قانون ساز کونسل انتخابات میں مہاوکاس اگھاڑی متحد، امباداس دا نوے کو کانگریس کی بھرپور حمایت

قانون ساز کونسل انتخابات میں مہاوکاس اگھاڑی متحد، امباداس دانوے کو کانگریس کی بھرپور حمایت

آئندہ راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل انتخابات میں کانگریس کو ترجیحی نمائندگی دینے پر اتفاق

گاندھی بھون میں مہاوکاس اگھاڑی کی اہم میٹنگ، مشترکہ حکمت عملی طے

ممبئی: مہاراشٹر میں آئندہ راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل انتخابات کے پیش نظر مہاوکاس اگھاڑی کے اتحادی پارٹیوں کے درمیان اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں تمام پارٹیوں نے ایک متحدہ محاذ کے طور پر انتخابات لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کے امیدوار اور سابق قائد حزب اختلاف امباداس دانوے کو مہاوکاس اگھاڑی کا مشترکہ امیدوار تسلیم کرتے ہوئے کانگریس کی جانب سے انہیں مکمل حمایت دی جائے گی۔

ممبئی کے گاندھی بھون میں منعقدہ اس میٹنگ میں کانگریس، شیوسینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سرکردہ لیڈروں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، اسمبلی میں کانگریس لیڈر وجے ویڈیٹی وار، قانون ساز کونسل میں پارٹی لیڈر ستیج عرف بنٹی پاٹل، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی لیڈر سپریا سلے، شیوسینا کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر انیل پرب، انیل دیسائی، ملند نارویکر اور امیدوار امباداس دانوے موجود تھے۔ اس کے علاوہ ٹیلی فون کے ذریعے شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر کانگریس کے انچارج رمیش چینتھلا سے بھی مشاورت کی گئی۔

میٹنگ میں قانون ساز کونسل انتخابات کے ساتھ ساتھ آئندہ راجیہ سبھا انتخابات اور بی جے پی مہایوتی کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ 2019 میں بی جے پی کی جانب سے اختیار کی گئی مبینہ غیر جمہوری پالیسیوں، اقتدار کے استعمال اور اداروں کے غلط استعمال کے خلاف شیوسینا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور کانگریس نے مل کر مہاوکاس اگھاڑی قائم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد نے مشترکہ کم از کم پروگرام کے تحت آئین کے تحفظ، مہاراشٹر دھرم کے احترام اور ریاست کی ترقی پسند روایت کو برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی سماجی و سیاسی روایت شیواجی، شاہو، پھولے اور امبیڈکر کے نظریات پر قائم ہے، اور مہاوکاس اگھاڑی ان ترقی پسند اقدار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے آئین کی دسویں شیڈول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر آئینی طریقے سے اقتدار میں تبدیلی کی، جس کے نتیجے میں ریاست کی سیاست میں دولت اور طاقت کے استعمال کا رجحان بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں بھی وسائل اور انتظامیہ کے مبینہ غلط استعمال کے باوجود مہاوکاس اگھاڑی نے جمہوری اقدار کا احترام کرتے ہوئے نتائج کو قبول کیا۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف مختلف جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے ’انڈیا اتحاد‘ قائم کیا گیا ہے، جو آئین، جمہوریت اور سماجی انصاف کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں مہاوکاس اگھاڑی اور قومی سطح پر انڈیا اتحاد آئندہ 2029 کے انتخابات کی سمت میں مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز کونسل انتخابات کے پیش نظر شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے خود امیدوار بننے کے بجائے امباداس دانوے کو موقع دینے کا فیصلہ کیا، جو ان کی سیاسی سنجیدگی اور اجتماعی قیادت کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس نے اس فیصلے کو مہاوکاس اگھاڑی کے مشترکہ فیصلے کے طور پر قبول کرتے ہوئے مکمل حمایت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس عمل میں مزید بہتر تال میل پہلے سے قائم ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا، تاہم یہ کوئی تنازع نہیں بلکہ اتحاد کے اندر مکالمے کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو موقع دیا گیا تھا، جبکہ موجودہ قانون ساز کونسل انتخابات میں شیوسینا کو نمائندگی دی جا رہی ہے، اور آئندہ انتخابات میں کانگریس کو ترجیحی نمائندگی دینے پر تینوں پارٹیوں کے درمیان مثبت اتفاق رائے قائم ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کا فیصلہ کسی پسپائی کا نہیں بلکہ باہمی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی کے درمیان تال میل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل رابطہ ضروری ہے، اور آئندہ بلدیاتی، ریاستی اور قومی سطح کے انتخابات میں اتحاد مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی قومی سطح پر ان کا بنیادی سیاسی حریف ہے اور اس کی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، جبکہ ریاست میں مہایوتی کے اتحادی گروپوں کے خلاف بھی سیاسی مقابلہ برقرار رکھا جائے گا۔

MPCC Urdu News 30 April 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading