پٹنہ: بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے ریاست میں گروپ ڈی (چوتھے زمرے) کی اسامیوں کے لئے سب سے زیادہ ایم بی اے، ایم سی اے اور بی ٹیک امیدواروں کی درخواست کے سلسلے میں وزیر اعلی نتیش کمار کو نشانہ بنایا ہے۔ تیجسوی یادو نے آج کہا کہ ریاست میں گزشتہ 15 سال میں نتیش اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں نوجوانوں کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے۔
15 वर्षों के नीतीश-भाजपा राज में बिहार में युवाओं की दयनीय स्थिति।
ग्रुप-डी के 186 पदों जैसे चपरासी,माली और सफाईकर्मी के लिए 5 लाख से अधिक लोगो ने आवेदन दिया है। इनमे अधिकांश MBA/MCA/M.COM/B.Tech है।
तक़रीबन 3-5 सेकंड में एक व्यक्ति का इंटरव्यू हो रहा हैhttps://t.co/Pqeoi2NzMR
— Tejashwi Yadav (@yadavtejashwi) November 23, 2019
تیجسوی یادو نے ٹوئٹر پر بتایا کہ "15 سال کی نتیش-بی جے پی حکومت میں بہار میں نوجوانوں کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے۔ گروپ ڈی (چوتھے زمرے) کی 186 اسامیوں جن میں چپراسی، مالی اور صفائی کرنے والے ملازمین کے لئے پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں نے درخواست دی ہے۔ ان میں زیادہ تر ایم بی اے (ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن)، ایم سی اے (ماسٹر آف کمپیوٹر اپلی کیشن)، ایم- کام (کامرس میں ماسٹرز) اور بی ٹیک کے طلبا ہیں۔
واضح رہے کہ بہار اسمبلی میں گروپ ڈی کے لئے 186 پوسٹوں کو پر کرنے کے لئے پانچ لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے درخواست دی ہے۔ اس کے لئے 04 ستمبر سے ہی اسمبلی احاطے میں انٹرویو چل رہا ہے اور ابھی تک تقریباً چار لاکھ سے زیادہ طالب علموں نے انٹرویو دے دیئے ہیں جبکہ باقی درخواست دہندگان کے لئے انٹرویو کا عمل جاری ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
