’رام کے نام پر اقتدار میں آئے لوگ ملک کو ناتھو رام کا ملک بنانے پر آمادہ‘

تیس جنوری یعنی وہ منحوس تاریخ جب ناتھورام گوڈسے نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا آج اسی تاریخ کو جامعہ کے پر امن مظاہرین پر ایک سر پھرے نے گولی چلائی جس میں ایک طالب علم زخمی ہو گیا ۔ گزشتہ کئی دنوں سے دہلی کا سیاسی ماحول بے انتہا خراب ہو رہا ہے اور اس کے لئے اگر کوئی ذمہ دار ہے تو وہ حکمراں جماعت بی جے پی ہے کیونکہ اس کے وزیر اور سینئر رہنما کے بیانات اسی طرح کے تھے جو کسی بھی وقت کسی کو بھی مشتعل کر سکتے ہیں ۔پرویش ورما، انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا نے پچھلے کچھ دنوں میں جوبیانات دئے ہیں اس کے بعد ایسا ہونے میں کسی کو کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے ۔

واضح رہے اتر پردیش کے ضلع گوتم بدھ نگر کے جیور علاقہ کے رہنے والے رام پال (بدلا ہوا نام) نے کئی روز سے سوشل میڈیا پر ایسے بیانات دینے شروع کر دئے تھے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق حملہ آوار کو نابالغ بتایا جا رہا ہے۔

ایک ویب سائٹ کی خبر کے مطابق رام پال نے بندوق نکالنے سے چند منٹ پہلے اس نے اپنے پیج پر لکھا ’’شاہین باغ، کھیل ختم۔‘‘۔ رام پال سال 2018 سے سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہے اور بندوق کے ساتھ اس کی تصاویر ہیں جس میں اس نے اپنے ہندوتوا کے رجحانات کو بھی ظاہر کیا ہو اہے ۔ 17 جنوری کی ایک پوسٹ میں رام پال نے ہریانوی زبان میں لکھا تھا ’’ رے عزت کھیل میں ہی نہیں ، جیل میں بھی ملیا کرے بھائی، پر وہ دھارا (دفعہ) دیکھی جایا کرے ، کون سی لگری سے ، جے ہندوتوا۔‘‘

رام پال کے اس عمل کی ہر جانب سے مزمت کی جا رہی ہے ۔ جے این یو طلبا ء یونین کے سابق صدر کنہیا کمار نے ٹویٹ کیا ہے ’’ دیکھئے ان تصویروں کو ۔ نفرت میں اندھا ہو کر آزاد ہندوستان کے پہلے دہشت گرد ناتھو رام گوڈسے نے 72 سال پہلے اسی طرح گاندھی جی کا قتل کیا تھا کیونکہ اسے لگتا تھا کہ ’باپو‘ ملک کے غدار ہیں ۔ آج رام کا نام لے کر اقتدار میں آئے لوگ ناتھو رام کا ملک بنا رہے ہیں ۔


ایک چینل نے اس خبر کو اس طرح دکھایا کہ جامعہ کے مظاہرین نے گولی چلائی ہے جس پر معروف صحافی راجدیپ سرڈیسائی نے ٹویٹ کیا ’’جامعہ میں کچھ گھنٹے رپورٹنگ کرنے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ مکمل طور سے فرضی خبر ہے ۔کسی بھی مہذب جمہوریت میں ایسے چینلوں کو 6 ماہ کے لئے معطل کر دینا چاہئے ۔ خالص زہر ۔‘‘ صحافت جو کسی بھی جمہوریت کا چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے اگر وہ ایسی خبروں کو دکھائے گا تو اس چوتھے ستون پر سوال تو کھڑے ہوں گے ہی ۔



شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی کے خلاف پہلے ہی پورے ملک میں مظاہرہ ہو رہے ہیں ۔ جہاں مظاہرین اپنے مطالبات پر پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں وہیں حکومت نہ تو قانون میں کسی قسم کی تبدیلی کی بات کر رہی ہے اور نہ ہی مظاہرین سے کوئی بات کرنے کے لئے تیار ہے ۔ ایسے ماحول میں ملک کا ماحول مستقل خراب ہو رہا ہے ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کے پاس جائے اور ان سے بات کر کے کوئی حل نکالے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading