جمو ںو کشمیر میں 5 اگست کے بعد سے انٹرنیٹ خدمات پوری طرح بند ہیں اور اتنے لمبے وقت تک انٹر نیٹ پر پابندی لگنے کے بعد ایک تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ ابھی تک کسی بھی ریاست یا ملک میں اتنے لمبے وقت تک انٹرنیٹ پر پابندی لگائے جانے کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ آج سپریم کورٹ نے اس تعلق سے داخل عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں انٹر نیٹ پر پوری طرح پابندی لگانا بہت سخت قدم ہے۔عدالت نے کہا کہ عوام کو اپنی اختلاف رائے رکھنے کا پورا حق ہے اور انٹر نیٹ رائے اظہار کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت سے غیر ضروری احکام واپس لینے کے لئے کہا ہے۔ واضح رہے کہ جمو ں و کشمیر میں ایس ایم ایس خدمات ابھی بحال ہوئی ہیں لیکن موبائل انٹرنیٹ خدمات اور گھروں میں براڈ بینڈ بند ہیں۔
Supreme Court while delivering verdict on petitions on situation in J&K after abrogation of Article 370: It is no doubt that freedom of speech is an essential tool in a democratic set up.Freedom of Internet access is a fundamental right under Article 19(1)(a) of free speech https://t.co/NcuCbeMxih
— ANI (@ANI) January 10, 2020
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’حکومت کو بھی کوئی احکام جاری کرنے سے پہلے توازن بنانا چاہئے۔ انٹرنیٹ پر پوری پابندی بہت سخت قدم ہے۔ عوام کو اپنی اختلاف رائے رکھنے کا پورا حق ہے۔‘‘ عدالت نے کہا کہ انٹر نیٹ پر پابندی صرف اسی وقت ہی لگ سکتی ہے جب سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوں۔ عدالت نے دفعہ 144 پر بھی کہا کہ اس کو نافذ کرتے وقت حکومت کو بہت گہرائی سے غور کرنا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ جتنے بھی احکام اس نے جاری کئے ہیں ان کو وہ شائع کرے۔
Ghulam Nabi Azad, Congress: Each individual in Jammu & Kashmir was waiting for this decision. SC has made it clear to GoI that govt should publish all the orders passed since Aug 5, 2019. Court has also said that any order on internet comes under judicial scrutiny pic.twitter.com/bBe2abFh6J
— ANI (@ANI) January 10, 2020
واضح رہے کہ انٹرنیٹ کے تعلق سے عدالت نے کہا ہے کہ اس پر پابندی ایک طے شدہ مدت کے لئے ہونی چاہئے جس کا بیچ بیچ میں جائزہ لیا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت اپنے تمام فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لے اور جو غیر ضروری احکامات ہیں ان کو واپس لے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ طبی سہولیات سے متعلق خدمات بالکل متاثر نہ ہوں اور کہا کہ آج کے دور میں انٹر نیٹ انسان کی زندگی کا بہت اہم حصہ ہے۔عدالت نے کہا کہ حکومت کا کوئی بھی حکم عدالت میں سماعت کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔
Advocate Sadan Farasat: The Court said that indefinite internet ban by the State is not permissible under our Constitution and it is an abuse of power. https://t.co/MqFvuZeKAO pic.twitter.com/3cV2YoqQSl
— ANI (@ANI) January 10, 2020
قابل غور ہے کہ عدالت میں انٹرنیٹ خدمات بند کرنےاور لوگوں کے نقل و حمل پر روک کے تعلق سے عرضی دائر کی گئی تھی جس پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے حکومت کے خلاف سخت تبصرہ تو کیا ہے، لیکن اس کو سب کچھ ٹھیک کرنے کے لئے وقت بھی دیا ہے۔یہ پابندیاں 5 اگست کو لگی تھیں جب مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ہٹاکر جمو ں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر دیا تھا اور ریاست کو تقسیم کر دیا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
