انڈیا یا میں حالیہ دنوں طلبہ کے احتجاج نے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف جامعات کے طلبہ نے حکومت کی بعض پالیسیوں، تعلیمی مسائل اور پولیس کارروائیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان احتجاجوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی متعدد تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں سادہ لباس میں ملبوس افراد کو خواتین طلبہ کے ساتھ زبردستی کرتے، انہیں گھسیٹتے اور گرفتار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان تصاویر نے انسانی حقوق، پولیس کے اختیارات اور احتجاج کے حق پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔
عینی شاہدین اور طلبہ تنظیموں کے مطابق احتجاج ابتدا میں پرامن تھا، تاہم بعد ازاں حالات کشیدہ ہو گئے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس کے ساتھ سادہ لباس میں موجود اہلکاروں نے خواتین طلبہ کو نشانہ بنایا، انہیں طاقت کے ذریعے منتشر کرنے کی کوشش کی اور متعدد طالبات کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔ کئی ویڈیوز میں خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور زبردستی گاڑیوں میں بٹھانے کے مناظر بھی سامنے آئے، جنہیں دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے دیکھا۔
ان واقعات کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور کئی سیاسی رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سادہ لباس میں کارروائی کرنے والے افراد سرکاری اہلکار تھے تو ان کی شناخت واضح ہونی چاہیے تھی، جبکہ خواتین کی گرفتاری کے دوران قانونی ضابطوں پر مکمل عمل درآمد بھی ضروری تھا۔ دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ احتجاج بعض مقامات پر پرتشدد ہو گیا تھا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے کارروائی ناگزیر تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل تصاویر نے اس معاملے کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا۔ کئی بین الاقوامی صحافتی اداروں اور انسانی حقوق کے حلقوں نے ان تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر تشویش ظاہر کی۔ انٹرنیٹ پر #StudentsProtest اور دیگر ہیش ٹیگز کے ذریعے لاکھوں افراد نے اپنی آراء کا اظہار کیا اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
طلبہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو اور گرفتار طلبہ کو قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔ دوسری جانب حکومت اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، تاہم اگر کسی اہلکار کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت ہوا تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لے آیا ہے کہ جمہوری معاشروں میں احتجاج کا حق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریاں اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھا جائے۔ اسی لیے یہ تصاویر صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اظہارِ رائے کی آزادی، انسانی حقوق اور قانون کے نفاذ کے طریقۂ کار پر ایک اہم بحث کا موضوع بن چکی ہیں۔
سادہ لباس اہلکار
جنتر منتر کی کئی ویڈیوز میں لاٹھیوں سے لیس سادہ لباس میں مبینہ پولیس افسران کو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں سے جب ان کے سادہ کپڑوں اور چہرے کو ڈھانپنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
اس سوال پر کہ آیا سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکار بھی لاٹھی چارج کر سکتے ہیں؟
بی بی سی نے اتر پردیش کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس او پی سنگھ سے بات کی۔
او پی سنگھ نے کہا کہ ’نہیں، ایسا نہیں ہے۔ سادہ لباس میں تعینات افراد کو پولیسنگ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ لاٹھی استعمال نہیں کر سکتے اور نہ ہی گولیاں چلا سکتے ہیں۔‘
لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب حالات اچانک تبدیل ہو جائیں تو سینئر پولیس افسر سادہ لباس میں موقع پر پہنچ سکتے ہیں۔ ان کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرتی ہے تاکہ اگر کوئی الزام سامنے آئے تو اس میں مدد مل سکے۔
پولیس اہلکاروں کو لاٹھی چارج کے حوالے سے دی جانے والی ہدایات کے بارے میں او پی سنگھ نے کہا کہ ’یہ نہیں بتایا جاتا کہ لاٹھی جسم کے کس حصے پر استعمال کرنی ہے، لیکن جو قانونی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے وہ کم سے کم طاقت کا استعمال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم کے ایسے حصے پر ضرب لگائی جائے جو کسی بھی صورت جان لیوا نہ ہو۔‘