دہلی فسادات: امن بحالی کے لئے پولیس کمشنر سڑک پر اترے

نئی دہلی: راجدھانی میں گزشتہ دنوں ہوئے تشدد کے پیش نظر ہولی کے دن منگل کو پولیس کمشنر ایس این سریواستو نے خود ہی محاذ سنبھالا اور امن بحالی کی کوشش کی۔ پولیس کمشنر نے شمال مشرق۔ جنوبی اور جنوب مشرقی ضلع سمیت کئی علاقوں کا دورہ کرکے ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی اور مٹھائی کھلاکر ہولی کی نیک خواہشات دیں۔

شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات اور راجدھانی کے کئی علاقوں میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرہوں کے پیش نظر دہلی پولیس نے صبح سے ہی پوری چوکسی برتی۔ پولیس نے اعلی حکام ٹیم و دستہ کے ساتھ تمام اضلاع میں گشت کرتے نظر آئے۔ راجدھانی کے تمام حساس علاقوں میں پولیس نے مارچ نکالا جبکہ اہم سڑکوں پر بیری کیڈ لگاکر آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھ رہی ہے۔

دہلی پولیس کے ایڈیشنل پبلک ریلیشنس افسر انل متل نے کہاکہ پولیس کمشنر نے کئی علاقوں کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کا حوصلہ بڑھایا اور مٹھائی کھلاکر ہولی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے کمشنر نے تشدد سے متاثرہ شمال مشرقی ضلع میں پولیس دوست اور امن کمیٹی کے اراکین سے بھی ملاقات کرکے انہیں ہولی کی مبارکباد دی اور علاقہ میں امن بحالی میں انکی کوششوں کی تعریف کی۔

متل نے کہاکہ غلط طریقہ سے گاڑی چلانے والوں اور دیگر لوگوں پر نظر رکھنے کے لئے ٹریفک پولیس کی طرف سے 170سے زائد ٹریفک پکیٹس لگائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دہلی یونیورسٹی نارتھ اور ساوتھ کیمپس میں خواتین پولیس اہلکاروں کوبھی تعینات کیا گیا تھا۔

جنوبی رینج کے جوائنٹ کمشنر دیویش سریواستو، جنوبی دہلی کے ڈپٹی پولیس کمشنر اتل ٹھاکر اور دیگر حکام نے جنوبی دہلی ضلع کے حساس علاقوں میں پیدل مارچ نکالا اور مقامی لوگوں سے ملاقات کی۔مغربی دہلی کے مادی پور اور موتی نگر میں بھی پولیس نے مارچ نکال کر امن اور بھائی چارہ کا پیغام دیا۔

اس سے پہلے دہلی پولیس نے افواہوں یا نفر ت آمیز پیغامات پھیلانے والوں کو ہوشیار کرتے ہوئے کہاکہ ایسا کرنے والوں کو پانچ برس کی سزا ہوسکتی ہے۔ دہلی پولیس نے اپنے پیغام میں کہا کہ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر اور مسیجنگ ایپس پر نفرت آمیز یا اشتعال انگیز پیغام یا ویڈیو پھیلانااور شیئر کرنا تعزیرات ہند کی دفعہ 153اے، آئی پی سی دفعہ 295اے اور آئی پی سی دفعہ 505کے تحت ایک قابل سزا جرم ہے۔ قصورواروں کو جرمانہ یا پانچ برس کی قید ہوسکتی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading