دفعہ 370: مودی حکومت کے خلاف خواتین کا مظاہرہ، فاروق عبداللہ کی بہن-بیٹی گرفتار

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے خلاف آج سری نگر میں خواتین کا زبردست احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق صفیہ اور ثریا اس سول سوسائٹی کے احتجاجی مظاہرے میں حصہ لے رہی تھیں جو کہ خواتین سے جڑی ہوئی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ثریا اور صفیہ بازو پر کالی پٹی باندھ کر اور ہاتھ میں تختیاں لے کر سری نگر کے لال چوک پر مظاہرہ کر رہی تھیں۔ وہاں موجود پولس نے انھیں یہ مظاہرہ بند کرنے اور پرسکون طریقے سے گھر واپس جانے کے لیے کہا، لیکن خواتین نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ پولس کے ذریعہ مظاہرہ بند کرانے کی کوشش کو دیکھتے ہوئے کئی خواتین وہیں دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ کر پولس نے مظاہرے کی قیادت کر رہیں ثریا اور صفیہ کو حراست میں لے لیا۔


میڈیا کارکنان نے جب حراست میں لی گئیں ثریا اور صفیہ سے بات چیت کرنے کی کوشش کی تو سی آر پی ایف نے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا کہ وہ ان کا بیان نہیں لے سکتے۔ اس درمیان خواتین یہ کہتی ہوئی نظر آئیں کہ وہ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کو دو ریاستوں میں تقسیم کیے جانے کی مخالفت کرتی ہیں اور یہ یکطرفہ فیصلہ انھیں نامنظور ہے۔

دوسری طرف این ڈی وی کی خبروں کے مطابق جموں و کشمیر میں موبائل ایس ایم ایس خدمات کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حالانکہ پیر کے روز ہی 72 دن کے بعد پوسٹ پیڈ موبائل نیٹورک خدمات بحال کی گئی تھیں اور اس کے کچھ ہی گھنٹے بعد ایس ایم ایس خدمات بند کر دی گئیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading