ناسک(عامر ایوبی) ان دنوں ریاست بھر میں دو سال سے لیکر پندرہ سال کے بچوں کو خسرہ اور روبیلا کا مدافعتی ٹیکہ لگایا جارہا ہے ڈبلیو ایچ او کی ٹیمیں اسکولوں میں جاکر طلباء کو ٹیکہ لگانے کا کام کررہی ہیں انجکشن لگنے کے خوف سے اسکولوں میں طلبہ و طالبات کی حاضری زبردست متاثر ہوئی ہے.
اس سلسلہ میں نمائندہ نے پورے ضلع میں جاری اسکولوں بالخصوص اردو میڈم اسکولوں کے ذمہ داران سے رابطہ قائم کرکے معلومات حاصل کی تو اس میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ طلبہ و طالبات اس ٹیکہ کاری کی مہم سے خائف ہیں اور وہ اسکول تک آنے سے انکار کررہے ہیں کیونکہ انہیں یہ اندیشا ہیکہ اگر وہ اسکول جائیں گے تو زبردستی انہیں اس عمل سے گزارا جائیگا اس کے چلتے اسکولیں خالی خالی نظر آرہی ہیں کئی کلاس جس میں رجسٹر پر ستر سے لیکر نوے بچوں کا نام درج ہے اس کلاس میں بمشکل پچیس تیس بجے نظر آرہے ہیں یاد رہیکہ گزشتہ کئی دنوں سے خبر گشت کررہی ہیکہ اس ٹیکے کے لگانے سے کچھ اموات ہوئیں اور کچھ طلباء بیمار ہوگئے اس سے طلباء سہمے ہوئے ہیں حالانکہ اس ٹیکہ کو لگانے کے تعلق سے مسلمانوں کی اہم تنظیموں نے اپنا حمایتی مکتوب بھی دیا ہے لیکن کچھ لوگ اسے بھی رد کررہے ہیں.
ایک واٹس ایپ گروپ میں یہ بات بھی گشت کررہی تھی کہ علماء نے بھاری بھرکم رقم کے عوض اس کی حمایت کی ہے حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے رکن شوری دارالعلوم دیوبند وصدر جمعیت علماء مالیگاوں مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے کہا کہ "علماء کرام اور مسلم تنظیموں نے جو حمایتی مکتوب دیا ہے وہ ڈاکٹروں اس ٹیکے کے بارے میں ڈاکٹروں کی رائے لینے کے بعد دیا گیا ہے سبھی ڈاکٹروں نے اس کو. مفید بتایا ہے” ضرورت اس بات کی ہیکہ ڈبلیو ایچ او پہلے طلباء کے ڈر وخوف کو دور کرے اور انکے سرپرستوں کو اعتماد میں لے تاکہ افواہوں پر روک لگائی جاسکی.