ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی مہم غیرجانبدارانہ طور پر نافذ کی جائے
ریاستی چیف الیکشن افسر ایس چوکالنگم سے کانگریس کے وفد کی ملاقات اور مطالبہ
ممبئی: الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کے حوالے سے مختلف ریاستوں میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر مخصوص ذاتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کے نام مبینہ طور پر فہرستوں سے خارج کیے جا رہے ہیں، جبکہ کچھ ریاستوں میں انتخابات سے قبل چلائی گئی اس مہم میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مہاراشٹر میں اس عمل کو مکمل غیرجانبداری اور شفافیت کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ یہ معلومات کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے فراہم کیں۔
ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں کانگریس کے ایک وفد نے ریاست کے چیف الیکشن افسر ایس چوکالنگم سے ملاقات کر کے انہیں ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کی۔ اس موقع پر وجے ویڈیٹی وار، نسیم خان، سچن ساونت، ایڈووکیٹ سندیش کونڈویلکر اور ابھیجیت سپکال سمیت دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہاراشٹر میں 2002 سے 2004 کے دوران ایس آئی آر کا عمل بغیر کسی جلدبازی کے تقریباً 13 ماہ میں مکمل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب 25 برس بعد جب یہ عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے تو اس دوران ووٹروں کی تعداد میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ کا اضافہ ہو چکا ہے، جسے مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
سپکال نے واضح کیا کہ ریاست میں آئندہ دو سے تین برس تک کوئی بڑا انتخاب متوقع نہیں ہے، اس لیے اگر یہ عمل ڈیڑھ سے دو سال میں مکمل کیا جائے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مناسب وقت دینے سے عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری اور ایس آئی آر کا عمل ایک ہی افسر یا ملازم کے ذریعے نہیں کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ بھی کیا کہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو ایس آئی آر کی سافٹ کاپی، او سی آر یا مشین ریڈیبل فارمیٹ کے ساتھ ساتھ ہارڈ کاپی بھی فراہم کی جائے۔ اسی طرح اعتراض درج کرانے اور نوٹس کا جواب دینے کے لیے کم از کم ایک ماہ کا وقت دیا جانا چاہیے۔
ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ کسی بھی ووٹر کا نام حذف کرنے سے پہلے اس کا موقف سننے کے لیے کم از کم سات دن کا نوٹس دینا لازمی ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ بی ایل او کسی بھی سیاسی یا دیگر دباؤ میں کام نہ کریں اور بی ایل اے کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر سے متعلق مکمل ڈیٹا کم از کم پانچ سال تک ای آر او اور ڈی ای او کی سطح پر محفوظ رکھا جائے اور ضرورت پڑنے پر سیاسی جماعتوں کو فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فارم 7 کے تحت دی جانے والی درخواستوں کی سختی سے جانچ ہونی چاہیے۔ ‘غیر حاضر، منتقل شدہ یا فوت شدہ’ (اے ایس ڈی) ووٹروں کی فہرست بروقت پولنگ اسٹیشن کی سطح پر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو فراہم کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس عمل کے ذریعے شہریت ثابت کرنے یا این آر سی کو بالواسطہ نافذ کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہونی چاہیے اور یہ عمل صرف ووٹر رجسٹریشن تک محدود رکھا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیسے ہی انتخابات کا اعلان ہو، رجسٹریشن کے عمل کو روک دیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
MPCC Urdu News 2 April 26.docx