ممبئی:2 جون(ورق تازہ نیوز)ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے قدیم اور فعال تنظیم جمعیة علماءہند اور اس کے ذریعہ کیئے جانے والے کاموں پر بے بنیا د تنقید اورالزامات لگانے والے ایڈوکیٹ محمود پراچا کو جمعیة علماءمہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا اور بذریعہ نوٹس محمود پراچا سے فوراً معافی مانگنے اور جمعیة علماءاور اس کے اکابرین کی بے عزتی کرنے پر ۰۱ کروڑ روپئے ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔واضح رہے گذشتہ ہفتہ دہلی کے مشہور وکیل محمود پراچا نے دھاکڑ نیوز چینل کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جمعیة علماءاور دیگر تنظیموں پر الزاما ت عائد کیئے تھے کہ وہ دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی موثر طریقے سے پیروی نہیں کرتے بلکہ وہ ملزمین پر جرم قبول کرنے کا دباﺅ بھی ڈالتے ہیں نیز ملزمین کے دفاع میں مقرر کیئے گئے وکلاءقابل نہیں جس کی وجہ سے ملزمین کو نقصان ہورہا ہے۔ایڈوکیٹ محمود پراچا نے جمعیة علماءمحمود مدنی ، جماعت اسلامی اور ملی کام کرنے والی دیگر تنظیموں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان پر مالی خرد برد کا الزام بھی عائد کیا ہے ۔ایڈوکیٹ متین شیخ کے ذریعہ بھیجے گئے نوٹس میں گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیة علماءمہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے کبھی بھی ایڈوکیٹ محمود پراچا کی خدمات حاصل نہیں کی اور نہ ہی انہیں کسی بھی ملزم کا مقدمہ لڑنے کی ذمہ داری سونپی اور جہاں تک رہی بات مقدمات کے پیروی کے سلسلہ میں وکلاءکے انتخاب کی بات تو ابتک 200 مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری ہوچکے ہیں جو ان وکلاءکی صلاحیتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے نیز فی الحال ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت80سے زائد مقدمات میں ماخوز 700 ملزمین کے مقدمات کی ایماندارانہ پیروی کی جارہی ہے۔نوٹس میں درج کیا گیا ہیکہ ایڈوکیٹ محمود پراچا کے مطابق ملزمین کو جرم قبول کرنے کے لیئے جمعیة علماءدباﺅ بناتی ہے سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے کیونکہ جمعیة علماءایسے ملزمین کے مقدمات نہیں لڑتی جو کسی بھی دباﺅ میں جرم قبول کرتے ہیں جس کی مثال ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملہ ہے ۔ اس معاملے میں ملزمین نے جیسے ہی جرم قبول کرنے کا فیصلہ کیا ، جمعیة علما ءکے وکلاءنے وکالت نامہ عدالت سے واپس لے لیا تھا نیز جمعیة علماءکی جانب سے ملزمین سے قانونی امداد واپس لینے کا اخباری بیان بھی جاری کیا گیا تھا۔نوٹس میں مزید درج کیا گیا ہیکہ آپسی بھائی چارگی، مذہبی ہم آہنگی ، بے قصوروں اور لاچاروں کی مدد کرنے والی تنظیم جمعیةعلماءہند کے صدر مولانا سیدارشد مدنی کا نام لیکر ان پر بھی الزام تراشی ایڈوکیٹ محمود پراچا نے کی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے نیز محمود پراچا کا یہ کہنا کہ جمعیة علماءبین الاقوامی سازش کے تحت کام کرتی ہے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے جس پر محمود پراچا کو معافی مانگنا ہوگی۔آٹھ صفحات پر مشتمل نوٹس میں ایڈوکیٹ محمود پراچاسے مطالبہ کیا گیاہیکہ نوٹس ملنے کے سات دن کے اندر اگر انہوں نے عوام سے معافی نہیں مانگی تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور عدالت میں جمعیة علماءاور اس کے اکابرین کو بدنام کرنے کا مقدمہ درج کیاجائے گا۔ایڈوکیٹ محمود پراچا کو قانونی نوٹس بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی نے کہا کہ ایڈوکیٹ محمود پراچا کا انٹرویو یو ٹیوب اور واٹس اپ پر وائرل ہونے کے بعد سے خدام جمعیة علماءمیں شدید بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور انہوں نے جمعیة علما سے مطالبہ کیا کہ غلط بیانی اور الزام تراشی پر ایڈوکیٹ محمود پراچا کو قانونی نوٹس بھیجا جائے اور اس پر جمعیة علماءاور اس کے اکابرین کو بدنام کرنے کامقدمہ درج ہو۔ وکلاءسے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد بذریعہ ایڈوکیٹ متین شیخ ایڈوکیٹ محمود پراچا کو قانونی نوٹس بھیجا گیاہے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیة علماءکو بدنام کرنے کی سازش میں ملوث دھاکڑ نیوز چینل کےخلاف بھی قانونی چارہ جوئی کرنے کے لیئے ماہرین قانون سے صلاح و مشورہ کیا جارہ ہے کیونکہ دھاکڑ نیوز چینل نے جمعیةعلماءو دیگر ملی تنظیموں کی رائے جانے بغیر انٹرویو شائع کردیا جو پریس اصولوں کے منافی ہے۔