روزنامہ انقلاب کے بانی عبد الحمید انصاری کی 50 ویں برسی پر صحافی فرزند خالدانصاری کی خودنوشت کا شاندار اجراء

انصاری صاحب نے اردو صحافت کوجدیددور میں پہنچایا
ممبئی،6مارچ (یواین آئی)مشہوراردوروزنامہ انقلاب کے بانی عبد الحمید انصاری کی پچاس ویں برسی فرزندخالدانصاری کی خودنوشت کا شاندار اجراء گزشتہ ہفتہ عروس البلادمیں سابق مرکزی وزیر ششی تھرور کے ہاتھوں ہوا،اس موقع پر شہرکی معزز شخصیات نے شرکت کی جن کا تعلق سیاست،ادب،صحافت اورکھیل کود کی دنیا تھا۔مذکورہ کتاب کی خوب پذیرائی ہوئی ہے۔
خالد انصاری نے اپنے والداور انقلاب کے بانی عبدالحمیدانصاری کاذکر اپنی کتاب”اٹیز اے ونڈرفل ورلڈ” کے پہلے باب میں کیا ہے جوکہ انہوں نے معروف صحافی جاوید جمال الدین سے منسوب کیا ہے،جنہوں نے مرحوم انصاری کی سوانح عمری لکھی ہے۔
واضح رہے کہ پچاس سال قبل۔7 مارچ 1972 کو عبدالحمیدانصاری نے داعی اجل کولبیک کہاتھا۔جب تک ان کا اخبارانقلاب ایک۔تناور درخت بن چکا تھا۔اخبار کی شروعات 1938 میں جدوجہدآزادی کرے دوران کی تھی ،حالانکہ اس سے قبل وہ آزادی کے لیے لڑتے ہوئے کئی بار جیل بھی گئے ۔

عبدالحمیدانصاری کے سوانح نگاراور صحافی جاوید جمال الدین نے کہاکہ بچپن میں والدین کی رحلت کے بعد انہوں نے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزاری اور یتیم خانہ میں بھی رہے۔لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ترقی کی منزلیں طے کرتے رہے۔ان کی سوانح عمری لکھنا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں رہا۔انہوں نے کہاکہ ایم فیل کی تیاری کے وقت ریسرچ کے دوران مرحوم بانی انقلاب کا ایک خط انہیں مل گیا جوکہ24 جنوری 1948 کو روزنامہ انقلاب،بمبئی میں بھی شائع ہوا تھا،جس میں انہوں نے اپنے عزیز واقارب کے پاکستان جانے کے مشورہ کو مسترد کرتے ہوئے کہاتھا کہ "میں نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ لیا ہے اور پانچ کروڑ مسلمانوں کے لیے کام کریں گے جنہوں نے وطن عزیز میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے،ہماری کوشش ہوگی کہ انہیں ایک نئے ملک میں جانے سے روکا جائے ۔”بلکہ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی جامع مسجد کی تقریر کا حوالہ بھی دیا کہ اپنے آبا واجداد کی اس زمین سے کہاں جاؤگے ،یہاں کی مساجد،مدارس،خانقائیں اور اللہ والوں کے آستانے کس کے سپرد کرکے جاؤ گے۔”

مذکورہ خط اکتوبر2000ء میں انقلاب کے سالانہ نمبرکے ایک شمارہ میں شائع ہوا اور مینیجنگ ڈائریکٹر طارق انصاری کی ہدایت پراس کا ترجمہ انگریزی میں مدیر انقلاب فضیل جعفری نے کیاتھا، جوکہ سنڈے مڈڈے میں نمایاں طور پرشائع کیاگیا پھر کیا تھا، جسے پڑھنے کے بعد چیئرمین خالد انصاری اور طارق انصاری نے فضیل جعفری اور عزیز کھتری پرنٹر پبلشر کے سامنے اپنے مرحوم والد کی سوانح عمری لکھوانے کی خواہش ظاہرکی اور جاوید جمال الدین کے نام کاقرعہ نکالا گیا، انہوں نے دل وجان لگا کر محنت کی اور ان کی موت کے تیس سال بعد ان کا بائیوگرافر بن گئے۔یہ دشوار گزر راہ تھی ۔جاوید کے۔مطابق روزنامہ انقلاب پہلا اردو اخبارتھا جس نے 1967 میں آفسیٹ پرنٹنگ پریس نصب کیا اور جنوبی ممبئی میں افتتاح بدست ادا کار دلیپ کمار ہواتھا ۔ یہ ایک نیا انقلاب تھا اوراس کی باگ ڈور ان کےفرزند خالد انصاری نے سنبھال لی تھی جوکہ امریکہ سے اعلی تعلیم اور جرنلزم میں ڈگری لیکر واپس لوٹ آۓ تھے ۔ جس کے بعد انقلاب کارنگ روپ اور خد و خال تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگی ،مرحوم انصاری صاحب کی متعد دخو بیاں تھیں لیکن عملے کے ساتھ ان کے بہتر تعلقات رکھنا ایک خصوی خوبی رہی تھی۔

عبدالحمید انصاری 7 مارچ 1972 کوانتقال کر گئے ،نصف صدی کا عرصہ گزر چکا ہے،ان کی امانت اب کسی اور ادارہ کی ملکیت ہے ،لیکن انقلاب فی الحال شمالی ہند کے متعدد شہرو ں سے شائع ہورہا ہے ،اورمشہور صحافی ودودساجد گروپ ایڈیٹر کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔انصاری صاحب کے انتقال کے بعد ایک تعزیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوۓ معروف شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی نے کہاتھا کہ” ہمارے یہاں اخبار سرمایہ دار نکالتے ہیں اور انہیں عوام پر مسلط کر دیا جاتاہے ۔ عبدالحمید انصاری نے سرمایے کے بغیر سخت محنت لگن اور جد و جہد کے ذریعے اخبار جاری کیا۔انہوں نے اس پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ انقلاب کو عام لوگوں کا تر جمان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اوراسے مقبول ترین اخبار بنادیا، انصاری صاحب نے مولانا ظفرعلی خاں اورمولانا ابوالکلام آزاد کی روایات کو زندہ رکھا اور انہیں آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ہم ان کی نئی یادگار قائم کرنے کے شوق میں ان کی پرانی یادگار انقلاب کو نہ بھول جائیں،وہ سیکولر ازم ،جمہوریت اور چھوٹی گنتی ( اقلیت کے لوگوں) کے حقوق کے علمبر دار تھے اور ہمیں یقین ہے کہ انقلاب ہمیشہ انہیں یاد رکھے گا۔”

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading