خدمت خلق یا ریاکاری

رمضان المبارک ہمدردی، غم گزاری، غریب پروری، بھوک، افلاس، تنگدستی اور مفلوک الحالی سے جوجھ رہے یتیموں،مسکینوں ،بیواؤں، بےکس و محتاج معذور افراد اور قیدیوں کے ساتھ ہمدردی اور انکے خبرگیری کا مہینہ ہے.

اسلام اپنے ماننے والوں کو خدمت خلق کی جتنی ترغیب دیتا ہے اتنی ترغیب شاید کسی مذہب میں دی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ کے رسول نے اس بات کی سختی سے تاکید کی ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتا نہ چلےموجودہ دور میں رمضان کے مہینے میں بڑے پیمانے پر غرباء مساکین مفلسوں محتاجوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہےیہ مدد انفرادی سطح پر بھی کی جاتی ہے اور اجتماعی سطح پر بھی بہت سے ایسے اہل ثروت حضرات ہے اللہ کے نیک بندے ہیں مخیرحضرات ہے جو بڑی خاموشی سے اس کار خیر کو انجام دیتے ہیں وہ بھی اس سلیقے سے کہ لینے والے کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کس نے دیا ایسے اللہ کے نیک بندوں کی ہمارے شہر میں کمی نہیں ہےجو بند مٹھی کار خیر میں حصہ لیتے ہیں اور یہ کام آج کل سے نہیں بلکہ برسوں سے نسل در نسل جاری ہےایسے ہی اہل خیر حضرات کی بدولت وہ لوگ جو کل تک زکواۃ کے مستحق تھے نہ نا خواندہ تھے وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوئےخود کفیل ہوئے اور اللہ نے انہیں ایسا نوازا کہ وہ بھی زکوۃ دینے والے بن گئے ہمارے شہر کا تانہ بانہ کچھ ایسا ہے کہ چاہے غریب ہو امیر ہو یا متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں یہ سب کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے رابطے میں آتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اورنگ باد شہر ناصرف مراٹھواڑہ بلکہ پورے ملک میں خیر سگالی ہمدردی ایک دوسرے کی مدد کے معاملے میں منفرد شناخت رکھتا ہے.

ایسا نہیں ہے کہ اورنگ آباد کا شمار ملک کے امیر ترین شہروں میں ہوتا ہے یہاں پر ہر اہل ثروت حضرات کی بھرمار ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اورنگ آباد شہر محنت کش کا شہر ہے روز کنواں کھودنے اور پانی پینے والوں کا شہر ہےاس شہر کی اکثریت آج بھی غربت کے دلدل میں پھنسی ہوئی ہے لیکن سلام ان محنت کشوں پر جو بھوکے تو سو جاتے ہیں لیکن کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے
میرے شہر کے لوگوں میں آج بھی اتنی خود داری ہے کہ وہ اوروں کے سامنے اپنا دکھڑا بیان نہیں کرتے ہاں یہ ضرور ہے کہ جائز طریقوں سے اقل حلال کی جستجو میں لگے رہتے ہیںبڑھتی مہنگائی بیروزگاری اور وسائل کے کمی نے کھاتے پیتے خاندانوں کو تنگدست کردیا ہے اس کے باوجود اللہ کے بندے روکھی سوکھی میں خوش ہے ایسے لوگوں کی طرف توجہ دینا انہیں سہارا دینا ہر صاحب حیثیت اور صاحب نصاب شخص کی ذمہ داری ہے
ہمارے شہر کے مخیر حضرات دامے درمے سخنے اس کار خیر میں مصروف ہے لیکن بڑھتی آبادی کی وجہ سے جو کام نفرادی سطح پر ہوتا تھا اس کام کو پچھلے چند برسوں سے اجتماعی شکل دے دی گئی اور شہر میں کئی ایسی تنظیمیں ہے جو رمضان المبارک میں رمضان کیٹس کے نام سے ضرورت مندوں میں اشیائے ضروریہ تقسیم کرتے ہیں اس تقسیم میں فلاحی و سماجی تنظیمیں ریکارڈ کے غرض سے کچھ تصاویر لیتی ہے جو انکے لئے ضروری ہے اور تنظیمیں ان تصاویر کو شائع بھی نہیں کرتی…اس کے برخلاف پچھلے کچھ سالوں سے مشاہدہ کر رہا ہوں ہر سال رمضان میں سوشل میڈیا پر مستحق اور غرباء لوگوں کی تصاویر گردش کر تی ہے جسمیں ایک تھیلا راشن کے ساتھ آٹھ سے دس افراد کھڑے ہوئے ہیں یہ جتانے کی کوشش کر تے ہیں کہ اس کار خیر میں ان سب کا کچھ نہ کچھ حصہ ہےچند روپے کے مدرسے سوشل میڈیا پر کروڑوں لوگوں کے سامنے تماشہ بنایا جاتا ہے اور مستحقوں کو شرمندہ کیا جاتا ہے حالانکہ شہر میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو کار خیر میں حصہ لیتے ہیں لیکن خودنمائی سے کوسوں دور ہیں اور کچھ ایسے کمزور لوگ ہوتے ہیں جو چند روپے کی امداد کو ذاتی تشہیر کا ذریعہ بناتے ہیں
اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں مخلص غربا کی امداد پر خاص توجہ دی گئی ہے اور شاید ہی کسی اور مذہب میں زکوۃ کو اتنا مضبوط اور وسیع ملا ہو.

اللہ کے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تاکید کی ہے کہ جب اس ہاتھ سے دو تو اس ہاتھ کو بھی معلوم نہیں ہونا چاہیےاس لیے اگر زکوۃ دینے کے لئے نکلے تو خودنمائی سے بچے جس سے آپ کا کار خیر ضائع نہ ہو اور اسکا اجر عظیم ملےرمضان المبارک کا مہینہ ہمیں ایثار ہمدردی کا پیغام دیتا ہے اس مہینے جتنا ہوسکے اللہ کی راہ میں خرچ کرے حدیث کا مفہوم ہے کہ جو تم نے آگے بھیجا وہ تمہارا ہے اور جو یہاں رہ گیا رشتے داروں کا ہے.

رمضان المبارک میں ہم زکوٰۃ خیرات کسی بھی شکل میں دیتے ہیں تو دیتے ہوئے تصویر نہ لے جس سے کچھ واہ واہی کے بدلے نیکی ضائع ہو اور کسی مفلس کی دل آزادی ہوں جس سے اسے شرمندگی اٹھانی پڑےاس لیے رمضان المبارک میں خودنمائی اور دکھاوے سے بچے دینا ہے تو ایسے دیں کہ دوسرے ہاتھ کو اس کا علم نہ ہو زکوۃ فرض ہے فرض سمجھ کر عاجزی سے دیں مدد کر کے احسان نہ کرے کیونکہ راہ خدا میں خرچ کرنے کی توفیق سبھی کو نہیں ملتی اللہ اپنے چنندا بندوں سے کام لیتا ہے اسلئے کسی کی امداد کرتے ہوئے تصاویر کو سوشل میڈیا پر ڈال کر تماشہ نہ بنائیں… جزاک اللہ خیر.

(اس مضمون کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا بالکل نہیں ہے یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم ہر نیکی کا بدلہ دنیا میں حاصل کرنا چاہتے ہیں)

شہاب مرزا؛ اورنگ آباد

9595024421

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading