خشوگی قتل کیس : ولیعہد محمد بن سلمان ملوث نہیں : پراسکیوٹر

ریاض 15 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب کے پراسکیوٹر نے آج اعلان کیا کہ صحافی جمال خشوگی کے قتل کیس میں پانچ سعودی عہدیداروں کو سزائے موت کا سامنا ہے جبکہ اس کیس میں ولیعہد محمد بن سلمان کو براء ت دیدی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اس میں ملوث نہیں ہیں۔ جمال خشوگی کا استنبول میں سعودی سفارتخانہ کے اندر قتل کردیا گیا تھا اور ان کی نعش ٹھکانے لگادی گئی تھی ۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر خشوگی کی ہلاکت کے بعد زبردست تنقیدیں ہو رہی تھیں جس کے بعد سعودی عرب نے یہ اعلان کیا ہے ۔ خشوگی کو 2 اکٹوبر کو ہلاک کیا گیا تھا ۔ پبلک پراسکیوٹر کے ایک ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خشوگی کو پہلے ادویات سے نیم بیہوش کیا گیا پھر ان کی نعش کے ٹکڑے کردئے گئے ۔ اس طرح اس بات کی توثیق ہوچکی ہے کہ خشوگی کی نعش ٹھکانے لگادی گئی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ صحافی کی نعش کے ٹکڑوں کو قونصل خانہ کے باہر ایک ایجنٹ کے حوالے کردیا گیا ۔ انہوں نے تردید کی کہ ولیعہد محمد بن سلمان کو اس قتل کا کوئی علم تھا ۔ سعودی عرب کی انٹلی کے ڈپٹی سربراہ جنرل احمد العسیری نے خشوگی کو سعودی عرب لانے کے احکام جاری کئے تھے جبکہ وہاں بات چیت کیلئے استنبول پہونچی ٹیم کے سربراہ نے ان کے قتل کے احکام جاری کئے ۔ ترجمان نے یہ بات بتائی ۔ مسلسل انکار کے بعد سعودی عرب نے ماہ اکٹوبر کے وسط میں یہ قبول کرلیا تھا کہ خشوگی کو قونصل خانہ کے اندر ہلاک کیا گیا تھا ۔ تاہم اس وقت کہا گیا تھا کہ وہاں ہوئے معمولی جھگڑے کے نتیجہ میں ان کی موت ہوئی تھی ۔ ایک سرکاری بیان میں ‘ جو سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کیا گیا ‘ یہ کہا گیا کہ استغاثہ نے جن افراد پر قتل کا حکم جاری کرنے اور قتل کرنے کا الزام ہے سزائے موت کی درخواست کی ہے جبکہ جو دوسرے افراد کو اس کیس میں ماخوذ کیا گیا ہے انہیں بھی معقول سزائیں دینے کی گذارش کی گئی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمال خشوگی کے قتل کیس کے سلسلہ میں جملہ 21 افراد قید میں ہیں جن کے منجملہ 11 افراد کو کیس میں ماخوذ کیا گیا ہے اور مابقی دیگر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی نے کل ہی کہا تھا کہ اس سارے معاملہ کی بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading