بنگلور:19ڈسمبر(ای میل)شہربنگلورکی مشہوردینی وتربیتی درسگاہ ”مدرسہ عربیہ نورالعلوم” روشن مسجدودرگاہ حضرت صادق علی حسینی ؒ،بیاٹرن پورا،میسورروڈ،بنگلور26میںجشن غوث اعظمؓ نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ منعقدہوا۔تلاوت قرآن کریم کے فرائض حضرت حافظ وقاری احمدرضامرکزی صاحب نے انجام دیے۔اورنعت ومنقبت کے حسین گلدستے انوکھے اندازمیں طلباءجامعہ نے پیش کئے۔مولانامحمدصدرعالم قادری مصباحی نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لئے ملت مصطفویہ کے سامنے علماءمشائخ نے ایک خوبصورت اورزرین اصول یہ پیش کردیاہے کہ بارگاہ ربوبیت تک رسائی آقائے دوجہاں سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اوربارگاہ سرورکائنات تک رسائی اولیاءاللہ کے ذریعے ہی ممکن ہے ،ان اولیاءاللہ کی صف اول میں صحابہ کرام اوراہل بیت اطہاررضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین شامل ہیں ،ان کے بعدتابعین ،ائمہ مجتہدین،ائمہ شریعت وطریقت کے علاوہ صوفیاء،اتقیاءاوردیگراولیاءبھی شامل ہیں۔اس کائنات گیتی میں اولیاءکرام تو بہت تشریف لائے اورقیامت تک تشریف لاتے رہےں گے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کشف وکرامات اورمجاہدات وتصرفات کی بعض خصوصیات کے لحاظ سے حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواولیاءکی جماعت میں ایک خصوصی امتیاز حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اولیاءمتقدمین میں سے بہت سے باکمال اور بڑے بڑے صاحبان کشف وحال بزرگوں نے آپ کے ظہورکی بشارتیں دی ہیں۔اوراولیاءمتاخرین میں سے ہر ایک آپ کی مقدس دعوت کانقیب اورآپ کی مدح وثنا کاخطیب رہااورعلماءسلف وخلف نے آپ کے بلنددرجات اورتصرفات وکرامات کے بارے میں اس قدرکثرت کے ساتھ کتابیں تحریرفرمائیں کہ شایدہی کسی دوسرے ولی کے بارے میں مستندتحریروںکااتنابڑاذخیرہ موجودہو۔آپ کی بزرگی وولایت اس قدرمشہوراورمسلم الثبوت ہے کہ آپ کے” غوث اعظم ”ہونے پرتمام امت کااتفاق ہے۔انہوںنے اپنے خطاب میں کہاکہ جب سرکاغوث اعظم ؓ کی عمرمبارک چارسال کی ہوئی تورسم رواج اسلامی کے مطابق آپ کے والدمحترم سیدناشیخ ابوصالح (لقب جنگی دوست)رضی اللہ عنہ نے آپ کورسم بسم اللہ خوانی کی ادائے گی اورمکتب میں داخل کرنے کی غرض سے لے گئے اوراستادکے سامنے آپ دونوں زانوہوکربیٹھ گئے ،استادنے کہا!پڑھوبیٹے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔آپ نے بسم اللہ شریف پڑھنے کے ساتھ ساتھ الم سے لے کرمکمل 18پارے زبانی پڑھ ڈالے۔استاد نے حیرت کے ساتھ دریافت کیاکہ یہ تم نے کب پڑھا؟اورکیسے پڑھا؟توآپ نے فرمایاکہ والدہ¿ ماجدہ اٹھارہ سپاروں کی حافظہ ہیںجن کاوہ اکثرتلاوت کیاکرتی تھیں،جب میں شکم مادرمیں تھاتویہ قرآن کریم کے18پارے سنتے سنتے مجھے بھی یادہوگئے تھے۔یہ شان ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے ولیوں کی،حضورغوث اعظم رضی اللہ عنہ آج سے کئی صدیوں قبل ہی اس حقیقت کومن وعن سچ ثابت کرچکے ہیں کہ دورانِ حمل ماں جوکچھ بھی سوچ رہی ہوتی ہے اورپڑھ رہی ہوتی ہے تواس کااثردونوں صورتوں میں شکمِ مادرمیں رہنے (پلنے)والے بچے پرضرورپڑتاہے اورآج چاندکوچھولینے اوراس پرچہل قدمی کرنے کی دعویدار21ویں صدی کی جدیدسائنسی دنیاکے یورپ اورامریکاکے سائندان اپنی تحقیقوں سے یہ بتاتے پھررہے ہیں کہ سائنس نے یہ ایک نئی تحقیق کرلی ہے کہ دورانِ حمل ماں جوکچھ بھی منفی یامثبت سوچ رکھتی ہے اس کااثرآئندہ آنے والے بچے کی زندگی پرپڑتاہے ،یہ بات سانئس نے آج دریافت کی ہے،جبکہ حضورغوث اعظم رضی اللہ عنہ صدیوں قبل اس کاعملی ثبوت دنیاکے سامنے خودپیش کردیاتھااس پرہم امت مسلمہ کوفخرہوناچاہئے کہ موجودہ دنیاکی کوئی ترقی قرآن وسنت اورتعلیمات اسلامی کے دائرہ کارسے باہرنہیں ہوسکتی۔صلوٰة وسلام اورمصباحی صاحب کی رقت انگیزدعاءپر اجلاس کاختتام ہوا۔واضح رہے کہ یہ اجلاس روشن مسجدکمیٹی کے صدرعالیجناب سیدناظم الدین وسکریٹری محمدصبغت اللہ عرف محمدلیاقت صاحبان ودیگراراکین وممبران کی ایماءوجازت سے منعقدہوا۔اس موقع پرحضرت حافظ وقاری احمدرضامرکزی،حافظ وقاری محمدشمشیررضاعرف عرفان بھائی،حافظ غلام جیلانی ،شبیربھائی،سمیع بھائی،طلباءجامعہ ودیگرحضرات موجودتھے۔