سائنس دانوں کا عجیب جسم کا مشاہدہ … "خلائی مخلوق کی گاڑی” ہونے کا امکان

رواں ماہ کے آغاز میں ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی میں ایک عجیب و غریب "بین النجمی” (ستاروں کے درمیان سفر کرنے والا) جسم دیکھا، جو تیزی سے سورج کی طرف بڑھ رہا تھا۔

اسے 3I/ATLAS کا نام دیا گیا ہے اور اس کی لمبائی تقریباً 20 کلومیٹر ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر اربوں سالوں پر محیط سفر طے کر کے، کسی دوسرے ستارے سے ہمارے سورج کی سمت آیا ہے۔اب ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ممتاز نظریاتی طبیعیات دان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ایک "فیصلہ کن ثبوت” ہے کہ 3I/ATLAS دراصل کسی ذہین مخلوق کی خلائی گاڑی ہو سکتی ہے۔ یہ بات برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کی رپورٹ میں بتائی گئی۔

"یہ قدرتی نہیں ہو سکتا”
ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر آوی لوب کے مطابق، یہ بین النجمی جسم اتنا بڑا ہے کہ اس کا قدرتی ہونا تقریباً ناممکن لگتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو یہ ایک غیر معمولی طور پر بڑا اور ٹھوس جسم ہے، یا پھر ایک چھوٹا سا دم دار ستارہ ہے جو گیس اور گرد و غبار کے روشن غلاف میں گھرا ہوا ہے۔

اگر یہ دم دار ستارہ نہ ہو، تو پروفیسر لوب کے مطابق، اس کا اتنا بڑا حجم اس امکان کو بہت کم کر دیتا ہے کہ یہ فطری طور پر ہمارے سورج کی طرف آیا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ "یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کوئی قدرتی عمل ایسا ہو جو اتنی تیزی (60 کلومیٹر فی سیکنڈ) سے اس جسم کو نظامِ شمسی کے اندر دھکیل سکے۔”

ٹیکنالوجیکل ڈیزائن
لوب کا کہنا ہے کہ اس کا متبادل امکان یہ ہو سکتا ہے کہ یہ جسم کسی تکنیکی ڈیزائن کے ذریعے نظامِ شمسی کے اندرونی حصے کی طرف بھیجا گیا ہو۔

ماہرینِ فلکیات نے پہلی بار 3I/ATLAS کو یکم جولائی کو ناسا کے ایک ابتدائی وارننگ سسٹم (ASTEROID Terrestrial-impact Last Alert System) کے ذریعے دیکھا، جو زمین کے قریب موجود شہابیوں کی نگرانی کرتا ہے۔

اس کے مدار کی جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی بیضوی اور تیز رفتار مدار میں ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کا آغاز نظامِ شمسی سے باہر کہیں ہوا۔

یہ اب تک دریافت ہونے والا تیسرا بین النجمی جسم ہے۔ اس سے پہلے ’أومواموا‘ (2017) اور ’بوریسوف‘ (2019) دریافت ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ 3I/ATLAS کا آغاز کونسلٹیشن سیجیٹاریس (قوس) کے جانب سے ہوا، اور یہ اس وقت نظامِ شمسی کے اندرونی حصے کی طرف تقریباً 217,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق یہ جسم 30 اکتوبر کو سورج سے قریب ترین مقام پر پہنچے گا، جو کہ 21 کروڑ کلو میٹر کے فاصلے پر ہو گا … یعنی یہ مریخ کے مدار کے اندر سے گزرے گا۔

خوش قسمتی سے یہ زمین کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں بنے گا، کیونکہ یہ ہماری زمین سے قریب ترین مقام پر بھی 24 کروڑ کلو میٹر دور سے گزرے گا۔

چونکہ یہ جسم اب بھی زمین سے تقریباً 49 کروڑ کلو میٹر دور ہے، اس لیے ماہرین براہِ راست اس کا حجم ناپنے کے قابل نہیں۔ اس کے بجائے وہ اس سے خارج ہونے والی روشنی کی مقدار کی بنیاد پر، اور اس کی ممکنہ چمک یا انعکاس کی شرح سے اس کے حجم کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading