جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے خلاف آج سری نگر میں خواتین کا زبردست احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق صفیہ اور ثریا اس سول سوسائٹی کے احتجاجی مظاہرے میں حصہ لے رہی تھیں جو کہ خواتین سے جڑی ہوئی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ثریا اور صفیہ بازو پر کالی پٹی باندھ کر اور ہاتھ میں تختیاں لے کر سری نگر کے لال چوک پر مظاہرہ کر رہی تھیں۔ وہاں موجود پولس نے انھیں یہ مظاہرہ بند کرنے اور پرسکون طریقے سے گھر واپس جانے کے لیے کہا، لیکن خواتین نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ پولس کے ذریعہ مظاہرہ بند کرانے کی کوشش کو دیکھتے ہوئے کئی خواتین وہیں دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ کر پولس نے مظاہرے کی قیادت کر رہیں ثریا اور صفیہ کو حراست میں لے لیا۔
Srinagar: Farooq Abdullah's sister Suraiya and daughter Safiya detained during a protest against abrogation of #Article370 https://t.co/E28i4c96zu pic.twitter.com/oAbrIiC3Rs
— ANI (@ANI) October 15, 2019
میڈیا کارکنان نے جب حراست میں لی گئیں ثریا اور صفیہ سے بات چیت کرنے کی کوشش کی تو سی آر پی ایف نے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا کہ وہ ان کا بیان نہیں لے سکتے۔ اس درمیان خواتین یہ کہتی ہوئی نظر آئیں کہ وہ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کو دو ریاستوں میں تقسیم کیے جانے کی مخالفت کرتی ہیں اور یہ یکطرفہ فیصلہ انھیں نامنظور ہے۔

دوسری طرف این ڈی وی کی خبروں کے مطابق جموں و کشمیر میں موبائل ایس ایم ایس خدمات کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حالانکہ پیر کے روز ہی 72 دن کے بعد پوسٹ پیڈ موبائل نیٹورک خدمات بحال کی گئی تھیں اور اس کے کچھ ہی گھنٹے بعد ایس ایم ایس خدمات بند کر دی گئیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
