دہلی تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 25، حالات کشیدہ

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے حوالہ سے پھیلے تشدد میں بدھ کو مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہوگئی ہے۔ علاقہ میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود بھی گوکل پوری میں بدھ کی صح کے وقت کچھ شرپسند عناصر نے ایک دکان میں آگ لگا دی۔ شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے معاملہ پولیس نے 18 ایف آئی آر درج کرکے 106 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

دہلی پولیس کے رابطہ عامہ کے افسر مندیپ سنگھ رندھاوا نے کہاکہ پولیس تشدد کرنے والے شرپسند عناصر کی شناخت کرنے کے لئے جانچ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات کنٹرول میں ہیں اور لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔ راندھاوا نے کہاکہ اگر کسی نے بھی حالات خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالات قابومیں رکھنے کے لئے پولیس اور نیم فوجی دستے مسلسل علاقہ میں مارچ کررہے ہیں۔

اس درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی میں گزشتہ تین دن سے جاری تشدد کے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا اور لوگوں سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی۔ مسٹر مودی نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ انہوں نے دہلی کے مختلف علاقوں میں حالات کا جائزہ لیا ہے۔ پولیس اور دیگر ایجنسیاں حالات معمول پر لانے اور امن قائم رکھنے کے لئے زمینی سطح پر کام کررہی ہیں۔

انہوں نے ایک دیگر ٹوئٹ میں کہا کہ امن اور ہم آہنگی ہمارامزاج رہا ہے۔ میں دہلی کے بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن اور بھائی چارہ ہمیشہ قائم رکھیں۔ حالات کو جلد از جلد معمول پر لانا اور امن قائم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملہ کی سماعت کے دوران تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے سرکاری وکیل کو پولیس کمشنر کو تشدد سے متعلق ویڈیو کی جانچ کرنے اور مبینہ طورپر اشتعال انگیز تقریر کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کا مشورہ دینے کے لئے بھی کہا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading