نئی دہلی: دہلی کی 1700 سے زیادہ غیر منظور شدہ بستیوں کو منظوری اور رہائشیوں کو مالکانہ حق دینے سے متعلق بل پر بدھ کو پارلیمنٹ کی مہر لگ گئی۔ راجیہ سبھا نے تین گھنٹے تک چلی بحث کے بعد ’ ’قومی دارالحکومت علاقہ دہلی (غیر منظور شدہ کالونیوں میں رہنے والے لوگوں کے امکلاک کے حقوق کی منظوری ) بل ، 2019 کو ثوتی ووٹوں سے پاس کردیا۔لوک سبھا نے اسے پچھلے ہفتے اپنی منظوریر دی تھی۔
مکانات اور شہری امور کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل دہلی کی 40لاکھ کی آبادی کو راحت دے گا۔اس سے لوگوں کو اپنے مکان اور زمین پر مالکانہ حق مل سکے گا اور وہ اس پر قرض وغیرہ لے سکیں گے۔اس کے علاوہ اس سے ان کو بنیادی سہولیات بھی مہیا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ غیر منظور شدہ بستیوں کو منظوری دینے کے بعد جائیداد رجسٹری خواتین کے نام سے یا خاتون اور مرد دونوں کے نام سے مشترکہ طورپر ہوگی۔رجسٹری کےلئے معمولی فیس چکانی ہوگی۔ ان زمینوں کی رجسٹری کا عمل 16دسمبر سے شروع ہوجائےگا۔سبھی عمل آن لائن ہوں گے۔
اس سے پہلے بل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جھگی بستیوں میں 20لاکھ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں ۔ان لوگوں کے لئے خصوصی منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ایسی بستیوں کی تعداد 190 ہے جس میں سے 30کا سروے ہوچکا ہے اور 160 کے سروے کا کام چل رہا ہے۔ پوری نے اس قدم کو مرکزی حکومت کی مضبوط سیاست اور قوت ارادی کا ثبوت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اپریل مئی میں لانے کی تیاری شروع ہوئی تھی اور وہ بھی تب جب دہلی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ کالونیوں کو ریگولرائز کرنے کے پہلے ڈیجیٹل میپ کےلئے دو سال کا وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ قانون 1796کالونیوں کے بارے میں ہے جن کی نشاندہی 2008 میں غیر منظور شدہ کالونیوں کے طورپر کی گئی تھی۔یہی ان کالونیوں کے بارے میں اب تک کا سب سے تٖفصیلی دستاویز ہے۔11سال میں کچھ نہیں کیاگیا جبکہ ان کالونیوں کی تعداد بڑھ گئی انہوں نے کہا کہ ان کالونیوں میں سے 65 کو اس بل کے دائرے میں شامل نہیں کی گئی ہے کیونکہ ان میں مکمل طورپر خوشحال لوگ رہتے ہیں ،ان کے سلسلے میں الگ سے کام کیا جائےگا۔
وزیر نے کہا کہ سو مربع فٹ کے پلاٹ کےلئے 1217روپے کی کل رجسٹریشن فیس بہت ہی کم اور مفت جیسی ہی ہے۔مرکزی حکومت اس رجسٹریشن فیس سے مرکزی حکومت کے تحت ایک سماجی ترقی فنڈ بنائےگی۔خالی زمین پر آسان شرطوں اور اصولوں کے ساتھ کمیونٹی ہال ،پارک وغیرہ بنائے جائیں گے۔رکن پارلیمنٹ بھی مقامی ترقی فنڈ کا استعمال کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں لوگوں کو غیر منظور شدہ کالونیوں میں زمین کا مالکانہ حق اور جائیداد کے رجسٹریشن کوآسان کرانے کی اصلاح نافذ کرنے کےلئے ان کالونیوں کا ڈیجیٹل میپ کیا جائےگا۔اس کے بعد شہری فلاح و بہبود یونین کو اس ڈیجیٹل میپ کو فوراً بھیجا جائےگا اور ان سے 15دن کے اندر کالونیوں کے چاروں کونوں کی تصویریں کھینچ کر پورٹل پر اپلوڈ کی جائیں گی۔پورٹل 16دسمبرسے شروع ہوجائےگا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
