maulana Syed Jalaluddin Umri carried on Republic TV at 4:03 PM. It was an inadvertent error, the video editor concerned carried the wrong image which was wrongly broadcast once & immediately corrected (1/2)
— Republic (@republic) March 3, 2019

نئی دہلی: آج ریپبلک ٹی وی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے جماعت اسلامی ہند سے غیر مشروط معافی کا ٹویئٹ کیا گیا. واضح ہوکہ اس تناظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنر ل سکریٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی نے ری پبلک ٹی وی کی اس حرکت کو مذموم قرار دیتے ہوئے کہا کہ : ’ مولانا جلال الدین عمری ملک کے ممتاز عالم دین ، کہنہ مشق مصنف ، معروف مفکر ہیں،علاوہ ازیں وہ آ ل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر بھی ہیں ، ملک و ملت کے لیے ان کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں، ایسے باوقار شخصیت اور ممتاز عالم دین پر مبینہ دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنا اس بات کی علامت ہے کہ : ’ میڈیا سے تعلق رکھنے والے بعض افراد ذہنی دیوالیہ پن کے شکار ہیں اور انہیں صحافتی دیانت سے تھوڑا سا بھی تعلق نہیں ہے ‘ ۔
