جنگجو بننے گیا نوجوان واپس لوٹ آیا

اترپردیش کے گریٹر نوئیڈا علاقہ سے لاپتہ ہوکر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والا شاردا یونیورسٹی کا طالب سری نگر میں اپنے گھر واپس آگیا ہے۔ مذکورہ طالب علم کی غمزدہ ماں ، بہنوں ، دل کے عارضے میں مبتلا والد اور دیگر رشتہ داروں نے ان سے گھر واپس آنے کی متعدد بار دردمندانہ اپیلیں کی تھیں۔سری نگر پولیس نے اتوار کی شام اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا ‘فیملی اور پولیس کی مدد سے ایک فرد (جس کا نام مخفی رکھا گیا ) کو مین اسٹریم میں واپس لایا گیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات جاری ہے ۔ گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کے والد نے کہا ‘میرا بیٹا گھر آگیا تھا۔ پولیس نے اسے حراست میں لیا ہے۔ میرا بیٹا بیمار ہوگیا ہے ۔ اس کے منہ سے خون آرہا تھا ۔ریاستی پولیس نے میڈیا سے اپیل کی کہ گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کا نام مخفی رکھا جائے۔ کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا ‘معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کا نام مخفی رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے ۔واضح رہے کہ نومبر کے اوائل میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک آڈیو اور ایک تصویر کے مطابق سری نگر کے اس نوجوان نے مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ جموں وکشمیر نامی جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔سری نگر کے پائین شہر کے علاقہ خانیار کے رہنے والے اس نوجوان کو متذکرہ تصویر میں سیاہ کپڑے اور فوجی جیکٹ پہنے دیکھا گیا تھا۔ آڈیو میں نوجوان کو اسلامک اسٹیٹ جموں وکشمیر میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔تصویر اور آڈیو کے وائرل ہونے کے ایک روز بعد مذکورہ نوجوان کے اہل خانہ نے ان سے واپس آنے کی دردمندانہ اپیل کی تھی ۔ نوجوان کی روتی بلکتی ماں نے کہا تھا ‘جن کے پاس بھی میرا بیٹا ہے، وہ اسے واپس بھیجیں۔ اللہ ان سب کی حفاظت کرے۔ میں تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہوں، وہ میرے بیٹے کو واپس بھیجیں۔ وہ ہمارا اکلوتا سہارا ہے۔ میں ذاکر موسیٰ سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میرے بیٹے کو واپس بھیجیں۔ اس کی تین بہنیں ہیں۔ اگر ہم مر گئے تو ہمارے جنازے کو کون کندھا دے گا ۔انہوں نے کہا تھا ‘۔۔۔۔! کیا آپ کو اپنی ماں کا خیال نہیں رہا۔ کیا تم نے نہیں سوچا کہ میری ماں کیا کرے گی۔ ۔۔۔۔۔ تمہارا والد دل کے عارضے میں مبتلا ہیں ۔ میں تمام تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میری مدد کریں۔ میں گیلانی صاحب، عمر صاحب اور یاسین صاحب سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میری مدد کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading