رام ہمارے لئے امام الہند » مسجد کی جگہ مندر بنانے کی حمایت میں اترے مولانا سلمان ندوی

نئی دہلی: لکھنؤ کے متنازعہ عالم دین مولانا سلمان حسینی ندوی نے جنہوں نے پچھلے سال شری شری روی شنکر کے ساتھ بابری مسجد اور رام مندر تنازعہ میں سمجھوتہ کرانے کی بات کہی تھی جس کی ملک بھر کے مسلمانوں نے جم کر مخالفت کیا تھی.

بابری مسجد مدعے پر سپریم کورٹ کے سمجھوتہ کمیٹی کی تشکیل کے بعد ایک بار پھر سلمان ندوی نے بیان دیکر چونکا دیا ہے،مولانا ندوی نے کہا که اسلامی شریعت مسجد شفٹ کرنے کی اجازت دیتی ہے اور رام بھی ہمارے لئے ایک پیغمبر کی مانند ہیں۔ کیونکہ علامہ اقبال نے متعدد شعروں میں رام کو امام الہند بتایا ہے اسلیے امن کی خاطر مسجد کے لئے دوسری جگہ بڑی زمین لیکر سمجھوتہ کر لینا چاہئیے۔ انہوں نے کہا که اسلامی شریعت میں مسجد کو شفٹ کرنے کی اجازت ہے۔ اسکے لئے انکا دعویٰ تھا که خلیفہ حضرت عمر رض نے کوفہ شہر میں ایک مسجد کو شفٹ کرکے اسکی جگہ پر کھجور کا بازار بنوا دیا تھا۔ اسکا مطلب ہے که مسجد کو شفٹ کرنا جائز ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے نے امید کے چراغ کو روشن کی ہے

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سابق رکن مولانا سلمان ندوی نے بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

سپریم کورٹ نے آج اپنے فیصلے میں کہا کہ بابری مسجد تنازع کو آپسی بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

بابری مسجد تنازعہ پر جس طرح سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر انہوں نے رد عمل ظاہر کیا، اس سے ملک میں ایک نئی امید کا چراغ روشن ہوا ہے۔

ای ٹی وی سے خصوصی بات کرتے ہوئے مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔ فریقین آپس میں بیٹھ کر اس معاملے کو آسانی سے سلجھا سکتے ہیں۔

مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ مسلم ممالک میں بھی مساجد منتقل کی جاتی رہی ہیں۔ ایسا ہی بابری مسجد کو منتقل کر کے کسی دوسری جگہ عالیشان مسجد کی تعمیر کی جائے ساتھ ہی یونیورسٹی بھی تعمیر ہو۔ نئی مسجد کا نام ‘مسجد اسلام’ ہو۔ انہوں نے آگے کہا کہ جن لوگوں نے بابری مسجد کو شہید کیا تھا، انہیں سزا بھی ملے۔

مولانا ندوی نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی یہ شرط لگائی تھی کہ بابری مسجد مسئلے کو حل کرنے کے بعد "سپریم کورٹ اس بات کی ضمانت دے کہ آئندہ ملک میں کسی مسجد، مدرسہ، خانقاہ یا قبرستان پر انگلی نہیں اٹھائی جائے گی۔”

مولانا سلمان ندوی اس کے پہلے بھی شری شری روی شنکر کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بابری مسجد تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر چکے تھے، لیکن اس میں مسلم سماج کے لوگوں نے ان کی باتوں پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔

ویڈیو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading