نئی دہلی: سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای)نے شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے سبب امتحانات ملتوی کر دی تھیں۔ دسویں اور بارہویں کی بورڈ کے امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ سی بی ایس ای کے سبب ملتوی دسویں کی امتحان 21 سے 30 مارچ تک ہوں گی جبکہ 12 ویں کے امتحان 31 مارچ سے 14 اپریل کے درمیان ہوں گی۔
CBSE issues new exam schedule for students who could not appear due to situation prevalent in North East district of Delhi. See details at link https://t.co/O38VKW8YnD@DrRPNishank @HRDMinistry@PTI_News @DDNewslive @PIB_India @AkashvaniAIR @OfficeOfSDhotre
— CBSE HQ (@cbseindia29) March 9, 2020
یہ امتحان ان تمام طلبہ کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں جو شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے سبب بورڈ کے امتحانات کے متعینہ دن امتحان نہیں دے سکے تھے۔ سی بی ایس ای نے کہا کہ طلبہ سے 14 مارچ تک اپنے اپنے اسکولوں سے اس بارے میں رابطہ کریں۔ قابل ذکر ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کے مخالف مظاہروں کے سبب شمال مشرقی دہلی میں بورڈ کے امتحانات کے دوران تشدد کے کئی واقعات ہوئے تھے۔ اسی کے پیش نظر سی بی ایس ای نے کچھ امتحانات ملتوی کر دیے تھے۔
نئے جاری ہونے والے نئے شیڈول کے مطابق سی بی ایس ای کی 12 ویں جماعت کے لئے فزکس کا امتحان 31 مارچ کو ہوگا، جب کہ 12 تاریخ کا انگلش الیکٹیو اور کور کا پرچہ یکم اپریل کو ہوگا۔ اس کے علاوہ کیمسٹری کا امتحان 4 اپریل کو، سنسکرت کا امتحان 7 اپریل کو، ہسٹری 9 اپریل کو، اکاؤنٹنس 11 اپریل کو اور پولیٹیکل سائنس کا پرچہ 14 اپریل کو ہوگا۔
ئے شیڈول کے مطابق سی بی ایس ای 10 ویں بورڈ انگلش کا پرچہ اب 21 مارچ کو ہوگا۔ اس کے علاوہ 24 مارچ کو سائنس کا، 27 مارچ کو سنسکرت کا اور 30
مارچ کو ہندی کا پرچہ ہوگا۔
سی بی ایس ای نے ان امتحانی مراکز کی فہرست بھی جاری کردی ہے جہاں 26 فروری، 27 فروری، 28 فروری اور 29 فروری کو امتحانات منسوخ کر دیئے گئے تھے۔ اب ان امتحانی مراکز کے طلباء نئے شیڈول کے مطابق امتحان دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ، جن طلبا کے امتحانی مراکز دوسرے علاقوں میں تھے ، لیکن وہ اپنے علاقے میں تشدد کی وجہ سے امتحان نہیں دے سکے، ایسے طلباء بھی امتحان دے سکیں گے۔ ایسے طلبا 14 مارچ تک اپنے اسکولوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ سی بی ایس ای نے اسکولوں سے 16 مارچ تک ایسے طلبا کی فہرست فراہم کرنے کو کہا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو