تھانے (آفتاب شیخ) تھانے شہر میں نوجوانوں کی جانب سے “کاکروچ موومنٹ” کے عنوان سے ایک منفرد احتجاجی تحریک چلائی گئی جس میں بے روزگاری، پیپر لیک، مہنگائی، عصمت دری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔ ماسوندا تالاب کے کنارے منعقدہ اس احتجاج میں نوجوان سڑکوں پر اتر آئے اور ریپ گانوں، فلیش موب اور علامتی انداز میں میلوڈی چاکلیٹس تقسیم کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے کردار میں ملبوس نوجوان خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
اس احتجاج میں سابق وزیر ڈاکٹر جتیندر اوہاڈ، راشٹروادی کانگریس پارٹی شردپوار گروپ کے تھانے شہر صدر منوج پردھان، کارپوریٹر ابھیجیت پوار اور راجیش کدم سمیت متعدد عہدیداران اور کارکن شریک ہوئے۔ مظاہرین نے “پیپر لیک کی یہ سرکار، نہیں چاہیے اب کی بار”، “پڑھے لکھے ہیں بے روزگار”، “امتحان کاروبار نہیں” اور “انقلاب زندہ باد” جیسے نعرے بلند کیے۔ نوجوانوں نے کاکروچ پارٹی کے نام سے تیار کردہ ریپ گانے پر فلیش موب بھی پیش کیا۔
احتجاج کے دوران مودی اور میلونی کے لباس میں ملبوس نوجوانوں نے حاضرین میں میلوڈی چاکلیٹس تقسیم کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت میلوڈی نہیں بلکہ بے روزگاری کو فروغ دے رہی ہے۔ نوجوانوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں تعلیم یافتہ طبقہ روزگار سے محروم ہے اور پیپر لیک جیسے معاملات نے طلبہ کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے نوجوانوں کو “کاکروچ” کہنے کے بعد سوشل میڈیا پر “کاکروچ جنتا پارٹی” وجود میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں اور انہیں حقیر الفاظ سے پکارنا ناقابل قبول ہے۔ اوہاڈ نے کہا کہ آج اس تحریک کے کروڑوں حامی موجود ہیں اور یہ نوجوانوں کے غصے کی علامت بن چکی ہے۔
منوج پردھان نے کہا کہ “کاکروچ جنتا پارٹی” دراصل حکومت کے خلاف عوامی غصے کا اظہار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کرنے والے نوجوان کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں بلکہ عام شہری ہیں، جنہوں نے اپنی آواز بلند کرنے کے لیے مدد طلب کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کیے جا سکتے ہیں لیکن نوجوانوں کے ذہنوں میں بڑھتے غصے کو دبایا نہیں جا سکتا۔
ابھیجیت پوار نے کہا کہ نوجوان جب قانونی طریقے سے احتجاج کرتے ہیں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، جبکہ عصمت دری اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل پر حکومت خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اگر انہیں مسلسل نظر انداز کیا گیا تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
اس احتجاج میں کارپوریٹر یاسین قریشی، سدھیر بھگت، شاکر شیخ، منیشا بھگت سمیت دیگر کارکنان اور شہریوں نے بھی شرکت کی۔