لکھنؤ: بہوجن سماج وادی پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے ضلع ہردوئی میں 20 سالہ ایک دلت نوجوان کو معاشقہ کے معاملے میں مبینہ طور سے زندہ جلائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
उत्तर प्रदेश के हरदोई जिले में प्रेम-प्रसंग को लेकर जाति के नाम पर एक दलित युवक को जिन्दा जला देना, यह अति-क्रूर व अति निन्दनीय है। सरकार इसके दोषियों को तुरन्त सख्त सजा दिलाये ताकि प्रदेश में आगे ऐसी कोई पुनरावृति ना हो सके, बी.एस.पी. की यह माँग है।
— Mayawati (@Mayawati) September 18, 2019
مایاوتی نے بدھ کو اس حادثے کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ’’اترپردیش کے ضلع ہردوئی میں معاشقہ کے سلسلے میں ذات کے نام پر ایک دلت لڑکے کو زندہ جلادینا، یہ کافی وہشت ناک اور قابل مذمت ہے۔ بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ حکومت قصور واروں کو فورا سزا دلائے تاکہ ریاست میں اس طرح کے واقعات دوبارہ وقوع پذیر نہ ہوں‘‘۔
قابل ذکر ہے کہ اترپردیش کے ضلع ہردوئی میں دیگر سماج کی لڑکی سے معاشقہ کے سلسلے میں 15 ستمبر کو لڑکی والوں نے دلت نوجوان کو زندہ جلا دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق لڑکی والوں نے ابھشنک نامی نوجوان کو اپنے گھر بلایا تھا جہاں اسے مبینہ طور سے جلا دیا گیا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق رادھے گپتا نے گزشتہ اتوار یعنی 15 ستمبر کو اپنے 4 ساتھیوں کے ساتھ مل کر ابھشنک کو چارپائی سے باندھ دیا اور اس پر پٹرول چھڑک دیا۔ اس کے بعد انھوں نے چارپائی میں آگ لگا دی جس کی وجہ سے ابھشنک بری طرح جل گیا۔
ملزم سے جب پولس نے اس بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ ’’میں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ اپنی فیملی کی عزت بچانے کے لیے کیا ہے۔‘‘
ابھشنک کو ہردوئی کے ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں سے ڈاکٹروں نے اسے لکھنؤ کے ٹراما سنٹر ریفر کردیا۔ ٹراما سنٹر لے جاتے وقت راستے میں ابھشنک زخموں کی تاب نہ لاسکا اور دم توڑ دیا۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
