دہلی انتخابات LIVE : ماڈل ٹاؤن اسمبلی حلقہ کے عآپ امیدوار پر حملہ!


ماڈل ٹاؤن سے عام آدمی پارٹی امیدوار اکھلیش پتی ترپاٹھی پر حملہ

ماڈل ٹاؤن سے عام آدمی پارٹی امیدوار اکھلیش پتی ترپاٹھی پر حملہ ہوا ہے۔ اس حملہ کے تعلق سے عآپ لیڈر سنجے سنگھ نے ٹوئٹ کیا ہے اور بتایا ہے کہ حملہ کرنے والے بی جے پی کے غنڈے تھے اور ان کے خلاف پولس کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ اس تعلق سے انتخابی کمیشن سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لے اور بی جے پی کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کرے۔ حملہ ووٹنگ سے پہلے کی رات کیا گیا جس میں وہ معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 2015 کے دہلی اسمبلی انتخاب میں بھی ان پر حملہ ہوا تھا اور زخمی حالت میں انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بعد ازاں جب الیکشن نتیجہ سامنے آیا تھا تو وہ فتحیاب ہوئے تھے۔


شاہین باغ میں ووٹنگ شروع ہوتے ہی لوگوں کی لگی لمبی قطاریں

ووٹنگ کا عمل شروع ہوتے ہی شاہین باغ واقع ’شاہین پبلک اسکول‘ میں لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ شاہین باغ کے دیگر پولنگ بوتھ پر بھی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اوکھلا اسمبلی حلقہ سے عآپ کے امانت اللہ خان کھڑے ہیں جو اس وقت اوکھلا اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی ہیں۔ کانگریس کی جانب سے اس سیٹ پر پرویز ہاشمی کھڑے ہیں جب کہ بی جے پی نے برہم سنگھ بدھوری کو کھڑا کیا ہے۔


دہلی انتخابات: دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں کےلئے ووٹنگ شروع

دہلی اسمبلی کی 70 سیٹوں کے لئے ٹھیک 8 بجے ووٹنگ شروع ہوگئی اور یہ ووٹنگ شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔آج کی ووٹنگ کے لئے الیکشن کمیشن نے خصوصی انتظامات کئے ہیں ۔ ووٹنگ کے لئے 13ہزار 750 مراکز بنائےگئے ہیں ۔ 70 سیٹوں کے لئے 672 امیدوار میدان میں ہیں ۔ دہلی میں مقابلہ تین سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہیں جس میں ریاست میں بر سر اقتدار جماعت عام آدمی پارٹی ، مرکز میں بر سر اقتدار جماعت بی جے پی اور دہلی میں 15 سال حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی ہے ۔ویسے دہلی میں جنتا دل یو ، بی ایس پی اور کئی دیگر پارٹیاں بھی اپنی قسمت آزما رہی ہیں ۔ 148 آزاد امیدواربھی میدان میں ہیں ۔

انتخابی تشہیر کے دوران جہاں کیجریوال کی عآپ نے ووٹر کےسامنے اپنے کام گنوانے کی کوشش کی تو وہیں کانگریس نے اپنے دور کے کاموں کو عوام کےسامنے پیش کیا لیکن بی جے پی کے پاس کیونکہ عوام کے سامنے کچھ پیش کرنے کے لئے نہیں تھا تو اس نے قوم پرستی اور شاہین باغ پر ہی اپنی پوری انتخابی تشہیر مرکوز رکھی۔


انتخابات کے پیش نظر دہلی پولیس نے سیکیورٹی بڑھا دی ہے ، اتر پردیش اور ہریانہ سے آنے والی گاڑیوں کی جانچ ہو رہی ہے ۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری مظاہروں کی وجہ سے جامعہ میں حفاظتی انتظامات سخت کر دئے ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading