تھرٹی فرسٹ اور مسلمان

آصف پلاسٹک والا۔ ممبئی۔موبائل: 9323793996

محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ۔ اسلامی سال کاآغاز محرم ہی سے ہوتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو انگریزی اسکول میں پڑھاتے ہیں تو عیسائی مذہب کے مطابق اور کلینڈ

ر ہمیں جنوری نیا سال کا اشارہ دیتا ہے۔ عام طور پر نئے سال کی آمد پر خوشیاں منائی جاتی ہےں۔ بہت دھوم دھڑاکا ہوتا ہے۔ شراب نوشی ، فحاشی ، عیاشی اور بے حیائی سے بری محفلیں سجتی ہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس جشن میں شامل ہوتی ہے۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے ۔ حالانکہ نیا سال سب سے پہلے یہ پیغام دیتا ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک سال کم ہوگیا۔ جو مہلت ملی تھی اس میں ایک سال کی مدت کم ہوگئی۔ کم از کم اب تو ہوشیار ہوجاﺅ اور جو مدت باقی رہ گئی ہے اس کی حفاظت کرو۔

کون جانے کہ آنے والا یعنی نیا سال دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں۔ کون جانے کب اور کس حال میں موت آئے گی۔ اخبارات میں ہم پڑھتے رہتے ہیں کہ لوگ ہر روز کس کس طرح سے دنیا سے جارہے ہیں۔ سوتے سوتے ہی جاسکتے ہیں۔ سڑک پار کرتے ہوئے، حادثے کا شکار ہوکر بھی جاسکتے ہیں۔ ریل یا بس میں سفر کے دوران بھی اچانک بلاوا آسکتا ہے۔ کتنوں کی موت تو ایسی آئی کہ ان کو یہ نہیں معلوم کہ کیوں مر گیا۔ غرض موت کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کہ کس حال میں موت کو گلے لگانا پڑے گا۔

مسلمانوں سے گزارش ہے کہ میوزیکل ، تفریحی، ثقافتی، ڈھابوں، کھنڈالا ، گوا تفریح گاہوں پر موج مستی کرنے جانے سے پرہیز کریں معاشرے میں مذکورہ موج مستی حرام قرار دی گئی ہے۔ خدا کا شکر ادا کرےں کہ ہماری زندگی بنی رہی اور ہمارے لےے ایک بار پھر ایک اور نیا سال آگیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ذی الحج ۰۴۴۱ھ سال جسے اب ہم پرانا کہہ رہے ہےں ابھی ابھی شروع ہوا تھا اور ختم بھی ہوگیا۔ اس سال آپ نے زندگی میں کیا کیا یعنی مجموعی طور پر نیکیاں زیادہ رہیں یا خدانخواستہ برائیوں کا پلڑا بھاری رہا اس لےے موقع ملا ہے اپنی بھلائی کے لےے انسانیت کی بھلائی کے لیے اچھے کام نیک کام کرنے کے بارے میں سوچئے اگر آپ محض سوچتے رہے تو ہوسکتا ہے کہ سوچنے سوچنے میں ذی الحجہ۱۴۴۱ھ بھی گزر جائے۔ نیا سال تھرٹی فرسٹ منانے کی اگر تیاری کر رکھی ہے اتنی سی فکر خود اپنے بارے میں کرےں اور توبہ کرکے نیک عمل اختیار کریں تو زندگی بھی بنے گی آخرت بھی ۔ ورنہ ایک حدیث کا مطلب ہے ،اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص جس قوم کی روش اپنائے گا اس کا انجام انہی میں ہوگا ،یعنی دنیا میں تو ہمیں سب مسلمان کی حیثیت سے جانیں لیکن آخرت میں اللہ کے کھاتے میں ہمارا نام یہود ونصاریٰ اور کفار و مشرکین کی لسٹ میں ہو یہ کتنی بڑی ناکامی ہوگی ذرا اس کا تصور کیجیئے اس ناکامی کا انجام تو خیر سے ہم جانتے ہی ہیں کہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلنا اور دیگر وحشتناک عذاب کا صرف سوچ کر ہی دل ڈرتا ہے پھر کیوں نہیں ہم دنیا کی زندگی آخرت کی کھیتی بنانے میں ایک دوسرے سے بازی مارنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ”اے ایمان والو یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست مت بناﺅ“ لیکن ہم ان کو دوست بناکر ان کی تہذیبوں کو اپنا کر کیا اللہ کے غضب کو دعوت نہیں دے رہے ہیں ؟ ذرا رک کر سوچیئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading