تحریر : شیخ عمران کھڑکپورہ ناندیڑ
دوستوں سے محبت کیجیے .اور دوستوں کے لیے مرکز محبت بنیے.وہ شخص انتہائ خوش نصیب ہے جس کواس کے دوست احباب عزیز رکھتے ہوں اور وہ دوست احباب کو عزیز رکھتا ہوں اور وہ شخص انتہائ محروم ہے جس سے لوگ بیزار رہتے ہوں اور وہ لوگوں سے دور بھاگتا ہو, مفلس وہ نہیں ہے جس کے پاس دولت نہ ہو بلکہ حقیقت میں سب سے مفلس وہ ہے جس کا کوئ دوست نہ ہوں دوست زندگی کی زینت سفر حیات کا سہارا اور اللہ کا انعام ہے دوست بنایے اور دوست بنیے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ” مومن سراپا الفت ومحبت ہے اور اس آدمی میں سرے سے کوئ خیر نہیں ہے جو نہ تو دوسروں سے محبت کریں اور نہ دوسرے اس سے محبت کریں ( مشکوہ)
مومن مرد مومن عورتیں آ پس میں ایک دوسرے کے دوست اور معاون ہیں (سورہ التوبہ 71 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور ہر ایک یہ محسوس کرتاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اسی کو چاہتے ہیں حضرت عمروبن العاص کہتے ہیں کہ نبی اس توجہ اور خلوص کے ساتھ مجھ سے گفتگوں فرماتے اور اتنا خیال رکھتے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ شاہد میں اپنی قوم کا سب سے بہتر آدمی ہوں اور ایک دن نبی سے پوچھ بیھٹا کہ یارسول اللہ میں افضل ہو یا ابوبکر نبی نے ارشاد فرمایا ابوبکر افضل میں پھر پوچھا میں افضل ہو یا عمر فرمایا عمر میں نے پھر پوچھا کہ یارسول اللہ میں افضل ہویا عثمان ارشاد فرمایا عثمان پھر میں نے نبی سے بڑی وضاحت کے ساتھ حقیقت معلوم کی اور آپ نے بلارعایت صاف صاف بات کہہ دی تب تو مجھے اپنی اس حرکت پر بڑی شرم آی اور میں دل میں خیال کرنے لگا کہ بھلا ایسی بات پوچھنے کی مجھے کیا ضرورت تھی.
دوستوں کے ساتھ مل جل کر محبت کی زندگی گزارے اور مخلصانہ تعلقات قائم کرنے اور قائم رکھنے کی کوشش کریں دوستوں سے نفرت بیزارگی کی روش چھوڑدیں جب آدمی دوستوں میں مل جل کر رہتاہے اور ہر معاملہ میں ان کا شریک رہتاہے تو اس کے نتیجے میں اس کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچتی ہیں کھبی اس کے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے کھبی اس کےوقار کو صدمہ پہنچاہے کھبی اس کےآرام میں خلل پڑتاہے کھبی اس کے معمولات متاثر ہوتے ہیں کھبی اس کی خواہش اور رجحان کے خلاف باتیں سامنے آتی ہے کھبی اس کے صبر وبرداشت کرتا ہے تو اس کے قلب میں اس سے جلا پیدا ہوتا ہے اچھے اخلاق نشوونما پاتے ہے اور وہ تربیت و تزکیے کے فطری منازل سے گزرتا ہوا روحانی و اخلاقی ترقی کرتا ہے اس میں تحمل و بردباری ایثار وشفقت ہمدردی وغمگساری مروت وفاداری خیر خواہی تعاون خلوص ومحبت سخاوت وشجاعت مواسات کے اعلی ترین جذبات پیدا ہوتے ہیں اور وہ انسان معاشرے کے لیے سراپا خیر وبرکت بن جاتاہے ہر دل میں اس کے لیے قدر وعظمت کے جذبات ہوتے ہیں اور ہر انسان اس کے وجود کو اپنے حق میں رحمت کا سایہ سمجھتا ہے .
اللہ ہمیں اپنے دوستوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرما آمین