نئی دہلی: سی اے اے کے خلاف خواتین کے مظاہرہ کرنے کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہو چکے شاہین باغ میں دہلی انتخابات کا خاصہ اثر نظر آ رہا ہے۔ ہفتہ کی صبح ووٹنگ کا عمل شروع ہوتے ہی شاہین باغ واقع ’شاہین پبلک اسکول‘ میں لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ شاہین باغ کے دیگر پولنگ بوتھ پر بھی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔

شاہین باغ کا علاقہ اوکھلا اسمبلی حلقہ میں آتا ہے اور یہاں سے موجودہ رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو عآ نے پھر سے امیدوار بنایا ہے۔ کانگریس کی جانب سے اس سیٹ پر پرویز ہاشمی جبکہ بی جے پی کی طرف سے برہم سنگھ بدھوڑی کو امیدوار بنایا گیا ہے ۔
دہلی کی تمام 70 نشستوں کے لئے سنیچر کی صبح 8 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی (عآپ) ، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس میں سہ رخی مقابلہ ہے۔
A queue of voters at a polling booth in Shaheen Public School in Shaheen Bagh, Okhla. AAP's Amanatullah is the sitting MLA and 2020 candidate of the party, he is up against Congress's Parvez Hashmi and BJP's Brahm Singh Bidhuri. #DelhiElections2020 pic.twitter.com/4hB60BtqGd
— ANI (@ANI) February 8, 2020

شاہین باغ کی خاتون ووٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حق رائ دہی کا استعمال کرتے ہوئے ایک بہتر حکومت کا انتخاب کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے علاقے میں ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔

جامعہ ہمدرد سے بی ایس سی کارڈیالوجی کی تعلیم حاصل کرنے والی شاہین باغ کی رہائشی وجیہہ فتح نے کہا کہ دہلی کا اقتدار اسی کو حاصل ہونا چاہئے جو راجدھانی کو ترقی کی طرف لے جائے اور عوام کے حق میں بہتر کام کرے۔
زویا بھی شاہین باغ میں رہتی ہیں اور ’سرودیا کنیا اسکول‘ میں کلاس 12 کی طالبہ ہیں، انہوں نے کہا، ’’کسی کو بھی مذہب کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگنا چاہئے اور نہ ہی میں مذہب کے نام پر ووٹ کروں گی۔ مجھے ایسی حکومت چاہئے جو ترقی کا خیال رکھے اور سیکولر ہو کر سبھی پر یکساں طور پر توجہ دے۔‘‘
نشاط فاطمہ جامعہ میں بی بی اے کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبا کو بہتر سہولیات ملنی چاہئیں ، جہاں بھی وہ رہتے ہیں اس کی سیکیورٹی کی جانی چاہئے۔ شاہین باغ میں سی اے اے مخالف مظاہرے پر انہوں نے کہاکہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو