تعلیم کیا ہے؟ آسان الفاظ میں ایک راستہ ہے جس پر چل کر کامیابی کی منزل اور نئے معاشرے کی تعمیر کی جا سکتی ہے جس طرح کامیابی کے مختلف معیار ہیں اسی طرح تعلیم کے بھی معیارات ہے جیسی تعلیمی صورتحال ہوگی ویسے ہماری سماجی زندگی کے حالات ہوں گے جیسا تعلیم کے ساتھ سلوک ہوگا ویسا ہی ترقی یافتہ قومیں ہمارے ساتھ سلوک کریں گی یا حقیقت ہے کہ ملک عزیز بھارت ترقی پذیر ممالک میں شمار ہوتا ہے لیکن یہاں تعلیم کو پہلی ترجیح نہیں دی گئی ملک کی آبادی کی 70 فیصد سے زائد عوام غریب ہے جو مہنگی تعلیم حاصل کرنے میں ناکام ہیں یہی وجہ ہے کہ مہنگی فیس نے طلباء کو تعلیم سے دور رکھا ہے باقی جس میں پڑھنے کی تڑپ ہوتی ہے منزل حاصل کرنے کی جستجو ہوتی ہے وہ قرض لے کر اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیںحکومت ہند آزادی کے بعد یہ تیسری تعلیمی پالیسی ترتیب دینے جا رہی ہے 2014 میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد نئی تعلیمی پالیسی پر بحث شروع ہوگئی تھی حکومت کا دعویٰ ہے کی یہ مثالی پالیسی ثابت ہوگی
جس طرح نوٹ بندی اور جی ایس ٹی ثابت ہوئی اب باری اس پالیسی کی ہیں حالانکہ ماہرین نے اس پالیسی کی سخت مخالفت کی تھی اور حکومت کو لتاڑا بھی تھا اس ڈرافٹ سے ایک بات واضح ہوچکی ہے کہ حکومت آہستہ آہستہ سرکاری اداروں کو کم کردیں گے اور حکومت تعلیمی سیکٹر کے لیے اپنی فنڈنگ کو پوری طرح ختم کر دیں گےدوسری بات یہ ہے کہ اس پالیسی سے ہر ادارے میں آرایس ایس کارکنوں کا عمل دخل ہوگا اگر اس بات کو صاف الفاظ میں لکھا جائے تو ملک کے تعلیمی نظام کو بازاری کرن کی راہ پر لے جایا جارہا ہے جس سے تعلیمی ادارے کارخانے کی شکل اختیار کریں گے تعلیمی اداروں کے صدر سیٹھ بن جائیں گے اساتذہ نوکر اور طلبہ گاہک بن جائیں گے اور باقی آر ایس ایس کارکنان دلال بن کر نگرانی اور بھاؤ تاؤ کریں گے یعنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو پوری طرح ختم کرنے کی تیاریوں حکومت کر چکی ہے بس اس پالیسی کو نافذ کرنے کا انتظار ہےتعلیم اور صحت کو کسی ملک کا سماجی اثاثہ کہا جاتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہیںکہ اب یہ دونوں شعبے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ثابت ہو رہے ہیں
اسلئے حکومت اب ان شعبوں کا نجی کرن کرکے سرمایہ کاروں کے حوالے کر نے کوشاں ہیںپچھلے کچھ دنوں سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ اضافی فیس کی وجہ سے ملک کے معروف جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء و طالبات مسلسل احتجاج کر رہے ہیں پولیس کی لاٹھیاں کھا رہے ہیں وہ بھی ایسے وقت میں جب حق کی لڑائی لڑنے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر ملک سے غداری کا سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہو ان لاٹھیاں کھاتے نوجوانوں کو دیکھ کر دل بھر آتا ہے کہ یہ اپنا مستقبل داؤ پر لگا کر آنے والے نسلوں کے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں سستی اور اچھی تعلیم سب کا حق ہے اور سب کو ملنا چاہئے حکومت فیس بڑھا کر یہ حق چھیننے کا کام کر رہی ہےمعاملہ صرف جے این یو کا نہیں ہے جے این یو کے طلبہ تو صرف اپنی بیداری کا ثبوت پیش کر رہے ہیں ان احتجاج کرنے والے طلبا میں زیادہ تعداد فائنل ایئر کے طلباء کی ہے جو ڈگری لے کر یونیورسٹی سے فارغ ہوجائیں گے یہ طلباء اس ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں ان طلباء پر پولیس کا لاٹھیاں دیکھ کر خاموش رہنا بے حسی کی علامت ہےحکومت کی دوغلی پالیسی بھی دیکھئیے پانچ ٹریلین ڈالر کے بات کرنے والی حکومت پانچ ہزار بچوں کو مفت تعلیم نہیں دے سکتی تین ہزار کروڑ کی مورتی خرید سکتی ہے لیکن مفت تعلیم نہیں دے سکتی داغدار نیتاؤں کے لئے دو سو کروڑ کے پرائیویٹ جیٹ خرید سکتی ہے لیکن تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی رکن اسمبلی اور رکن پارلیمان کو مفت ہوائی سفر دیں سکتی ہے لیکن ملک کا مستقبل سنوارنے والے طلباء کو مفت تعلیم نہیں دے سکتی سرمایہ کاروں کے اربوں روپے قرض معاف کر سکتی ہے لیکن مفت تعلیم نہیں دیں سکتی شہروں کے نام بدلنے میں کروڑوں خرچ کر سکتی ہے لیکن ملک کے ستون کو مضبوط کرنے کے لیے مفت تعلیم نہیں دے سکتیجو حکومت چاہے گی کیا وہی ہوگا؟ کیا حکومت جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کی طرح تعلیمی پالیسی تھوپنا چاہتی ہے؟ کیا حکومت فیس بڑھاکر طلباء کے حوصلے پست کرنا چاہتی ہے؟
حکومت یہ سب کرسکتی ہے کیونکہ یہ حکومت کے اختیارات میں ہے لیکن ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مِٹ جاتا ہےخون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا ساحر لدھیانوی کا شعر اس مناسبت سے درست ہے یہی وقت ہے بیدار ہونے کا اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کا اگر اب بھی نہیں جاگے تو ہماری نسلیں تعلیم سے محروم رہئں گی کیونکہ حکومت تعلیم کو دھندہ بنانے میں لگی ہوئی ہے.