حکومت پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوارڈ یافتہ عالمی شہرت کے مالک شاعر اورنگ آباد کے سپوت حمایت علی شاعر کا کینڈا میں انتقال

him
اورنگ آباد(دکن) :16جولائی (محمدنقی شاداب) عالمی شہرت یافتہ ممتاز شاعر فرزند اورنگ آباد ‘(دکن) سید حمایت علی شاعر کا کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں بتاریخ 16جولائی 2019ء بروز منگل کو کینڈا کے وقت کے مطابق 11بجکر25منٹ پر دل کادورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ۔ وہ 14جولائی 1926 کواورنگ آباد میں ایک علمی تعلیم یافتہ معزز خاندان میں پیدا ہوئے تھے ۔اُن کے والد کا نام سید تراب علی تھاجو محکمہ پولس میںا نسپکٹرکے عہدے پرفائز تھے ۔ حمایت علی شاعر نے اورنگ آباد میں ہی میٹرک تک تعلیم حاصل کی ۔اسی تاریخی ‘علمی و ادبی شہرسے اُن کی شاعری مختلف اخبارات ورسائل میںشائع ہونے لگی تھی ۔وہ کچھ عرصہ کےلئے حیدرآبادمیں بھی قیام پذیر رہے جہاں وہ حیدر آبادریڈیواسٹیشن میںاناونسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیاکرتے تھے ۔حیدر آباد کی زندگی بڑی مشکلات سے گھری رہی معاشی بدحالی کے شکار رہے اور بڑی جدوجہد کی ۔سقوط حیدر آباد دکن کے بعد 1951ءمیں وہ پاکستان ہجرت کرگئے تھے ۔جہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ ریڈیو اور پاکستان ٹی وی کے لئے کام کیا ۔فلموں کےلئے گیت لکھے ۔فلمیں بنائیں ۔ہدایت کاری کی ‘کئی ادبی اورفلمی ایوارڈ سے نوازاے گئے ۔سندھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے استاد رہے ۔حمایت علی شاعر کے چھوٹے بھائی سید عنایت علی نے بتایا کہ حمایت علی پانچ بھائیوں اور دوبہنوں میں سب سے بڑے تھے ۔وہ 2002ءمیں اپنی اہلیہ معراج نسیم کے ہمراہ ٹورنٹو منتقل ہوگئے تھے اور اسی سال انکی اہلیہ مرض کینسر سے انتقال کرگئی تھیں ۔ اہلیہ کے انتقال کا غم انھیں زندگی بھر رہا ۔ انکی اہلیہ ایک معروف افسانہ نگار اورنثرنگار تھیں ۔ حمایت علی کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ملک کے اعلیٰ ترین ”پرائڈ آف پرفارمنس‘ ُPride of Performance “ایوارڈ اور ”آدم جی ایوارڈ“ سے نوازا تھا ۔پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف کے ہاتھوں شاعر کو پیش کیاگیاتھا ۔ پاکستان کے کئی رسائل اور اخبارات نے اُن کی شخصیت اور فن پر خصوصی نمبرنکالے تھے جو ادبی حلقوں میں کافی پسند کئے گئے تھے ۔ اُن کے تین شعری مجموعے آگ کا پھول ‘ مٹی کا قرض اور ہارون کی آواز شائع ہوکر کافی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ اُن کے حیدر آباد کے دوستوں میں معروف شاعر مخدوم محی الدین ‘ ڈاکٹرمغنی تبسم ‘ڈاکٹرراج بہادرگوڑ ‘سلیمان اریب تھے جو آج اس دنیا میں نہیں ہیں ۔اُن کے اورنگ آباد کے دوستوں میں مرحوم اخترالزماں ناصر ‘ بلند اقبال ‘ مقتدرانجم ‘ جے پی سعید ‘اورممتاز اختر تھے ۔مرحوم یعقوب عثمانی ان کے استاد رہے ہیں ۔حمایت علی شاعر کی طویل نظم ”بنگال سے کوریاتک“‘ کوادبی حلقوں میںبڑی شہرت حاصل ہوئی تھی ۔ اس نظم میں بنگال کے قحط کو مصنوعی قحط بتاتے ہوئے اُس وقت کے سیاسی لیڈران اور سیاسی وسماجی نظام پرچوٹیں کی گئی تھیں ۔یہ نظم اُس دور میں لکھی گئی تھی جس دور میں ساحر لدھیانوی کی نظم پرچھائیاں لکھی گئی تھی ۔ اور دونوں نظموں کو قارئین نے بے حد پسند کیاتھا ۔گزشتہ دس برسوں سے وہ کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں اپنے فرزند کے یہاں مقیم تھے ۔ کچھ دنوں سے کافی علیل تھے ۔ ذہنی مرض میں مبتلا تھے اور وہیں آخری سانس لی اور اس جہان فانی کو ہمیشہ کےلئے الوداع کہا ۔حمایت علی شاعر کے پسماندگان میں چارفرزند‘ چار لڑکیاں ‘چاربھائی ‘سید عنایت علی ‘سید مجاہد علی ‘ سید شوکت علی ‘سید آصف علی او ردوبہنیں ہیں۔ان کی ایک لڑکی اور ایک لڑکا کینڈا میں مقیم ہیں۔تین لڑکے اورتین لڑکیاں پاکستان میں ہیں۔ حمایت علی شاعر اورنگ آباد کے معروف شعراءقاضی سلیم ‘ بشرنواز ‘ میر ہاشم علی ‘قمر اقبال جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں کہ ہمعصر تھے ۔ وہ 1981 میں اورنگ آباد تشریف لائے تھے تو شہر کے ادبی اور صحافتی حلقوں نے اُن کی بڑی خاطر تواضع کی تھی اور اُن کے اعزاز میں مشاعرے اورادبی جلسے منعقد ہوئے تھے۔ روزنامہ ”اورنگ آباد ٹائمز“ نے اُن کے فن اور شخصیت پر خوبصورت گوشہ بھی شائع کیاتھا جسے شاعر اپنے ساتھ کراچی لے گئے تھے ۔کراچی پہونچنے کے بعد انھوں نے اخبار کے مدیر عزیز خسرو(مرحوم) کوایک طویل خط لکھاتھا جس میں عزیز خسرو اور گوشہ کے قلمکاروں کاخوبصورت انداز میں تہہ دل سے شکریہ کیاتھا اس خط کاایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں ۔
”اورنگ آباد ٹائمز کا نمبر جس نے دیکھا رشک سے اسکی آنکھیں چمک اُٹھیں ‘ایسی محبت شاید ہی کسی کو ملی ہو جو میرے اہل وطن نے مجھے عطا کی اور یہ سب کچھ مجھے عزیز خسرو کی معرفت ملا ہے ۔عزیز خسرو ۔جو خاکِ وطن کے ناطے میرے وجو د میں رچ بس گیا ہے جوپاکستانی اہل ادب کی نظرمی محبت اورقدردانی کی ایک مثال بن گیا ہے اور اس نمبر کی معرفت ان تمام اہل قللم کا آئینہ۔جنہوں نے مجھ پر اور میری شاعری پر مضامین لکھے اور اپنی پُرخلوص اور روشن فکر پاکستان تک پہنچائی ۔جنہوں نے یہ ثبوت فراہم کریدیا کہ اپنی مٹی سے محبت کرنے والے جغرافیائی حدود سے گزرکر بھی اس خوشبو کو سمیٹ لیتے ہیں جو بظاہر ان کی دسترس سے دور ہوتی ہے ۔میںبھی اسی خوشبوسے سرشار ہوں ‘خدا مجھے توفیق دے کہ میں بھی اس مٹی کاقرض ادا کرسکوں۔ اورنگ آباد میں قیام کے دوران اپنے بزرگوں اورہم عصروں کے علاوہ نئے لکھنے والوں نے بھی مجھے بہت متاثر کیا ہے ۔مجھے یقین ہے کہ یہ تمام اہل قلم بہت جلد پاکستان کی ”ادبی دنیا“ کےلئے بھی اجنتی نہیں رہیںگے ‘کچھ نوجوانوں کی نگارشات میں اپنے ساتھ لایا ہوں اور جن حضرات تک میری رسائی نہیں ہوسکی۔ آپ کے معرفت سے بھی عرض کروں گاکہ وہ بلا تکلیف اپنی تخلیقات مجھے بھیجیںتاکہ میں انھیں یہاں کے اہل ادب تک پہنچاوں ۔یہی گزارش میں اپنے بزرگوں اور ہم عصروںسے بھی کروںگا۔ جہاں تک معروف اہل قلم کا مسئلہ ہے ‘مثلاً قاضی سلیم ‘ اختر الزماں ناصر‘انورمعظم‘صفی الدین صدیقی‘ ڈاکٹرعصمت جاوید ‘بشر نواز ‘رفعت نواز ‘ڈاکٹر معین شاعر ۔اور نئے لکھنے والوں میں محمودشکیل اور قمراقبال وغیرہ ان سب کی تحریریں نظر سے گزرتی ہی رہتی ہیں مگرکچھ ایسے بھی ہیں جو رسائل اور کتب کی عدم یافت کے سبب عمومی طور پر آنکھ اوجھل ہیں ۔ مقدرانجم ‘جے پی سعید ‘ ڈاکٹر ارتکاز افضل ‘ محمدتقی (اس وقت اورنگ آباد ٹائمز میں شعبہ ادارت سے منسلک تھے اور آج روزنامہ ”ورق تازہ“ کے مدیراعلیٰ ہیں) ‘یوسف عثمانی ‘اوران کی بیگم ‘میر ہاشم علی ‘نورالباسط نر ‘رعنا اورنگ آبادی ‘ جلیل احمد ‘ نورالحسنین ‘علی رضوان اور مجاہد وغیرہ( کچھ نام اور بھی ہیں جوا س وقت مجھے یاد نہیں آرہے ہیں ‘جس کا مجھے افسوس ہے۔“
حمایت علی شاعر کا خمیر دکن کی مٹی سے اٹھاتھا اوراسی مٹی کی خوشبو وہ اپنے ساتھ پاکستان لئے گئے تھے۔پاکستان میں اپنی صلاحیتوں ‘محنتوں ‘ذہانت سے وہاں کی ادبی اورفلمی دنیا میں اپنا ایک علاحدہ مقام بنانے میںکامیاب ہوئے تھے اُن کے ان کارہائے نمایاں پر اہل دکن کو ہمیشہ فخررہے گا۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ انکی مغفرت کرے انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اُن کی قبرکونوراورخوشبو سے بھردے ۔ادارہ روزنامہ ”ورق تازہ“ ناندیڑ ‘ حمایت علی شاعر کے افراد خاندان کے غم میں برابر کاشریک ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading