مضمون نگار : سراج آرزوؔ، بیڑ ۔مہاراشٹر ۔موبائیل نمبر: 9130917777
خدیجہ رحمان ! وہ نام جو خاص طور پر گذشتہ روز سے میڈیا ،سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں زیر گفتگو ہے۔ خدیجہ گذشتہ روز ایک پروگرام میں نقاب کے ساتھ اسٹیج پر نمودار ہوئی اور اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ۔ موقع تھا فلم ’سلم ڈاگ ملینیم‘ کے دس سال کی تقریب کا ۔اس دوران خدیجہ نے دوہرے آسکر ایوارڈ یافتہ والد اے آر رحمان کا با حجاب انٹرویو لیا۔ جس پر سماجی ذرائع ابلاغ چیخ پکار شروع کر دی۔اسلامی لباس سے متعلق موضوع ہونے کے سبب تنقید کرنے والوں کی دھوم مچ گئی اور اس دوڑ میں نام نہاد نقادوں نے اپنی اپنی عقل و فہم سے لوگوں کو واقف کرایا۔ذرائع ابلاغ میں مچے ہنگامے کے بعد اس تنازعے کو ختم کرنے کے لئے خدیجہ نے فیس بُک پر پوسٹ کیا کہ ’میں کہنا چاہتی ہوں کہ جو لباس میں پہنتی ہوں یا میری زندگی میں جو فیصلے کرتی ہوں ،ان کا میرے والدین سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔نقاب مکمل قبولیت اور توقیر کے ساتھ میری اپنی پسند ہے میں بالغ اور سوجھ بوجھ کی حامل ہوں جو اپنی زندگی کے فیصلے کرنا چاہتی ہے‘۔میڈیا اور ناقدین کے لئے خدیجہ کا یہ جواب بہت کافی ہے۔ اس جواب کا ایک ایک ایک لفظ اور ہر ایک جملے میں وہ جو پیغام دینا چاہتی ہے وہ نہاں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ خدیجہ کو نقاب میں دیکھ کر اتنا واویلا کیوں مچایا جا رہا ہے؟ میڈیا سے جڑے وہ لوگ جنھوں نے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا ٹھیکا لیا ہوا ہے اُن کی بات بھی اگر نہ کی جائے تب بھی عام لوگوں کی جانب سے بھی نقاب کو لیکر تنقید ہوئی! اس میں ان عام لوگوں کا کوئی قصور محسوس نہیں ہوتا کیونکہ گذشتہ کئی سالوں میں اسلام اور مسلمان اور خاص طور پر مسلم خواتین کو لیکر ذرائع ابلاغ نے ایسا ماحول بنایا ہے کہ ہر برقع پوش خاتون انھیں انتہائی مظلوم اور غلام نظر آتی ہے۔یہ محسوس کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے افراد خاندان کی جانب سے خاص کر مرد حضرات کی جانب سے خواتین کو زبردستی برقع یا نقاب پہنایا جاتا ہے۔ ان کی مرضی کے بغیر ان کی شادی کرائی جاتی ہے۔انھیں بے جھجک طلاق دیا جاتا ہے ۔انھیں غلام بنا کر رکھا جاتا ہے ۔ اس طرح کی بے شمار اناپ شناپ گپ بازیوں سے لوگوں کی ذہن سازی ہی کچھ اس طرح کرائی گئی کہ اگر کوئی معروف گھر کی بیٹی با حجاب آ جائے تو اسے باعث عزت و افتخار سمجھنے کے انھیں تکلیف ہوتی ہے۔ یہ وہ ذہن ہیں جو یہ بھی جاننا نہیں چاہتے کہ آخر اُس خاتون نے یا اُس لڑکی نے آیا وہ نقاب اپنی مرضی سے اپنی خوشی سے پہنا ہے یا پھر کسی نے پہننے کی لئے کہا ہے؟یہی معاملہ موسیقار اے آر رحمٰن کی بیٹی خدیجہ رحمان کے ساتھ ہوا۔کسی نے اُس کی مرضی جانے بغیر اپنی اپنی رائے پیش کرنا اور سخت گیر تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا۔
خدیجہ رحمان کا یہ قدم بے شک ہزاروں لاکھوں اُن دوشیزاؤں کے لئے سبق لینے والا ہے جو نئے خیالات ،نئی سوچ اورآزادی کے نام پر بے پردہ کم لباس میں گھومنا پسند کرتی ہیں۔خدیجہ رحمان کے ساتھ پیش آیا ہو ایہ واقعہ پہلی نظر میں تو منفی محسوس ہوتا ہے کہ اس طرح ایک با حجاب لڑکی کو سوشل میڈیا و دیگر میڈیا کے ذریعے لوگوں نے ٹارگیٹ کیا لیکن اس کا دوسرا پہلو بڑا اہم ہے۔ اس واقع سے خدیجہ کی عمر کی لڑکیوں کو بڑی سیکھ ملتی ہے۔خدیجہ کا یہ کہنا کہ’ اُس نے اپنی مرضی سے یہ لباس پہنا ہے ‘بڑا اہم ہے وہ ایک صاحب سمجھ اور صاحب عقل بالغ23سالہ شہری ہے۔فلمی دنیا سے اتنی قریب اس شخصیت نے حجاب پہننے کا یوں ہی فیصلہ نہیں کیا ہوگا اس کے نزدیک اس حقیقت کے بہت اہم معنی ہوں گے۔ بے شک اے آر رحمان ان کے لئے ترغیب کے باعث ثابت ہوئے ۔اے آر رحمان (اللہ رکھا رحمانبچپن کے اے ایس دلیپ کمار)جو کہ اپنی کم عمری میں داخل دائرہ اسلام ہوئے اور تب سے لیکر آج تک اسلامی اقدار کے ساتھ جہاں تک ممکن ہو ازندگی گذارنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسلام کے تعلق سے ان کی سنجیدگی قابل ستائش ہے، اور یہی بات ان کی اپنی بیٹی خدیجہ کے لئے تربیت کا باعث بنی۔مذکورہ پروگرام میں بیٹی خدیجہ کے ذریعے لئے گئے مختصر انٹر یو میں خدیجہ نے یہ جو باتیں کہی ہیں وہ بہت قابل توجہ ہیں کہ اس کے والد اے آر راحمٰن پیغمبر ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اس حدیث کابھی اُس نے ذکر کیا کہ رحمان اس بات پر مکمل عمل کرتے ہیں کہ ’ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اُس کی مزدوری ادا کی جائے ‘ اور یہی بات خدیجہ انسپائر کرتی ہے ترغیب دلاتی ہے۔
ہونا تو یہ چائیے تھا کہ خدیجہ نے جو باتیں اُس روز اسٹیج پر کہی ،اُس کے والد کی جس تربیت کا ذکر اُس نے کیا۔حضور ﷺ کی تعلیمات کا ذکر کیا اُس پر عمل آوری کی بات کی اس پر گفتگو ہو لیکن ان تما باتوں کو پَرے رکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح نظریں اور دماغ بس اس کے نقاب تک ہی رہ گیا اور وہی سے واپس ہو گیا۔ خدیجہ کی بات ایک اہم پیغام ہے ہماری وطنی بہنوں کے لئے بھی اور اسلامی بہنوں کے لئے بھی ۔
پردہ کی اہمیت و افادیت مندرجہ ذیل احادیث سے بخوبی لگا یا جا سکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے پردہ کے پیچھے سے ایک خط دینے کو رسول ﷺکی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس حدیث کو ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ صحابہ ؓکی بیویاں اور عام صحابیات ؓ بھی خود نبی کریم ﷺ سے بھی پردہ کرنے کا اہتمام کرتی تھی اور ضرورت کے وقت بات چیت یا کوئی چیز پیش کرنے کا طریقہ بھی معلوم ہوا کہ ان مواقع پر بھی پس پردہ رہنا چائیے۔ ابو داؤد نے کتاب الجہاد میں قیس بن شماس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت جس کو امّ ِ خلّاد کہتے تھے، چہرہ پر نقاب ڈال کر حضور ﷺ کی خدمت میں اسلئے حاضر ہوئی کہ اس کا بیٹا جو جہاد میں قتل ہو گیا تھا اس کا آخرت میں کیا درجہ ہے معلوم کرے، بعض لوگوں نے اس سے کہا کہ جوان بیٹے کی موت کے حادثہ کے ہوتے ہوئے بھی تم نقاب و حجاب کے ساتھ آئی ہو ( حالانکہ ایسے حوث نیں عورتوں پر سے پردہ چھوٹ جاتا ہے ) اس نے کہا میرا بیٹا مارا گیا ہے میری حیاء تو نہیں ماری گئی ۔
اس حدیث سے معلوم ہو اکہ خوشی ہو یا غم حتیٰ کے مصیبت کے وقت بھی بے پردگی نہیں ہونی چاہیے ، ابو داؤد شریف کا یہ واقعہ آج کے دور کی عورتوں کے لئے بہترین مثال ہے۔یہی بات اپنے عمل سے خدیجہ رحمان نے پیش کی ، جس پروگرام میں خدیجہ با پردہ اسٹیج پر آئی وہ دراصل اس فلم کے دس سال پورے ہونے کی تقریب تھی جس پر اس کے والد کو آسکر اعزاز سے نوازہ گیا ۔موقع انتہائی خوشی کا تھا لیکن اس موقع پر بھی خدیجہ نے نقاب کے ساتھ آنا اور اپنے والی کی تربیت اور حضور ﷺ کی تعلیمات کا ذکر کرنا ایک ایسے اسٹیج پر جو اسلامی تعلیمات اور اقدار سے کوسوں دور ہے اپنے آپ میں ایک شاندار عمل ہے۔جس پر خدیجہ قابل مبارکباد ہے۔ذرائع ابلاغ کو چائیے کہ اس کے نقاب یا لباس کو نہ دیکھے یہ دیکھیں کہ اس نے اُس اسٹیج سے کیا بات کہی اور کونسا پیغام دنیا بھر کی لڑکیوں کے لئے پیش کر گئی ،لیکن میڈیا سے اس قسم کی توقع بے معنی ہے۔ تما میڈیا سے نہیں لیکن میڈیا کو وہ حصہ جو آج بھی صحافت کے اقدار کی پاسداری کر رہا ہے وہ اس زاوئے نظر سے خدیجہ کے پیغام کو عا م کرے تو بے جا تنقید کرنے والوں کے اذہان کو بھی باعث ترغیب باتیں پار کر جائیں گی۔
