بی ایم سی بدعنوانی کی آماجگاہ بن گئی، ممبئی کانگریس کے وفد نے میونسپل کمشنر سے کی ملاقات
"بی ایم سی میں ٹھیکیداروں کا راج، کانگریس کا کمشنر سے احتجاج"

ممبئی — (آفتاب شیخ)
گزشتہ تین برسوں سے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) میں کوئی منتخب نمائندہ نہ ہونے کے سبب ممبئی کی شہری انتظامیہ بری طرح درہم برہم ہوچکی ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ بی ایم سی اب ٹھیکیداروں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے، جہاں بدعنوانی، ناقص خدمات اور جوابدہی کا مکمل فقدان ہے۔
اسی تناظر میں ممبئی کانگریس کے ایک نمائندہ وفد نے منگل کو میونسپل کمشنر بھوشن گگرانی سے ملاقات کی اور ان کو ایک یادداشت پیش کی۔ وفد نے انتظامیہ کی ناکامیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
*پراپرٹی ٹیکس میں من مانے اضافے پر اعتراض*
کانگریس رہنماؤں نے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا قانونی حکم کے پراپرٹی ٹیکس میں کیے گئے اضافے پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو سپریم کورٹ کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ ممبئی کے شہریوں پر ایک "پچھلے دروازے سے تھوپا گیا بوجھ" ہے۔
*سڑک کنکریٹ کاری میں بے ضابطگیاں*
وفد نے بی ایم سی کی سڑک کنکریٹ کاری اسکیم میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف کیا۔ بتایا گیا کہ اب تک صرف 25 فیصد کام ہی مکمل ہوا ہے، جب کہ ٹھیکیداروں نے یوٹیلیٹی لائنز کو نقصان پہنچایا، معیاری جانچ کو نظر انداز کیا اور ٹینڈروں میں شفافیت کی شدید کمی رہی، خاص طور پر ان آرگینک فاسفیٹ پر مبنی جیو پالیمر کنکریٹ کے معاملے میں۔
*نالہ صفائی محض تماشہ*
کانگریس نے مانسون سے قبل نالوں کی صفائی کو "تماشہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورا عمل ٹھیکیداروں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ نہ کوئی نگرانی ہے، نہ کوئی جوابدہی۔ سارا نظام بدنظمی کا شکار ہے۔
*صحت کا نظام آئی سی یو میں*
شہر کے مضافاتی اسپتال، خصوصاً بھابھا، شتابدی، بھاگوتی اور راجاواڑی اسپتالوں کی حالت نہایت خراب ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کو نجی اسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ راجاواڑی اسپتال کی ازسرنو تعمیر میں ہو رہی تاخیر کو بھی مسئلہ بنایا گیا۔
*کچرا انتظامیہ تباہ، فیس لگانے کی تیاری*
بی ایم سی کوڑے پر ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جب کہ اس کا اپنا صفائی نظام ہی ناکارہ ہو چکا ہے۔ کرلا اور بوریولی میں سیور لائن کے کاموں میں تاخیر کو بھی اجاگر کیا گیا۔
*تعلیم میں لاپرواہی*
بی ایم سی اسکولوں کے طلبہ کو کتابیں اور یونیفارم تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔ اس پر کمشنر نے 15 جون تک تقسیم مکمل کرنے کا وعدہ کیا۔ کانگریس نے خبردار کیا کہ اگر اس تاریخ تک فراہمی نہیں ہوئی تو 16 جون کو دوبارہ میونسپل کمشنر سے ملاقات کی جائے گی۔
*پی اے پی اور ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹس تعطل کا شکار*
اندھیری، واکولا، کھار سمیت متعدد علاقوں میں پی اے پی اور ری ڈیولپمنٹ کے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ بلڈروں کی لاپروائی، ٹی ڈی آر کے غلط استعمال اور سرکاری بے حسی کے سبب یہ پروجیکٹس التواء میں ہیں۔
*دیگر اہم مسائل بھی اٹھائے گئے*
وفد نے بی ایم سی کی مرکزی خریداری میں بدعنوانی، ہاکنگ پالیسی میں تاخیر، اور مسلم قبرستانوں میں سہولیات اور جگہ کی کمی جیسے حساس مسائل پر بھی توجہ دلائی۔
*کانگریس کے مطالبات*
کانگریس نے بی ایم سی کے ٹھیکیداروں اور افسران کے خلاف اینٹی کرپشن بیورو (ACB) سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ اسٹورم واٹر ڈرینج اور کنکریٹ کاری منصوبوں کا آزادانہ آڈٹ اور بی ایم سی کے ٹینڈروں کی غیر جانب دار نگرانی بھی ان کے مطالبات میں شامل ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ جب تک شہر میں عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہوں گے، ممبئی کے شہریوں کی آواز دبائی جاتی رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ
ٹھیکیداروں اور افسرشاہی کے گٹھ جوڑ سے جاری اس ‘حکمرانی کے ٹھیکے’ کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔