نئی دہلی: (ورق تازہ نیوز)بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کی ناکامیوں پر سیاسی بحث میں مزید تیزی آگئی ہے۔ ایک طرف کانگریس نتائج کو “ووٹ چوری” قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب مخالفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس اب تک 95 انتخابات ہار چکی ہے۔ لیکن حقائق کچھ اور تصویر پیش کرتے ہیں۔
2004 میں راہل گاندھی پہلی بار امیٹھی سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ 2007 میں وہ کانگریس کے جنرل سیکریٹری بنے اور یوتھ کانگریس و این ایس یو آئی کی ذمہ داری سنبھالی۔ 2013 میں انہیں نائب صدر اور پھر 2017 میں کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا، اگرچہ 2019 کی لوک سبھا شکست کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا۔ 2024 میں وہ لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف بنے۔
راہل گاندھی نے 2007 کے یوپی اسمبلی انتخاب سے پارٹی کی حکمتِ عملی میں فعال کردار ادا کرنا شروع کیا۔ 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں یوپی سے کانگریس کی نمایاں واپسی ہوئی لیکن 2012 میں یوپی اسمبلی انتخابات میں پارٹی چوتھے نمبر پر رہی۔

کانگریس کا اصل انتخابی رپورٹ کارڈ 2014 کے بعد سے دیکھا جاتا ہے۔ 2014 کی لوک سبھا انتخابی شکست کے بعد کانگریس کو اکثر ریاستوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
2018 میں راہل گاندھی کی صدارت کے دوران کانگریس نے راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں حکومتیں بنائیں، مگر 2019 میں ایک بار پھر بری طرح ناکامی ہوئی اور خود راہل گاندھی امیٹھی کی نشست ہار گئے۔ بعد ازاں ان کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ نے ان کی سیاسی امیج کو پھر سے زندہ کیا، جس کے بعد کانگریس نے کرناٹک، ہماچل پردیش اور تلنگانہ میں کامیابیاں حاصل کیں اور 2024 کی لوک سبھا میں اپنی نشستیں تقریباً دو گنا کر لیں۔
انتخابی کارکردگی — اعداد و شمار میں
راہل گاندھی کی متحرک قیادت کے دوران کانگریس نے:
📌 3 لوک سبھا انتخابات میں شکست
2014، 2019، 2024
📌 74 اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا
63 میں شکست
9 میں براہِ راست کامیابی
7 میں اتحادی حکومت کا حصہ (لیکن قیادت اتحادی جماعتوں کے پاس رہی)
یعنی مجموعی طور پر: ✔️ لڑے گئے انتخابات: 77
❌ شکست: 63 (تقریباً 80%)
اسمبلی انتخابات میں ریاست وار جیت و ہار
ریاست جیت شکست
آندھرا پردیش — 2014، 2019، 2024
اروناچل پردیش 2014 2019، 2024
آسام — 2016، 2021
بہار 2015 (گٹھबंधन) 2020، 2025
چھتیس گڑھ 2018 2023
گوا — 2017، 2022
گجرات — 2017، 2022
ہریانہ — 2014، 2019، 2024
ہماچل پردیش 2022 2017
جھارکھنڈ 2019، 2024 (گٹھबंधन) 2014
کرناٹک 2023 2018 (لیکن بعد میں حکومت)
کیرالا — 2016، 2021
مدھیہ پردیش 2018 2023
مہاراشٹر — 2014، 2019، 2024 (2019 میں بعد کی حکومت)
منی پور — 2017، 2022
میگھالیہ — 2018، 2023
میزورم — 2018، 2023
ناگا لینڈ — 2018، 2023
اڑیسہ — 2014، 2019، 2024
پنجاب 2017 2022
راجستھان 2018 2023
سکم — 2014، 2019، 2024
تمل ناڈو 2021 (گٹھबंधन) 2016
تلنگانہ 2023 2014، 2018
تریپورہ — 2018، 2023
اتراکھنڈ — 2017، 2022
اتر پردیش — 2007، 2012، 2017، 2022
مغربی بنگال — 2016، 2021
دہلی — 2015، 2020، 2025
پڈوچیری 2016 2021
جموں و کشمیر 2024 (گٹھबंधन) 2014

موجودہ صورتحال
2024 لوک سبھا کے بعد کانگریس کو ہریانہ، مہاراشٹر اور دہلی میں دھچکہ لگا، البتہ جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں اتحادی کامیابی ملی۔ اس دوران راہل گاندھی نے ایک بار پھر “ووٹ چوری” کا نعرہ بلند کیا ہے۔
بہار کے تازہ نتائج نے کانگریس کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کانگریس اپنی حکمتِ عملی بدلے گی یا پھر “آئینہ” صاف کرتی رہے گی۔
واضح رہے کہ سیاسی مخالفین کے برعکس، راہل گاندھی کی شکستوں کا شاہکار یعنی ’سنچری‘ ابھی بھی کافی دور ہے۔