جب جب دھرتی پر ظلم و ستم، جبر، تشدد و استبداد، ناانصافی وحق تلفی، سنگدلی وبےدردی کا بول بالا ہوا، بت پرستی ساری حدیں پار کر گئی، قمار بازی، جوا بازی، شراب نوشی، زنا کاری وبدکاری، لونڈے بازی واغلام بازی، عیاری ومکاری، عیاشی وکالا بازاری آسمان چھونے لگیں،
تب تب اللہ نے اپنی قدرت دکھائی، لوگوں کو آزمائش میں ڈالا کبھی بیماری کی شکل میں، کبھی بھکمری کی شکل میں،
آج پوری دنیا عالمی وبا کورونا وائرس کے چپیٹ میں ہے، کتنے لوگ لقمہ اجل بن چکے اور کتنے لوگ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، کوئی کسی کی مدد کے لیے سوچ بھی نہیں پا رہا ہے، اپنے آپ کو سپر پاور سمجھنے والی طاقت اس کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے، دنیا کی ساری ٹکنالوجی فیل ہو چکی ہے، میڈیکل سائنس ہار مان لی ہے، ڈاکٹرس اور حکماء، سائنسداں اور سیاستداں و حکمراں سب کے سب سر تسلیم خم کر بیٹھ چکے ہیں،
آج چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہاں ہیں وہ پیر و مرشد جو بلاء کو ٹالنے کی رٹ لگا رہے تھے، کہاں ہیں وہ مشکل کشا جو مشکلات دور کرنے کے دعوے دار تھے، کہاں ہیں مزاروں، درگاہوں میں میلے لگا کر رقص جائز ٹھہرانے والے، کہاں غائب ہو گئے مستقبل کی باتیں اور بھوشوانی کرنے والے، ناجائز اور حرام چیزیں مفید ثابت کرنے والے، کس جہاں چھپ گئے اللہ کے قہر و غضب اور عذاب کو چیلنج کرنے والے….
یہ کورونا وائرس کیا ہے بتاؤ……
یہی تو ہے اللہ کا قہر اور عذاب…. کیا ہوا…. ؟آپ بھول گئے چین کے مسلمانوں پر ظلم و ستم، آپ کو یاد نہیں…؟ امریکہ اور یورپ میں قانون الہی کی اہانت، آپ نے نہیں سنا… ایران میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع، کیا آپ ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد، الزام تراشی، اسلام اور اسلامی تعلیمات پر انگشت نمائی کو نظر انداز کر دیں گے، مسجدیں مندروں میں تبدیل کرنے کے واقعات بھول گئے،عورتوں اور معصوم بچیوں پر ہونے والے ناگفتہ بہ واقعات، آصفہ اور زینب پر ہونے والی زیادتی کو کس سنسان جگہ پر چھوڑ آئے… اسپین میں اللہ کا نام لینے والے پر پابندیاں پس پشت ڈال دیں گے، فلسطین، شام کے معصوم بچوں کی چیخیں سنائی نہیں دیں اور وہ معصوم بچی کو کیسے بھول گئے جو کہا تھا "اللہ سے تم لوگوں کی شکایت کروں گی”، عراق کے بے حجاب بچے کی گزارش میڈیا والوں سے میری تصویر نہ لیں میں بے حجاب ہوں، کیا اس بچی کی بھی پکار بھول گئے…جو بھوک اور پیاس سے لاچار ہو کر کہا تھا کہ… اے اللہ میری جان لے لے تاکہ میں جنت میں پیٹ بھر کھانا کھا سکوں….
آج ساری دنیا اللہ کے قہر و غضب، عذاب و آزمائش اور قدرت پہچان چکی ہیں، چین کے وزیراعظم کا مسجد کا دورہ، امریکہ کے صدر کا کلام اللہ کا سننا اور ڈاکٹرس کا اسلام کی تعلیمات پر اعتماد، یورپ اور مشرقی ممالک کی بے بسی، اسپین میں ساری پابندیاں ختم کر اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرنے کی اجازت دینا، معصوموں کے خون سے ہولی کھیلنے والے اور ستاّ کی روٹی سینکنے والے کا اللہ کی قدرت کا اعتراف اسی بات کا تو غماز ہے کہ…. لمن الملک الیوم……
کیا یہ قیامت نہیں کہ….. ایک بیٹا اپنے باپ سے کترا رہا ہے، بھائی بھائی سے دور بھاگ رہا ہے، گھر والے اپنی معصوم بچی کی تکلیف بے جان مورتی کی طرح دیکھ رہے ہیں، ایک باپ اہل خانہ سے ملنے کے لیے تڑپ رہے ہیں لیکن قریب نہیں آتے، ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے سے انکار کر رہی ہے، لوگ پاگلوں کی طرح بھوکے پیاسے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں، ایک باپ اپنے گھر کے باہر سے واپس لوٹ جاتے ہیں مگر روتے بلکتے بچوں کو گلے لگانے کی جرات نہیں کر پاتے…..
قارئین! یہ اللہ کی طرف سے ایک چھوٹی سی تنبیہ ہے کہ….. تم نے برائی کی ساری حدیں پار کرلی، خواب غفلت میں آ چکے، اللہ کو بھول گئے اور میرے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نافرمانی کرکے میرے غضب کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، ہوش کے ناخن لو، اور یاد رکھو کہ… قوم نوح کو نافرمانی کی وجہ سے طوفان کے حوالے کر دیا، جب قوم لوط نے میری جلالت کو للکارا تو ہم نے آسمانی اور زمینی عذاب کے نذر کر دیا، جب فرعون اور آل فرعون نے میری غیرت کو چنوتی دی تو ہم نے دریا کے بیچ دبوچ کر رہتی دنیا تک کے لیے عبرت بنا دیا…..
بہر حال! جب تدبیریں ناکام ہو جائیں، امیدیں ساتھ چھوڑ جائیں، ذرائع مسدود اور راستے بند ہو جائیں، زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہو جائے اور رنج و غم سے دم گھٹنے لگے تو….. اللہ کو پکارو…..
اے اللہ…..! حسرت کو خوشی، غم کو سرور اور خوف کو امن میں بدل دے، دل کی آگ کو یقین کی ٹھنڈک سے بجھا دے، نفس کے شعلوں کو ایمان کے پانی سے سرد کر دے، جاگتی آنکھوں کو نیند، مضطرب نفوس کو سکینت عطا فرما اور اس عالمی وبا سے ہم سب کو نجات دے……
آمین…… تقبل الله….
أللهم إني أعوذ بك من البرص والجنون والجذام و من سي الأسقام……
محمد مرسلين الہندی …..
7783023978
