جلگاؤں (نامہ نگار ) شہر سے گذرنے والے نیشنل ہائی وے نمبر 6 کی تو سیع اور متوازی راستے تیار کرنے کے مطالبے پر ضلع کلکٹر دفتر کے سامنے "سمنتر راستے کروتی سمیتی کے بینر تلے زنجیری احتجاج جاری ہے ۔احتجاج کے دوسرے دن شہر سماجی تنظیموں نے شرکت کی ۔اور متوازی راستے تیار کرنے کا زودار مطالبہ کیا ۔احتجاج میں شدت لاتے ہوئے نیشنل ہائی وے کو ” آدم خور شاہراہ ” کا نام دیا گیا ۔عیاں ہو کہ پچھلے تین برسوں سے متوازی راستے کیلئے اہلیان جلگاؤں احتجاج کررہے ہیں لیکن اب تک سرکاری سطح پر کاروائی صفر ہے ۔مزید تفصیلات کے مطابق احتجاج میں شہر کی دو سماجی تنظیموں سائی موریہ گروپ اور یوا شکتی فاونڈیشن ” کے کارکنوں نے شرکت کی ۔صبح ساڑھے دس بجے سے شام تک زنجیری احتجاج کیا ۔احتجاج کی شروعات جائے احتجاج سے چند قدم کی دوری پر آکاش وانی چوک ہے جہاں سے نیشنل ہائی وے بھی گذرتا ہے ۔یہاں پر "آدم خور قومی شاہراہ ” نام کے دو تختے لگائیں گے ۔ وہی احتجاج کےاختتام پر ضلع کلکٹر کو مطالباتہ میمورنڈم دیا گیا ۔عیاں ہو کہ مرکز و ریاست میں بھاجپ کی حکومت ہے جلگاؤں شہر سمیت ضلع میں بھی بھاجپ ہی اقتدار پر براجمان ہے ۔ یہاں سے ایک ریاستی وزیر اور دو رکن پارلیمنٹ اور تین سے زائد رکن اسمبلی بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں ۔لیکن اس کے بعد بھی حکومت کی عدم توجہی کا شکار اہلیان جلگاﺅں اپنے مسائل کے حل کیلئے خود تگ و دور کرنے پر مجبور ہیں ۔
جلگاؤں شہر سے گذرنے والے نیشنل ہائی وے نمبر 6 پر روزآنہ کوئی نا کوئی سڑک حادثہ ہوتا ہے ۔ جس میں کسی کی جان چلی جاتی ہے تو کو ئی شدید طور پر زخمی ہوتا ہے ۔ان حادثات کے چلتے اور شہریوں کو سہولیت کیلئے متوازی راستے کرنا کا مطالبہ برسوں سے کیا جارہا ہے ۔لیکن ہر مرتبہ سرکاری آفیسران اور سیاسی لیڈران تیقن دلا کر عوام کو امید پر رکھتے ہیں ۔لیکن اس مرتبہ” سمنتر راستے کروتی سمیتی ” نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے 100دنوں تک ضلع کلکٹریٹ دفتر کے روبہ رو زنجیری احتجاج شروع کیا ہے ۔ یاد رہے کہ اس سال 10جنوری کو جلگاؤں کے اجنٹا چوپھلی پر زبردست راستہ روکو احتجاج کیا گیا تھا ۔اس کے بعد ماہ اپریل سے متوازی راستے کام شروع کئے جانے تیقن دیا گیا تھا ۔لیکن مہنیوں گذر گئے نا ڈی پی آر منظور کیا گیا نا متوازی راستے کا کیلئے ٹینڈر نکال کر کام شروع کیا گیا ۔اسی مطالبے پر احتجاج جاری ہے ۔۔اس ضمن میں سمیتی کے رکن ڈاکٹر رادھے شیام چودھری نے بتایا کہ "یہ احتجاج دس دس دن کے طریقے سے دس مرحلوں میں مکمل ہونگا ۔احتجاج کے پہلے دن عوام سے کثیر تعداد میں شرکت کی گذارش کی گئی تھی ۔شہری اپنا ایک گھنٹے وقت نکال کر احتجاج میں شامل ہورہے ہیں ۔ڈاکٹر چودھری نے بتایا کہ” پولیس رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال میں 307 حادثات ہوئے ہیں جن میں 175افراد کو انپی جان گنوانی پڑی ۔” یہ احتجاج تب تک چلتا رہے گا جب ڈی پی آر کو منظوری نہیں ملتی اور کام کا ٹینڈر نا نکال جائے تب تک احتجاج جاری ہی رہے گا ۔شام پانچ بجے دھرنا احتجاج ختم ہونے کے بعد ضلع کلکٹر کو میمورنڈم دیا گیا ۔ عیاں ہو کہ روزآنہ احتجاج کے اختتام پر ضلع کلکٹر کو وفد کی شکل میں میمورنڈم دیا جائےگا ۔