ممبئ۔ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے اتحاد کی اس وقت چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ شیو سینا (ٹھاکرے گروپ) اور منسے کے درمیان ممکنہ اتحاد کے سلسلے میں پس پردہ سرگرمیوں کی باتیں سیاسی حلقوں میں زور پکڑ رہی ہیں۔ راج-ادھو کے ممکنہ اتحاد پر اب منسے کے رہنما امیت ٹھاکرے نے اپنا پہلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
مہاراشٹر کی سیاست میں ہمیشہ زیر بحث رہنے والا سوال — کیا ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے ایک ساتھ آئیں گے؟ — اس پر بالآخر امیت ٹھاکرے نے خاموشی توڑ دی ہے۔ ممبئی میں منسے کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں امیت ٹھاکرے شریک ہوئے تھے، جہاں انہوں نے میڈیا سے بات چیت کی۔ اس دوران جب ان سے منسے اور ٹھاکرے گروپ کے ممکنہ اتحاد پر سوال کیا گیا تو انہوں نے اس پر کھل کر بات کی۔
امیت ٹھاکرے نے کیا کہا؟
امیت ٹھاکرے نے کہا کہ ہمارے بولنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اگر دونوں بھائی ایک ساتھ آتے ہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر پہل کس کو کرنی چاہیے، یہ وہ دونوں طے کریں۔ وہ (راج ٹھاکرے) خود پہل نہیں کریں گے، لیکن راج ٹھاکرے کی جو بھی خواہش ہوگی، وہی میری خواہش ہوگی، ایسا انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
دونوں کے پاس فون نمبر ہیں، اب فیصلہ کریں…
امیت ٹھاکرے نے کہا کہ راج صاحب کی جو بھی خواہش ہوگی، وہی میری بھی ہوگی۔ اگر انہیں مناسب لگے تو وہ فون کریں۔ دونوں کے پاس ایک دوسرے کا نمبر موجود ہے۔ دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ آنا چاہیے یا نہیں، یہ وہ آپس میں طے کریں۔ ہم درمیان میں مداخلت نہیں کریں گے، ایسا امیت ٹھاکرے نے صاف طور پر کہا۔