دہلی وقف بورڈ میں اسٹاف کے لئے ڈریس کوڈ نافذ

نئی دہلی: دہلی بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان دفتر کی تزئین کاری، بورڈ عملہ کو جدیدٹکنالوجی سے لیس کرنے اور ہر طرح کی سہولت مہیا کرانے کے ساتھ دفترمیں ڈریس کوڈ نافذکرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ بورڈ کے داخلی ماحول کو پیشہ وارانہ بنایا جاسکے۔ ہفتہ کے روز جاری پریس بیان کے مطابق آفس اور آفس سے باہر سائٹ پر جاتے وقت بھی بورڈ عملہ کو پیشہ وارانہ ورک کلچر کا احساس ہواور ذمہ داری و ڈسپلن کے ساتھ کام کوانجام دیاجائے۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں یہ طے کیاگیا کہ دہلی وقف بورڈ میں ڈریس کوڈ لاگو کیا جائے،ڈریس کے طور پر مرد حضرات کے لئے سلیٹی کلر کی پینٹ اور سفید شرٹ جبکہ خواتین کے لئے سلیٹی کلر کی قمیص اور سفید شلوار کا انتخاب کیا گیا۔

جاری ریلیز کے مطابق چیئرمین امانت اللہ خان کی ہدایت اور بورڈ کے فعال رکن حمال اختر کی دلچسپی سے ہر ملازم کو دو جوڑی ڈریس تقسیم کی جارہی ہے جس کے لئے بورڈ کی جانب سے ٹیلر کا بھی نظم کیا گیا ہے تاکہ بورڈ کا سارا عملہ جلد سے جلد ڈریس سلواکر سختی کے ساتھ ڈریس کی پابندی کرے۔

تفصیل کے مطابق گزشتہ دنوں وقف بورڈ کے رکن حمال اختر نے عملہ کو ڈریس کا کپڑا تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھابورڈ کے عملہ کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے اس لئے آج آپ سب کو ڈریس دی جارہی ہے تاکہ وقف بورڈ کے پیشہ وارانہ ماحول میں اضافہ اور بورڈ سے باہر بھی عملہ کی پہچان ممکن ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی وقف بورڈ میں جہاں وقف جائدادوں کے خارجی انتظامات کو بہتر بنانے اور ان جائداد سے بورڈ کو ہونے والی آمدنی میں اضافہ کی لگاتار کوشش ہورہی ہے وہیں عملہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ڈریس کوڈ کی پابندی ضروری ہے خلاف ورزی کرنے پر تادیبی کار روائی کی جائے گی۔

حمال اختر نے مزید کہاکہ دہلی وقف بورڈ سے منسلک ہر شخص کا خیال بورڈ رکھے گا مگر بورڈ کی عزت و وقار کا خیال رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے،انہوں نے آگے کہا کہ ہمیں آپ کی جانب سے قطعی ایسی شکایت نہ ملے جس سے بورڈ کی بدنامی ہو یا بورڈ کو جس عزت و وقار کی نظر سے دیکھا جارہاہے اس پر حرف آئے۔اس موقع پر ڈریس لیتے ہوئے بورڈ عملہ کافی خوش نظر آیااور تمام ملازمین نے بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان اور اراکین کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading